فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 96
sulemansubhani نے Sunday، 17 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الۡعَظِيۡمِ ۞
ترجمہ:
پس آپ اپنے رب ِ عظیم کے اسم کی تسبیح کرتے رہیے ؏
اللہ تعالیٰ کے اسم کی تسبیح کی توجیہات
الواقعہ : ٦٩ میں فرمایا : پس آپ اپنے ربِ عظیم کے اسم کی تسبیح کرتے رہیے۔
یعنی کفار اور مشرکین اللہ تعالیٰ کی طرف جن عیوب اور قبائح کی نسبت کرتے ہیں آپ اللہ تعالیٰ کے اسم سے ان کی برات بیانکیجئے ‘ حضرت عقبہ بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب ” فسبح باسم ربک العظیم “۔ (الواقعہ : ٦٩) نازل ہوئی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرماے : اس کو تم اپنے رکوع میں رکھ لو اور جب ” سبح اسم ربک الاعلی۔ (الاعلی : ١) نازل ہوئی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرماے : اس کو اپنے سجدہ میں رکھ لو۔ (سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٩٦٨ )
تسبیح کا معنی ہے : جو چیز اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہیں ہے ‘ اس سے اللہ تعالیٰ کی برات بیان کرنا ‘ اب یہاں پر یہ سوال ہے کہ مقصود تو یہ ہے کہ عیوب اور قبائح سے اللہ تعالیٰ کی ذات کی برات بیان کی جائے اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے اسم کی عیوب سے برات بیان کرنے کا حکم فرمایا ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح اللہ کی ذات کی عیوب سے برات بیان کرنا مقصود ہے ‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے اسم کی بھی عیوب اور قبائح سے برات بیان کرنا مطلوب ہے ‘ کیونکہ مشرکین اپنے باطل خداؤں پر اللہ تعالٰ کے اسماء وصفات کا اطلاق کرنے تھے ‘ مثلاََ وہ بتوں کو نافع اور ضار (ضررپہنجانے والا) کہتے تھے اور بتوں کے نام کی دہائی دیتے تھے اور ان کو رازق اور مدبر مانتے تھے تو آپ اللہ تعالیٰ کے ان اسماء کی تنزیہ بیان کیجئے کہ اللہ تعالیٰ ہی نفع اور نقصان پہنچانے پر قادر ہے اور بتوں میں کسی کو نفع اور نقصان پہنجانے کی قدرت نہیں ہے ‘ وہ کسی کی فریاد سن سکتے ہیں نہ کسی کی مدد کرسکتے ہیں نہ کسی کو دیکھ سکتے ہیں ‘ نہ عبادت کرانے کا استحقاق رکھتے ہیں ‘ لہذا آپ اللہ تعالیٰ کے ان اسماء وصفات میں بتوں کی شرکت کی نفی کیجئے اور بتوں کی شرکت سے اللہ تعالیٰ کے ان اسماء وصفات کی برات بیان کیجئے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ جو شخص کسی کے نزدیک عظیم ہوتا ہے وہ اس کے نام کی بھی تعظیم کرتا ہے اور اس کے نام کو تعظیم سے لیتا ہے اور اس کے نام کو قبیح صفات سے بری کرتا ہے۔
اور تیسری وجہ یہ ہے کہ وہ اس کے نام کو عزت والی جگہ میں لیتا ہے اور مبتذل جگہ اور متذل حال میں اس کا نام نہیں لیتا ‘ اس لیے ہم کہتے ہیں کہ بیت الخلائ ( واش روم) اور حمام (باتھ روم) میں اللہ تعالیٰ کا نام نہ لے ‘ اسی طرح قضاء حاجت اور جماع کے وقت اللہ کا نام نہ لے ‘ اسی طرح کسی معصیت اور گناہ کا کام کرتے وقت اللہ کا نام نہ لے ‘ اور صرف پاک جگہ اور نیک کام کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لے۔
رکوع میں ” سبحان ربی العظیم “ اور سجدہ میں ” سبحان ربی الاعلی “ پڑھنے کی توجیہ
اب اگر یہ سوال کیا جائے کہ ’ ’ سبحان ربی العظیم “ کو رکوع میں پڑھنے کا حکم دیا ہے اور ” سبحان ربی الاعلی “ کو سجدہ میں پڑھنے کا حکم دیا ہے ‘ اس کی کیا وجہ ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ” سبحان ربی العظیم “ میں ” سبحان ربی الاعلی “ کی نسبت زیادہ تنزیہ ہے کیونکہ ” فسبح باسم ربک العظیم۔ (الواقعہ : ٦٩) کا معنی یہ ہے کہ آپکے رب کا اسم فی نفسہ عظیم ہے اور ” سبح اسم ربک الاعلی۔ (الاعلی : ١) کا معنی ہے کہ آپ کے رب کا زیادہ اعظم اور اعلیٰ ہے ‘ اس لیے اس میں اللہ تعالیٰ کے اسم کی زیادہ تنزیہ اور تسبیح مطلوب ہے اور رکوع کی بہ نسبت سجدہ میں بندہ کا اللہ سے زیادہ قرب ہوتا ہے ‘ اس لیے سجدہ میں ” سبحان ربی الاعلی “ کہنے کا حکم فرمایا اور رکوع میں ” سبحان ربی العظیم “ کہنے کا حکم فرمایا اور سجدہ میں اللہ تعالیٰ کے زیادہ قرب کی دلیل یہ حدیث ہے :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدہ کر رہا ہو پس تم ( سجدہ میں) بہت زیادہ دعا کیا کرو۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٤‘ سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٥٧٨‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٧٣٨)
اس حدیث کی تائید میں قرآن مجید کی یہ آیت ہے : واسجد واقترب۔ (العلق : ٩١) اور سجدہ کر اور ( ہم سے) قریب ہوجا۔
نیز عبادت سے مقصود اللہ کے سامنے تذلل اور عجز و انکسار کا اظہار ہے اور غایت تذلل اور انتہائی عجزوانکسار سجدہ میں ہوتا ہے ‘ قیام میں بندہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوتا ہے ‘ رکوع میں اس کے سامنے جھک جاتا ہے اور سجدہ میں اس کے سامنے اپنی پیشانی کو زمین پر رکھ دیتا ہے اور جو جگہ پیروں تلے آتی ہے ‘ وہاں اپنا سر رکھ دیتا ہے ‘ سو اسی رکن میں اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ قرب ہے ‘ سو اسی رکن میں اللہ تعالیٰ کے اسم کی سب سے زیادہ تنزیہ ‘ تقدیس اور تسبیح لائق ہے تو اسی میں کہنا چاہیے :” سبحان ربی الاعلی “۔
سورہ الوقعہ کا اختتام
الحمدللہ رب العٰلمین ! آج مورخہ ٠٢ شوال ٥٢٤١ ھ؍٣ دسمبر ٤٠٠٢ ء بروز جمعہ بعد از نماز مغرب سورة الواقعہ کی تفسیر مکمل ہوگئی۔ ٥ نومبر ٤٠٠٢ ء کو سورة الواقعہ کی تفسیر شروع کی تھی ‘ اس طرح اٹھائیس دنوں میں یہ تفسیر مکمل ہوگئی ‘ نومبر کے مہینہ میں معمول سے کم کام ہوا ‘ کو لیسٹرول بڑھا رہاجس کی وجہ سے کمر میں درد بہت زیادہ رہا اور چونکہ لکھنے کا کام بیٹھ کر کیا جاتا ہے اور جب کمر میں درد ہو تو بیٹھنا مشکل ہوجاتا ہے ‘ اس لیے لکھنے کا کام متاثر ہوا۔
القرآن – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 96