أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اۨلَّذِيۡنَ يَبۡخَلُوۡنَ وَيَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبُخۡلِ‌ؕ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡغَنِىُّ الۡحَمِيۡدُ ۞

ترجمہ:

جو لوگ خود بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو (بھی) بخل کا حکم دیتے ہیں اور جو رو گردانی کرتا ہے تو بیشک اللہ بےنیاز ہے تعریف کیا ہوا.

 

بخل کا حکم دینے والوں کے مصادیق اور بخل اور سخاوت کا معنی

الحدید : ٢٤ میں فرمایا : جو لوگ خود بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو (بھی) بخل کا حکم دیتے ہیں اور جو رو گردانی کرتا ہے تو بیشک اللہ بےنیاز ہے تعریف کیا ہوا۔

سدی اور کلبی نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہود کے بڑے بڑے علماء ہیں جو سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات کے بیان میں بخل کرنے کا حکم دیتے تھے اور ” تورات “ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جو صفات لکھی ہوئی تھیں ‘ ان کو چھپاتے تھے اور اپنے دوسرے علماء کو بھی ان صفات کے بتانے سے منع کرتے تھے تاکہ لوگ اس سے متاثر ہو کر اسلام کو نہ قبول کرلیں اور اگر ایسا ہوگیا تو عوام یہودیوں سے ان کو نذرانے ملنے بند ہوجائیں گے۔

سعید بن جبیر نے کہا : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو علم کو چھپاتے ہیں اور دوسروں کو بھی تعلیم دینے سے منع کرتے ہیں۔

زید بن اسلم نے کہا : اس سے مراد ہے ‘ جو لوگ اللہ کے حقوق کی ادائیگی میں مال خرچ کرنے سے بخل کرتے ہیں۔

عامر بن عبداللہ اشعری نے کہا : اس سے مراد ہے ‘ جو لوگ صدقہ اور خیرات کرنے سے اور حقوق العبار میں مال خرچ کرنے سے بخل کرتے ہیں۔

علماء نے بخل اور سخاوت میں دو وجہ سے فرق کیا ہے :

(١) بخیل وہ ہے جس کو مال روکنے سے لذت ملتی ہے اور سخی وہ ہے جس کو مال خرچ کرنے سے لذت ملتی ہے۔

(٢) بخیل وہ ہے جو صرف سوال کرنے سے دے اور سخی وہ ہے جو بغیر سوال کے بھی عطا کرے۔

اور فرمایا : اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے تعریف کیا ہوا۔

یعنی اگر کوئی شخص حقوق اللہ کی ادائیگی میں بخل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے بخل سے کوئی ضرر نہیں ہوتا ‘ وہ بےنیاز ہے اور اللہ عزوجل فی نفس حمد کا مستحق ہے ‘ اگر بندہ اس کی اطاعت اور عبادت میں کمی کرے تو اس کا وبال صرف اس بندہ پر ہوگا ‘ اللہ تعالیٰ تو ہرحال میں حمد کیا ہوا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 57 الحديد آیت نمبر 24