اٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَاَنۡفِقُوۡا مِمَّا جَعَلَـكُمۡ مُّسۡتَخۡلَفِيۡنَ فِيۡهِؕ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَاَنۡفَقُوۡا لَهُمۡ اَجۡرٌ كَبِيۡرٌ سورۃ نمبر 57 الحديد آیت نمبر 7
sulemansubhani نے Monday، 18 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَاَنۡفِقُوۡا مِمَّا جَعَلَـكُمۡ مُّسۡتَخۡلَفِيۡنَ فِيۡهِؕ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَاَنۡفَقُوۡا لَهُمۡ اَجۡرٌ كَبِيۡرٌ ۞
ترجمہ:
اللہ پر ایمان لاؤاور اس کے رسول پر ‘ اور اس مال میں سے خرچ کرو جس میں اللہ نے تمہیں پہلوں کا جانشین بنادیا ہے ‘ پس تم میں سے جو لوگ ایمان لائیں اور خیرات کریں ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ پر ایمان لاؤاور اس کے رسول پر ‘ اور اس مال میں سے خرچ کرو جس میں اللہ نے تمہیں پہلوں کا جانشین بنادیا ہے ‘ پس تم میں سے جو لوگ ایمان لائیں اور خیرات کریں ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ (یہ) رسول تمہیں دعوت دے رہے ہیں کہ تم اپنے رب پر ایمان لاؤ اور بیشک اللہ تم سے پکا عہد لے چکا ہے اگر تم مومن ہو۔ وہی ہے جو اپنے (مکرم) بندے پر واضح آیات نازل فرماتا ہے تاکہ تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف لائے ‘ بیشک اللہ تم پر بہت شفقت کرنے والا ‘ بےحد مہربان ہے۔ (الحدید : ٩۔ ٧)
اللہ کی راہ میں جو مال خرچ کیا جاتا ہے وہ اللہ ہی کا دیا ہوا ہے
الحدید : ٧ میں فرمایا : اللہ پر ایمان لاؤاور اس کے رسول پر ‘ اور اس مال میں سے خرچ کرو جس میں اللہ نے تمہیں پہلوں کا جانشین بنادیا ہے۔
یعنی تم اس کی تصدیق کرو کہ اللہ تعالیٰ تمام جہان کا خالق ‘ مالک اور واحد مستحق عبادت ہے اور سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ہیں اور وہ جو اللہ کا پیغام لے کر آئے ہیں وہ برحق ہے اور بتوں کی عبادت کرنا اور ان کو مدد کے لیے پکارنا اور ان کے نام کی دہائی دینا جائز نہیں ہے۔
اور اس آیت میں اللہ کی راہ میں جس مال کو خرچ کرنے کا حکم دیا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد زکوٰۃ ہے ‘ اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد اللہ کی راہ میں اور اس کی عبادات میں خرچ کرنا مراد ہے اور اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بندے کے لیے اپنے مال کو صرف اس جگہ خرچ کرنا جائز ہے ‘ جس جگہ مال خرچ کرنے سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے ‘ پھر اللہ تعالیٰ اس کو ثواب میں جنت عطا فرمائے گا ‘ جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے میں مال کو خرچ کیا اور اس پر مال کو خرچ کرنا اس طرح آسان اور خوشگوار ہوا جس طرح وہ اپنی ضروریات پر خرچ کرتا ہے تو اس کو اللہ تعالیٰ اجر عظیم عطا فرمائے گا۔
اور اس آیت میں فرمایا ہے : اس مال میں سے خرچ کرو جس میں اللہ نے تمہیں پہلوں کو جانشین جنا دیا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ تمہارے پاس جو اموال ہیں وہ حقیقت میں تمہارے نہیں ہیں اور ان اموال میں تمہاری حیثیت ایسی ہی ہے جیسے کسی نائب اور وکیل کی ہوتی ہے ‘ سو تم اس مہلت اور فرصت کو غنیمت جانو اور اس سے پہلے کہ وہ مال تمہارے ہاتھ سے نکل جائے تم اس مال کو ان مصارف میں خرچ کردو جن مصارف میں مال خرچ کرنے سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 57 الحديد آیت نمبر 7