أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ يَاۡنِ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخۡشَعَ قُلُوۡبُهُمۡ لِذِكۡرِ اللّٰهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الۡحَـقِّۙ وَلَا يَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلُ فَطَالَ عَلَيۡهِمُ الۡاَمَدُ فَقَسَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ‌ؕ وَكَثِيۡرٌ مِّنۡهُمۡ فٰسِقُوۡنَ ۞

ترجمہ:

کیا ابھی تک ایمان والوں کے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر کے لئے اور اس حق کے لئے نرم ہوجائیں جو نازل ہوچکا ہے اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو ان سے پہلے کتاب دی گئی تھی ‘ پھر ان پر طویل زمانہ گزر گیا تو ان کے دل بہت سخت ہوگئے اوہر ان میں سے بہت سے لوگ فاسق ہیں

 

الحدید : ١٦ میں فرمایا : کیا ابھی تک ایمان والوں کے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر کے لئے اور اس حق کے لئے نرم ہوجائیں جو نازل ہوچکا ہے۔

حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر شافعی و مشقی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں :

حضرت شداد بن اوس (رض) بیان کرتے ہیں کہ لوگوں سے سب سے پہلے جو چیز اٹھائی جائے گی وہ خشوع ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مومنوں کو اس چیز سے منع فرمایا ہے کہ وہ ان اہل کتاب سے مشابہت اختیار کریں جو یہود اور نصاریٰ تھے۔ جب ان پر زیادہ مدت گزر گئی تو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کتاب کو بدل ڈالا اور اس کے بدلہ میں تھوڑی قیمت خرید لی اور کتاب کو اپنی پیٹھوں کے پیچھے پھینک دیا اور مختلف نظریات اور مختلف اقوال کے در پے ہوئے اور اللہ کے دین میں لوگوں کی تقلید کی اور اپنے علماء اور پیروں کو اللہ کے بجائے رب مان لیا اور اس وقت ان کے دل سخت ہوگئے۔ وہ کسی کی نصیحت قبول نہیں کرتے تھے اور نہ جنت کی بشارت اور دوزخ کی وعید سن کر ان کے دل نرم ہوتے تھے۔ ان میں سے اکثر لوگوں کے عقائد فاسق تھے۔ ان کے دل فاسد ہوچکے تھے اور اللہ کی کتاب میں تحریف کرنا ان کی عادت بن چکی تھی۔ انہوں نے ان کاموں کو ترک کردیا تھا جن کو کرنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا اور وہ ایسے کام کرتے تھے جن کو کرنے سے انہیں منع کیا گیا تھا ‘ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے امور اصلیہ اور امور فرعیہ میں سے کسی ایک چیز میں بھی ان کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے۔

(تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ٣٤٢‘ دارالفکر بیروت ١٤١٩ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 57 الحديد آیت نمبر 16