مَنۡ ذَا الَّذِىۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَلَهٗۤ اَجۡرٌ كَرِيۡمٌ سورۃ نمبر 57 الحديد آیت نمبر 11
sulemansubhani نے Tuesday، 19 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مَنۡ ذَا الَّذِىۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَلَهٗۤ اَجۡرٌ كَرِيۡمٌ ۞
ترجمہ:
کوئی ہے جو اللہ کو قرض حسن دے ‘ تو اللہ اس قرض کو اس کے لئے بڑھاتا رہے اور اس کے لئے عزت والا اجر ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کوئی ہے جو اللہ کو قرض حسن دے تو اللہ اس کے اس قرض کو بڑھاتا رہے اور اس کے لئے عزت والا اجر ہے۔ جس دن آپ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگ اور ان کی دائیں طرف دوڑ رہا ہوگا ‘ (ان سے کہا جائے گا :) آج تمہیں ان جنتوں کی بشارت ہے جن کے نیچے دریا بہ رہے ہیں (تم ان میں) ہمیشہ رہنے والے ہو ‘ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہیں گے : تم ہماری طرف دیکھو ‘ ہم تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کریں ‘ ان سے کہا جائے گا : تم اپنے پیچھے لوٹ جائو پھر کوئی نور حاصل کرو ‘ پس ان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس میں دروازہ ہوگا ‘ اس کے اندرونی حصہ میں رحمت ہوگی اور اس کے باہر کی جانب عذاب ہوگا۔ (الحدید : ١٣۔ ١١)
قرض حسن کی شرائط
الحدید : ١١ میں قرض حسن کا ذکر کیا گیا ہے ‘ مفسرین نے قرض حسن کی حسب ذیل آٹھ شرائط بیان کی ہیں :
(١) اللہ تعالیٰ کی راہ میں رزق حلال سے صدقہ دیا جائے ‘ قرآن مجید میں ہے :
ترجمہ : (البقرہ : ٢٦٧ )…اے ایمان والو ! اللہ کی راہ میں اپنی پاکیزہ کمائی سے خرچ کرو۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ طیب ہے اور طیب کے سوا کسی چیز کو قبول نہیں کرتا۔
(صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠١٥‘ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٨٨٣٩‘ مسند احمد ج ٢ ص ٣٢٨‘ مشکوٰۃ رقم الحدیث : ٢٧٦٠ )
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ بغیر وضو کے نماز قبول نہیں کرتا نہ مال حرام سے صدقہ قبول کرتا ہے۔
(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٣٤‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ١‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٧٢‘ مسند احمد ج ٢ ص ١٩)
(٢) انسان اللہ تعالیٰ کی راہ میں اچھی چیز صدقہ دے ‘ ردی چیز نہ دے ‘ قرآن مجید میں ہے :
ترجمہ : (البقرہ : ٢٦٧ )… ان میں سے بری چیز کو خرچ کرنے کا قصد نہ کرو ‘ جس کو تم خود لینے والے نہیں ہو ‘ سوا اس کے کہ تم آنکھیں بند کرلو۔
(٣) تم اس چیز کو صدقہ کرو جو تم کو پسند ہو اور تمہیں اس کی ضرورت ہو کہ تم اس کے بعد زندہ رہو گے ‘ قرآن مجید میں ہے :
ترجمہ (البقرہ : ١٧٧)… اور اپنی محبت کے باوجود مال اللہ کی راہ میں دے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ کر کہا : یا رسول اللہ ! کون سے صدقہ کا سب سے زیادہ اجر ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم اس وقت صدقہ کرو جب تم تندرست ہو اور کفایت شعار ہو ‘ تمہیں تنگ دستی کا خطرہ ہو اور خوشحالی کی امید ہو اور صدقہ کرنے میں ڈھیل نہ دیتے رہو حتیٰ کہ جب تمہاری روح حلقوم تک پہنچ جائے ‘ اس وقت تم کہو کہ فلاں کے لئے اتنا ہے ‘ فلاں کے لئے اتنا ہے اور اب تو فلاح کے لئے ہو ہی جائے گا۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤١٩‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٤٣٢‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٨٦٥‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٢٥٤٢ )
(٤) حتی الامکان چھپا کر صدقہ کیا جائے ‘ قرآن مجید میں ہے :
ترجمہ : (البقرہ : ٢٧١)…اور اگر تم چھپا کر صدقہ کرو اور فقراء کودو تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس دن اللہ کے سائے کے سوا کسی کا سایہ نہیں ہوگا ‘ اس دن سات آدمی اللہ کے سائے میں ہوں گے ‘ (ان میں سے ایک وہ شخص ہے) جس نے چھپا کر صدقہ کیا حتیٰ کہ بائیں ہاتھ کو پتا نہ چلا کہ دائیں ہاتھ نے خرچ کیا ہے۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٦‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٣١‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٣٩١‘ السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٥٩٢١ )
(٥) جس پر صدقہ کیا ہے اس پر صدقہ کا احسان جتائے نہ اس کو طعنہ دے کر اذیت پہنچائے ‘ قرآن مجید میں ہے :
ترجمہ : (البقرہ : ٢٦٤ )… احسان جتا کر اور اذیت پہنچا کر اپنے صدقات کو ضائع نہ کرو۔
علامہ قرطبی فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت ہے کہ تم نیکی پر احسان نہ جتائو ‘ کیونکہ یہ شکر کو باطل کرتا ہے اور اجر کو ضائع کرتا ہے۔
(الجامع لاحکام القرآن جز ٣ ص ٢٨٤‘ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)
(٦) صرف اللہ کی رضا جوئی کی نیت سے صدقہ کرے ‘ دکھاوے کی نیت سے صدقہ نہ کرے ‘ قرآن مجید میں ہے :
ترجمہ : (اللیل : ٢٠ )… صرف اپنے رب اعلیٰ کی رضا طلب کرنے کے لئے صدقہ دیا۔
(٧) جتنا زیادہ صدقہ کرے اس کو کم سمجھے اور اپنے صدقہ کو زیادہ خیال نہ کرے ‘ قرآن مجید میں ہے :
ترجمہ : (المدثر : ٦)… اور زیادہ گمان کرکے احسان نہ کر۔ (یہ ایک محمل ہے)
(٨) جو چیز زیادہ پسندیدہ ہو اس کو اللہ کی راہ میں صدقہ کرے ‘ قرآن مجید میں ہے :
ترجمہ : (آل عمران : ٩٢)… تم ہرگز نیکی نہیں پا سکو گے حتیٰ کہ اپنی پسندیدہ چیزوں سے صدقہ کرو۔
حضرت ان (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن (کامل) نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لئے بھی وہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہو۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٣‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٥‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٥١٥‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٥٠١٦‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٦٧ )
اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو قرض فرمانے کی توجیہ
اس کے بعد فرمایا : تو اللہ اس کے اس قرض کو بڑھاتا رہے اور اس کے لئے عزت والا اجر ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کو ‘ اللہ کو قرض دینے سے تعبیر فرمایا ہے اور یہ مجا ہے ‘ کیونکہ سب مال اللہ تعالیٰ ہی کا ہے ‘ اس کو قرض اس مناسبت سے فرمایا ہے کہ جس طرح مقروض ‘ قرض دار کو رقم واپس کرتا ہے ‘ اسی طرح جو شخص اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا ‘ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی خرچ کی ہوئی رقم کا اجر واپس کرے گا اور اس رقم کو بڑھا کر اس کا اجر دے گا ‘ کسی کو اس رقم کا دس گنا اجر عطا فرمائے ‘ کسی کو سات سو گنا ‘ کسی کو چودہ سو گنا اور کسی کو غیر متناہی اجر عطا فرمائے گا۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 57 الحديد آیت نمبر 11
[…] اس پر دگنے چوگنے اجر کا ذکر فرمایا ہے۔ اس کی تفصیل ہم الحدید : ١١ میں بیان کرچکے ہیں ‘ وہاں ملاحظہ […]