أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَوۡمَ يَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَالۡمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا انْظُرُوۡنَا نَقۡتَبِسۡ مِنۡ نُّوۡرِكُمۡ‌ۚ قِيۡلَ ارۡجِعُوۡا وَرَآءَكُمۡ فَالۡتَمِسُوۡا نُوۡرًاؕ فَضُرِبَ بَيۡنَهُمۡ بِسُوۡرٍ لَّهٗ بَابٌؕ بَاطِنُهٗ فِيۡهِ الرَّحۡمَةُ وَظَاهِرُهٗ مِنۡ قِبَلِهِ الۡعَذَابُؕ ۞

ترجمہ:

جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہیں گے : تم ہماری طرف دیکھو ہم تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کریں ‘ ان سے کہا جائے گا : تم اپنے پیچھے لوٹ جائو پھر کوئی نور حاصل کرو ‘ پس ان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس میں دروازہ ہوگا ‘ اس کے اندرونی حصہ میں رحمت ہوگی اور اس کے باہر کی جانب عذاب ہوگا

قیامت کے دن منافقین کا جنت کے راستہ سے محروم ہونا

الحدید : ١٣ میں فرمایا : جس دن وہ منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہیں گے : تم ہماری طرف دیکھو ‘ ہم تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کریں۔ الایۃ

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : قیامت کے دن لوگ اندھیروں میں ہوں گے ‘ پھر اللہ تعالیٰ ایک نور بھیجے گا ‘ جب مومنین اس نور کو دیکھیں گے تو اس نور کی جانب چل پڑیں گے اور وہ نور جنت کی طرف رہنمائی کرے گا۔ پس جب منافقین دیکھیں گے کہ مومنین اس نور کی روشنی میں جنت کی طرف جارہے ہیں تو وہ بھی مومنوں کے پیچھے چل پڑیں گے۔ تب اللہ تعالیٰ منافقین پر اندھیرا کردے گا۔ اس وقت منافیقن مومنوں سے کہیں گے : تم ہماری طرف دیکھو ہم بھی تمہارے نور سے روشنی حاصل کریں ‘ کیونکہ ہم دنیا میں تمہارے ساتھ رہے تھے تو مومنین کہیں گے : تم اسی اندھیرے میں لوٹ جائو جہاں سے آئے تھے اور وہیں نور تلاش کرو۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ٢٦٠٢٧ )

اس کے بعد فرمایا : پس ان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی ‘ جس میں دروازہ ہوگا۔ اس کے اندرونی حصہ میں رحمت ہوگی اور اس کے باہر کی جانب عذاب ہوگا۔

قتادہ نے کہا : یہ دیوار جنت اور دوزخ کے درمیان ہوگی۔

القرآن – سورۃ نمبر 57 الحديد آیت نمبر 13