أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هُوَ الۡاَوَّلُ وَالۡاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالۡبَاطِنُ‌ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

وہی اوّل اور آخر ہے اور ظاہر اور باطن ہے اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے.

 

اللہ تعالیٰ کے اوّل ‘ آخر ‘ ظاہر اور باطن ہونے کے معنی اور محامل

الحدید : ٣ میں فرمایا : وہی اوّل اور آخر ہے اور ظاہر اور باطن ہے اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

حکماء نے تقدّم کی حسب ذیل اقسام بیان کی ہیں :

(١) تقدّم بالتاثیر ‘ اس میں مقدم کی مؤخر میں تاثیر ہوتی ہیں لیکن مقدم مؤخر کے لیے علت تامہ نہیں ہوتا ‘ جیسے قلم کی حرکت پر ہاتھ کی حرکت مقدم ہے۔

(٢) تقدّم طبعی ‘ اس میں مقدم کی مؤخر میں تاثیر نہیں ہوتی ‘ جیسے ایک کا تقدم دو پر۔

(٣) تقدّم بالشرف ہے ‘ جیسے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تقدّم تمام انبیاء پر یا حضرت ابوبکر کا تقدّم تمام صحابہ پر۔

(٤) تقدّم بالترتیب ‘ جیسے نماز میں امام کا تقدّم پہلے صف پر اور پہلی صف کی تقدّیم دوسری صف پر وعلیٰ حٰذا القیاس۔

(٥) تقدّم بالزمان ‘ یعنی متقدّم پہلے زمانہ میں ہو اور متاخر اس کے بعد کے زمانہ میں ہو ‘ جیسے طوفانِ نوح ہم پر مقدم ہے۔

(٦) زمانہ کے بعض اجزاء کا بعض پر تقدّم جیسے پہلی صدی ہجری دوسری صدی ہجری پر مقدم ہے اور دوسری تیسری پر وعلیٰ ھٰذا القیاس۔

اور اللہ تعالیٰ تمام کائنات کے لیے محتاج الیہ ہے اور تمام کائنات اس کی محتاج ہے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ سب سے اوّل ہے اور سب مخلوق اس کے بعد ہے۔

اللہ تعالیٰ آخر ہے کیونکہ قیامت میں اللہ تعالیٰ ساری کائنات کو فنا کر دے گا ‘ سب چیزیں فنا ہوجائیں گی اور اللہ تعالیٰ سب چیزوں کے بعد باقی رہے گا ‘ اس لیے وہ آخر ہے ‘ اس کے بعد وہ سب چیزوں کو دوبارہ موجود کر دے گا اور ان کو ہمیشہ باقی رکھے گا

اور اللہ ظاہر ہے یعنی اللہ تعالیٰ دلائل کے اعتبار سے سب پر ظاہر ہے اور اللہ تعالیٰ باطن ہے ‘ یعنی انسان کے حواس سے باطن ہے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کے اوّل ’ آخر ‘ اور باطن ہونے کی یہ تفسیر فرمائی ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! تواوّل ہے ‘ تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں ہے اور تو آخر ہے ‘ تیرے بعد کوئی چیز نہیں ہے اور تو ظاہر ہے تیرے اور پر کوئی چیز نہیں ہے اور تو باطن ہے تیرے سوا کوئی چیز نہیں ہے ‘ پس تو ہمارا قرض ادا کر دے اور ہم کو فقر سے بےپردا کر دے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣١٧٢‘ سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ١٥٠١‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٠٠٤٣‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٧٨٣‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٧٣٥٥ )

علامہ محمد بن خلیفہ الوشتانی الابی المالکی المتوفی ٨٢٨ ھ لکھتے ہیں :

علامہ خطابی نے فرماے : احسن قول یہ ہے کہ ” الاوّل “ سے مراد یہ ہے : جس کی ابتداء نہ ہو اور ” الاٰخر “ سے مراد یہ ہے کہ جس کی انتہاء نہ ہو اور ” الظاھر “ سے مراد ہے : جو بلاحجاب ہو اور ” الباطن “ سے مراد ہے : جو بلا اقتراب ہو ( جو مستور ہو) ‘ دوسرا قول یہ ہے : ” الاوّل “ سے مراد ہے : ابتداء اور آخر سے مراد ہے : انباء (خبر دینا) ‘ ظاہر سے مراد ہے : وہ دلائل سے ظاہر ہے اور باطن سے مراد ہے : وہ ادراکات سے باطن ہے ‘ تیسرا قول یہ ہے کہ اوّل سے مراد ہے : وہ قدیم ہے ‘ آخر سے مراد ہے : وہ باقی ہے ‘ ظاہر سے مراد ہے : وہ غالب ہے اور باطن سے مراد ہے : وہ مخلوق کے لیے لطیف اور رفیق ہے۔ (اکمال اکمال المعلم ج ٩ ص ٨١١‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ٥١٤١ )

علامہ یحییٰ بن شرف نودی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں :

” الظاہر “ اللہ تعالیٰ کے اسماء سے ہے ‘ اس کا معنی ہے : وہ غالب ہے اور اس کی قدرت کامل ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ وہ دلائل قطعیہ کے اعتبار سے ظاہر ہے اور باطن کو معنی ہے : وہ اپنے مخلوق سے مستور ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ وہ پوشیدہ چیزوں کا عالم ہے۔

علامہ اببکر بن الباقلانی نے کہا :” الاٰخر “ کا معنی ہے : وہ اپنے علم اور اپنی قدرت اور اپنی دیگر صفاتِ ازلیہ کھ ساتھ باقی ہے اور دوزخ بھی بالکیہ فنا ہوجائیں گی اور انہوں نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کے فنا ہونے کے بعد باقی رہے گا اور یہ اہل حق کے مذہب کے خلاف ہے ‘ اہل حق یہ کہتے ہیں کہ تمام اجسام کے فنا ہونے سے ان کا عدم مراد نہیں ہے۔ (شرح مسلم للنوودی مع مسلم ج ١١ ص ٣١٨٦‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ ‘ مکہ مکرمہ ‘ ٧١٤١ ھ)

اوّل ’ آخر ‘ ظاہر ‘ باطن کے معنی اور محامل میں ایک اور تقریر یہ ہے :

اللہ تعالیٰ کے اوّل ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ قدیم بلا ابتداء ہے اور اس کے آخر ہونے کا معنی یہ ہے کہ اس کی کوئی انتہاء نہیں ہے اور وہ مخلوق کے فنا ہونے کے بعد باقی رہے گا اور اس کے ظاہر ہونے کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی چیز ظاہر نہیں ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے وجود پر بہت ظاہر آیات دلالت کرتی ہیں اور اس کو معنی قاہر ‘ غالب اور کامل القعرۃ بھی ہے اور باطن کا معنی یہ ہے کہ وہ مخلوق کے حواس اور ان کے ادراکات سے چھپا ہوا ہے۔

نیز فرمایا : اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے ‘ اس کو ان سب چیزوں کا علم ہے جو ہوچکی ہیں اور جو ہونے والی ہیں ‘ اور اس کا علم غیر متناہی بالفعل ہے اور اس کے علم کی وسعت کا اندازہ کرنا انسان کی عقل سے باہر ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 57 الحديد آیت نمبر 3