فسئلوا أهل الذكر إن كنتم لا تعلمون

دارالافتاء جامع نعیمیہ

”لا الہ الا اللہ چشتی رسول اللہ کہنے کا حکم

سوال:

اولیاۓ کرام کی طرف منسوب بعض نسخوں میں” لا الہ الا اللہ چشتی رسول اللہ” کے کلمات آۓ ہیں ، ان کی تردید کرنی چاہیے کہ مستصوفین کے فساد کا راستہ روکا جا سکے یا ان کی تاویل و توجیہ کرنی چاہیے، شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔

(سائل : سید عمیر الحسن برنی )

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملك الوھاب

مسلمانوں کا اجماعی اور قطعی عقیدہ ہے کہ سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النّبین یعنی اللہ تعالی کے سب سے آخری نبی اور رسول ہیں اور آپ کی بعثت کے بعد کسی کے لیے بھی ظلی ، بروزی یا امتی نبوت و رسالت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اور جو بھی ہوش وحواس میں اس طرح کا دعوی کرے ، وہ اور اس کے ماننے والے حتی کہ اسے مسلمان تسلیم کرنے والے ،عقیدہ ختم نبوت کے انکار یا اس میں شک کے سبب سب دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔ تصوف کی کسی کتاب میں غیر نبی کے لیے’’رسول اللہ کے جو کلمات آۓ ہیں ، یقینا ہوش و حواس میں جو ان کلمات کو ادا کرے گا ، وہ کفر کا مرتکب ہے، اہلسنت و جماعت کے کسی بھی مستند وثقتہ عالم دین نے کبھی ان عبارتوں کی تائید و تصویب نہیں کی ، بلکہ اس کا رد ہی کیا ہے ۔

امام اہلسنت امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز لکھتے ہیں:

واللفظ للعمادي: قال: قال : ’’آنا رسول اللہ‘‘ او قال بالفارسية:’’ من پيغمبرم ‘‘یرید به :’’من پیغام می برم ‘‘، يكفر ولو أنه حين قال هذه المقالة: طلب غيرة منه المعجزة ، قيل يكف الطالب والمتأخرون من  المشايخ، قالوا : إن كان غرض الطالب تعجيزة وافتضاحه، لایکفر‘‘۔

ترجمہ: یعنی اگر کوئی شخص کہے: میں اللہ کا رسول ہوں یا فارسی میں کہے : میں پیغمبر ہوں‘‘ کافر ہوجاۓ گا ، اگرچہ مراد یہ لے: میں کسی کا پیغام پہنچانے والا ایلچی ہوں‘‘ اور اگر اس کہنے والے سے کوئی معجزہ مانگے تو کہا گیا ہے: یہ بھی مطلقاً کافر ہے اور متاخرین مشایخ نے فرمایا:’ اگر اسے عاجز و رسوا کرنے کی غرض سے معجزہ طلب کیا ،تو کافر نہ ہوگا ورنہ ختم نبوت میں شک لانے کے سبب سی بھی کافر ہو جاۓ گا ، ( فتاوی رضویہ، ج:15 ص:719)‘‘۔ .

جہاں تک ان کتابوں کے مصنفین کے ایمان کا معاملہ ہے تو جب تک قطعی طور پر ثابت نہ ہوجائے کہ یہ الفاظ ان کے اپنے تحریر کردہ ہیں ، وہ اہل ایمان ہی قرار دیے جائیں گے۔ پریس کی ایجاد سے قبل کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں اور کاتب حضرات اس کی نقل کر کے نسخے تیار کرتے تھے ۔ بعض دشمنان دین نے دینی خصوصا تصوف کی کتابوں میں تحریفات والحاقات کیے ہیں، جیسا کہ شیخ محی الدین ابن عربی کی کتابوں کا معاملہ ہے، اس لیے اس طرح کی عبارتوں میں یہ واضح احتمال موجود ہے کہ یہ دشمنان دین کی سازش ہے اور ہمارے نزدیک ان کتابوں کے مصنفین ان سے بری ہیں ۔

اسی طرح جن مسلمہ اکابر نے ان کتابوں کی تعریف کی ہے، تو ہمارا یہ حسن ظن بلکہ ان کی علمی ثقاہت اور دیانت کے سبب یقین ہے کہ وہ ان الحاقی کلمات پر مطلع نہیں ہوۓ ۔ بعض اوقات جستہ جستہ اور سرسری طور پر کسی کتاب کو دیکھ کر حسن ظن کی بنیاد پر اس کی تحسین کر دی جاتی ہے، ہمیشہ ہر ایک کے لیے ہر کتاب کو لفظ بہ لفظ بغور پڑھنا دشوار ہوتا ہے۔ پس ہمیں مکمل یقین ہے کہ اگر بی کلمات ان کی نظر سے گزرتے تو وہ بھی ان کا رد فرماتے اور انھیں الحاقی قرار دیتے ،مزید یہ احتمال بھی موجود ہے کہ ان کے پاس موجود نسخے میں یہ الحاقی کفریہ عبارت موجود ہی نہ ہو۔ ایک عام مسلمان کے بارے میں بھی حسن ظن رکھنے کا حکم ہے، پھر یہ تو اکابر علماء میں شمار ہوتے ہیں ، ان کے بارے میں یہ بدگمانی کرنا کہ انھوں نے اس طرح کی کفریہ عبارت کی تحسین کی ہوگی ، شیطان کا دھوکہ، حرام اور بدگمانی ہے، جو اس طرح کی عبارتوں کی بنیاد پر شرانگیزی کرتے ہوۓ مسلمانوں پر کفریہ فتوی لگا کر سوشل میڈ یا پر رونق لگار ہے ہیں، وہ اسلام کی خدمت نہیں، بلکہ دشمن دین کا کردارادا کررہے ہیں۔

علامه سید محمد امین ابن عابدین شامی رحمہ اللہ تعالی متوفی 1252 ھ لکھتے ہیں:

قلت: وقد يتفق نقل قول في نحو عشرين كتابا من كتب المتأخرين ويكون القول خطأ، أخطأ به أول واضع له ، فیاتی من بعدة وينقله عنه، وهكذا ينقل بعضهم عن بعض‘‘۔

ترجمہ: میں کہتا ہوں : متاخرین کی بیسیوں کتابوں میں بالاتفاق کوئی قول نقل ہوتا ہے اور وہ قول ( درحقیقت ) خطا ہوتا ہے، وہ خطا

سب سے پہلے اس مسئلے کو وضع کرنے والے نے کی ہوتی ہے اور بعد والے سے نقل کرتے جاتے ہیں ، علی لهذا القیاس۔۔

نیز وہ لکھتے ہیں :

” میں نے علامہ محمد هبة اللہ البالی کی ’’شرح الاشباہ کے اوائل میں اور معین الدین ہروی المعروف بہ ملامسکین کی ’’ شرح الکنز والقہستانی‘‘ ایسی نادر کتب میں دیکھا ،جن کے مؤلفین کے حال پر مطلع نہیں ہیں، اسی طرح صاحب قنیہ نے بعض اقوال ضعیفہ نقل کیے ہیں ، وغیرہا ہمارے شیخ صالح الحبینینی نے کہا: ان کتب سے فتوی دینا جائز نہیں ہے، جب تک منقول عنہ کے بارے میں علم نہ ہو اور ان کے مآخذ کا پتا نہ ہو، ( شرح عقو درسم المفتی ص:160 ، داراہل السنیہ کراتشی )‘‘۔

امام اہلسنت امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز متوفی 1340 ھ لکھتے ہیں :

’’ حضرات اولیاء جن کی ولایت ثابت و محقق ہے، ان سے جو قول یا فعل یا حال ایسا منقول ہو کہ بظاہر خلاف شرع مطہر ہو:اولا:اگر وہ سند صحیح و واجب الاعتماد سے ثابت نہیں ، ناقل پر مردود ہے اور دامن اولیاءاس سے پاک، بلکہ اولیاءتو اولیاء، حجۃ الاسلام امام غزالی قدس سرہ نے احیاء العلوم میں یہ تصریح فرمائی: کسی مسلمان کی طرف کسی کبیرہ کی نسبت جائز نہیں ، جب تک ثبوت کامل نہ ہو : لا تجوز نسبة مسلم إلى كبيرة من غير تحقيق، نعم، يجوز أن يقال: قتل ابن ملجم علیا رضي الله عنه، فإن ذلك ثبت متواترا، فلا يجوز أن يرمی مسلم بفسق وكفر من غير تحقيق‘‘۔

ترجمہ: ’’بغیر تحقیق کیے کسی مسلمان کی کبیرہ گناہ کی طرف نسبت کرنا جائز نہیں ، لیکن ہاں یہ جائز ہے کہ کہا جائے : ابن ملجم نے حضرت علی (کرم اللہ وجھہ ) کوشہید کیا، کیونکہ تواتر سے ثابت ہے ۔ پس تحقیق کے بغیر کسی مسلمان پرفسق اور کفر کی تہمت لگانا جائز نہیں ہے ، (احیاء علوم الدین ملخصا ، ج: 3، ص:125 )‘‘اور تواتر نہیں کہ کوئی نسخہ کسی کی طرف منسوب کسی الماری میں ملا، چھاپے (ناشر ) نے اسے چھاپ کر شائع کر دیا، اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی مجہول ناشناخته بازار میں کوئی بات منہ سے نکالے اور اسے ہزار آ دمی سنیں اور نقل کریں ، ناقل ہزار نہیں لاکھ سہی ، منتہائے سند تو ایک فرد مجہول ہے ،تو تواتر در کنار صحت ہی نہیں ، آج کل حضرات اولیائے کرام کے نام سے بہت کتابیں نظم ونثر میں ایسی شائع ہورہی ہیں : پس بہر دستے نباید داددست (لہذا ہر ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہیں دینا چاہیے )۔

یہ چال بعض علماء کے ساتھ بھی چلی گئی ہے ، ایک کتاب عقائد امام احمد رضی اللہ تعالی عنہ کے نام سے چھپی جس سے وہ ایسے ہی بری ہیں ، جیسا اس کا مفتری حیا و دیانت سے ، شاہ ولی اللہ صاحب کی مشہور کتابوں میں وہابی کش دفتر دیکھ کر کسی وہابی نے ان کے نام سے ایک کتاب گھڑ لی اور چھاپی گئی ہے، ( فتاوی رضویہ، ج:22 ، ص:516)‘‘۔

مفتی اعظم ہند علامہ مصطفی رضا خان نوری رحمہ اللہ تعالی متوفی 1402 ھ سے سوال ہوا:

’’ایک شخص مدرس ہے ،متوسط درجات کی درس نظامی کی کتب پڑھاتا ہے، اس نے کہا: مجھے رسول بالمعنی القاصد کہہ سکتے ہیں ، اس کے بارے میں شریعت کا حکم کیا ہے ، کیا اس کی بیوی نکاح سے خارج ہوگئی اور اس کو دوبارہ عقد و تجدید اسلام کی ضرورت ہے ملخصا‘‘،آپ نے جواب میں لکھا:

’’اگر کوئی لفظ’رسول‘‘ کو اللہ تعالی کی طرف منسوب کر کے اپنے آپ کو یا کسی غیر رسول کو “’رسول اللہ ” کہے اور یہ تاویل کرے : میں نے اس سے قاصد و پیامی ہونے کا ارادہ کیا تھا (یعنی اسے لغوی معنی میں لیا تھا) ‘‘ تو اس کی یہ تاویل مردود ہوگی ، ہرگز سنی نہ جائے گی کہ صریح لفظ میں تاویل کا دعوی قابل قبول نہیں ہے ، ورنہ کوئی کفر، کفر نہ رہے ، کوئی اپنے آپ کو خدا کہے اور یہ تاویل کرے : میں نے’’خودآ یا ہوں‘‘ مرادلیا تھا، اس کے بعد آپ نے وہی عبارت بطور دلیل نقل کی ہے جوامام اہلسنت نے نقل فرمائی ہے، (الفتاوی المصطفویہ ص:33-32، شبیر برادرز لاہور) ‘‘۔

پس اگر ہماری ان گزارشات کے بعد کوئی ان پر کفر کے فتوے لگانے کے لیے بضد اور مصر ہے، تو اس پر لازم ہے کہ پہلے کوئی قطعی دلیل پیش کرے کہ یہ عبارت خود ان مصنفین کی تحریر کردہ ہے اور ان کتابوں کی تحسین کرنے والے اس الحاقی عبارت پر مطلع تھے، اگر ایسا نہ کرے تو اس پر لازم ہے کہ شرانگیزی بند کرے ۔ان کتابوں کے ناشرین پر بھی لازم ہے کہ اس طرح کی تحریف شدہ عبارتوں کو ان کتابوں سے خارج کریں۔

البتہ اگر خواب میں کسی کے ذہن میں اس طرح کے کلمات آۓ ہوں تو اس پر شرعی احکام عائد نہیں ہوتے ، جیسے کوئی خواب میں اپنی بیوی کو طلاق دیدے تو وہ طلاق لغو ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: رفع القلم عن ثلاثة: عن النائم حتى يستيقظ وعن الصبي حتى يشب وعن المعتوه حتى یغقل‘‘، ترجمہ: تین افراد سے قلم اٹھالیا گیا ہے (یعنی ان سے مواخذہ نہیں ہوگا): سویا ہوا شخص حتی کہ وہ بیدار ہوجاۓ، بچہ حتی کہ وہ بالغ ( یعنی باشعور) ہوجائے اور فاترالعقل حتی کہ اس کی عقل بحال ہوجاۓ،(سنن ترمذی:1423 ‘‘، تاہم بیدار ہونے پر ایسے خیال سے بے زاری کا اظہار لازم ہے۔

الغرض ایسی عبارات کو رد کر دینا چاہیے ، ان کی تاویل وتوجیہ کی کوئی حاجت نہیں ہے اور نہ اس سے کوئی شرعی مقصد حاصل ہوتا ہے، بلکہ مفسدات کا راستہ کھلتا ہے اور اس دور کے متجد دین اسے مسلک حق اہل السنۃ والجماعت کے خلاف ایک حربے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں ۔

اھل السنۃ والجماعت کے ایک ثقہ عالم دین مفتی شریف الحق امجدی رحمہ اللہ تعالی متوفی 1421ھ 23 صفر 1415ھ کو یعنی آج سے 30 سال قبل اس عبارت کے بارے میں تفصیلی رد کر کے اس کو الحاقی قرار دے چکے ہیں، فتاوی شارح بخاری ،ج:2 ،ص:153 پر تفصیلی فتوی موجود ہے، لیکن اس دور کے متجد دین کمال بے حیائی سے اہل السنۃ والجماعت پر الزام لگار ہے ہیں کہ کسی سنی عالم نے اس عبارت کا رد نہیں کیا، یہ حدیث پاک ان پر صادق آتی ہے: “إذا لم تستحي فاصنع ما شئت ، یعنی جب تجھ میں حیا نہ ہو تو جو چاہے کر ، ( صحیح البخاری:3484)‘‘۔

18 دسمبر 2023ء

مفتی منیب الرحمن

رئیس دارالافتاء دار العلوم نعیمیہ،کراچی

تائیدات وتصديقات مفتیان کرام :

(۱) شیخ الحدیث علامہ مفتی محمدابراہیم قادری

(۲) شیخ الحدیث علامہ مفتی محمد اسماعیل ضیائی

(۳) علامہ مفتی محمد الیاس رضوی اشرفی

(۴) علام مفتی محمد ابوبکر صدیق شاذلی

(۵) علامہ مفتی مد وسیم اختر المدنی

(۲ ) علامہ مفتی شد اکمل مدنی

(۷) شیخ الحدیث علامہ مفتی احمدعلی سعیدی

(۸) علامہ مفتی محمد جان نعیمی

(۹) علامہ مفتی محمد اسماعیل حسین نورانی

(۱۰) علامہ مفتی خالد کمال مدنی

(۱۱) علامہ مفتی ندیم اقبال سعیدی

( ۱۲ ) علامہ مفتی محمد عبداللہ ضیائی

( ۱۳ ) علامہ سید مظفر شاہ قادری

(۱۴) علامہ مفتی محمد عبداللہ نورانی الرفاعی