أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا لَـكُمۡ لَا تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ‌ۚ وَالرَّسُوۡلُ يَدۡعُوۡكُمۡ لِتُؤۡمِنُوۡا بِرَبِّكُمۡ وَقَدۡ اَخَذَ مِيۡثَاقَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ (یہ) رسول تمہیں دعوت دے رہے ہیں کہ تم اپنے رب پر ایمان لاؤ اور بیشک اللہ تم سے پکا عہد لے چکا ہے اگر تم مومن ہو

 

میثاق کے محامل

الحدید : ٨ میں فرمایا : اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ (یہ) رسول تمہیں دعوت دے رہے ہیں کہ تم اپنے رب پر ایمان لاؤ۔

یعنی ایمان نہ لانے کے تمام حیلے اور بہانے زائل کیے جا چکے ہیں : اللہ تعالیٰ نے تمہیں عقل اور شعور عطا کیا ہے ‘ اور اس خارجی کائنات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی الوہیت ‘ تخلیق اور توحید پر بیشمار دلائل قائم کئے ہیں اور خود تمہارے نفسوں میں بھی اس کی ذات اور صفات پر بہت نشانیاں ہیں ‘ پھر ان دلائل اور نشانیوں پر ہمارے رسول تمہیں متوجہ اور متنبہ کر رہے ہیں ‘ سو تم پر حجت تمام ہوچکی ہے اور ایمان نہ لانے کے لیے اب تمہارا کوئی عذر باقی نہیں ہے۔

پھر فرمایا : اور بیشک اللہ تم سے پکاعہد لے چکا ہے ‘ اگر تم مومن ہو۔

اس میثاق اور پکے عہد کی دو تفسیریں ہیں :

(١) عطائ ‘ مجاہد اور کلبی نے کہا : اس میثاق سے مراد وہ میثاق ہے جب اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کی روحوں کو حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکالا تھا اور فرمایا :

الست بربکم ط قالوابلی ج۔ (الاعراف : ٢٧١) کیا میں تمہارا رب نہیں ہو ؟ سب نے کہا : کیوں نہیں !

امام رازی نے اس قول پر یہ اعراض کیا ہے کہ اس میثاق کے بعد لوگوں کے لیے یہ عذر ہوسکتا تھا کہ ہم اس میثاق کو بھول چکے تھے ‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کو بھیج کر دوبارہ ان کو یاد دہانی کرائی۔

(٢) دوسرا قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی عقلوں میں یہ صلاحیت رکھی ہے کہ وہ کائنات میں اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی توحید پر بکھری ہوئی نشانیوں کو دیکھ کر صاحب نشان تک پہنچ سکیں۔

(٣) انبیاء (علیہم السلام) اور ہر دور میں علماء مبلغین نے لوگوں کو پیغام حق سنا یا ‘ اس میثاق سے یہی پیغام مراد ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 57 الحديد آیت نمبر 8