أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لِّـئَلَّا يَعۡلَمَ اَهۡلُ الۡكِتٰبِ اَلَّا يَقۡدِرُوۡنَ عَلٰى شَىۡءٍ مِّنۡ فَضۡلِ اللّٰهِ‌ وَاَنَّ الۡفَضۡلَ بِيَدِ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَاللّٰهُ ذُوۡ الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ ۞

ترجمہ:

تاکہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ اللہ کے فضل پر بالکل قدرت نہیں رکھتے اور بیشک فضل ‘ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ اسے جس کو چاہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے ؏

 

اہل کتاب میں سے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے والوں کو دگنا اجر عطا فرمانا اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل ہے

الحدید : ٢٩ میں فرمایا : تاکہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ اللہ کے فضل پر بالکل قدرت نہیں رکھتے اور بیشک فضل اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے ‘ وہ اسے جس کو چاہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔

امام ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حیان سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :

ترجمہ : (القصص : ٥٤ )… ان (اہل کتاب) کو ان کے صبر کی وجہ سے دو مرتبہ اجر دیا جائیگا۔

تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کے سامنے مومنین اہل کتاب نے فخر کیا کہ ہم کو دو اجر ملیں اور تم کو ایک اجر ملے گا ‘ پھر اللہ سبحانہ ‘ نے یہ آیت نازل فرمائی اور آپ کے اصحاب کے لئے بھی اسی طرح دو اجر کردیئے جس طرح مومنین اہل کتاب کے لئے دو اجر کئے تھے۔

(روح المعانی جز ٢٧ ص ٢٩٧۔ ٢٩٦) مطبوعہ ” تفسیر امام ابن ابی حاتم “ میں یہ عبارت نہیں ہے۔

اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس آیت میں ان اہل کتاب یہود و نصاریٰ سے خطاب ہے جو ایمان لے آئے تھے یا ابھی تک ایمان نہیں لائے تھے اور اس آیت کا معنی ہے : اے وہ لوگو ! جو حضرت موسیٰ و عیسیٰ پر ایمان لا چکے ہو ‘ اب حضرت (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائو ‘ یعنی ان پر ایمان کو برقرار رکھو اور اس پر ثابت قدم رہو اور اگر ابھی تک ایمان نہیں لائے ہو تو آپ ایمان لے آئو۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ایک حصہ تمہیں تمہارے سابق ایمان لانے پردے گا اور ایک حصہ تمہیں (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا دے گا تاکہ ان اہل کتاب کو معلوم ہوجائے جو (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہیں لائے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی اس رحمت سے کوئی حصہ نہیں ملے گا جو ان میں سے ایمان لانے والوں کو مل چکا ہے اور وہ اس رحمت کو حاصل کرنے پر قادر نہیں ہوں گے کیونکہ اس رحمت کے حصول کی شرط سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانا ہے۔

اور اس تفسیر کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے ‘ جس میں فرمایا ہے : تین (قسم کے) لوگوں کے لئے دو اجر ہیں ‘ ایک اہل کتاب میں سے وہ شخص جو اپنے نبی پر بھی ایمان لایا اور (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی ایمان لایا اور دوسرا وہ غلام جو اللہ تعالین کا حق بھی ادا کرے اور اپنا مالک کا بھی حق ادا کرے اور تیسرا وہ شخص جس کی ایک باندی ہو وہ اس کی اچھی تربیت کرے اور اس کو اچھی طرح علم پڑھائے ‘ پھر اس کو آزاد کرکے اس کے ساتھ نکاح کرے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٩٧)

اور نصاریٰ کے اعتبار سے اس آیت پر کوئی اشکال نہیں ہے ‘ کیونکہ ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں ان ہی سے خطاب ہے، کیونکہ ملت محمدیہ کے ظہور سے پہلے ان کی ملت غیر منسوخ تھی ‘ لہٰذا ان کو اس ملت پر عمل کرنے کا ثواب ملتا رہے گا ‘ حتیٰ کہ ان پر واجب ہوگیا کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائیں اور جب وہ آپ پر ایمان لے آئے تو ان کو اس کا ثواب بھی دیا گیا اور ان کے لئے دو ثواب اور دو اجر ہوگئے۔ ہاں ! یہودیوں کے اعتبار سے اشکال ہوگا کیونکہ اس کی ملت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ملت سے منسوخ ہوچکی تھی اور منسوخ شدہ ملت پر عمل کرنے کا ثواب نہیں ہوتا اور اس کا یہ جواب دیا جائے گا کہ اسلام لانے کی برکت سے ان کو بھی ملت سابقہ پر عمل کرنے کا ثواب ملے گا ‘ خواہ وہ ملت منسوخ ہوچکی ہو۔

اور بعض علماء نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ یہودیوں د کو صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کا ثواب ہوگا ‘ خواہ ان کی شریعت منسوخ ہوچکی ہو ‘ کیونکہ ہر نبی پر ایمان لانا فرض ہے ‘ خواہ اس کی شریعت منسوخ ہوچکی ہو یا نہیں۔

اور اب اس آیت کا معنی اس طرح ہوگا کہ ہم نے اہل کتاب میں سے ان لوگوں کو دو اجر عطا کئے ہیں جو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے ہیں تاکہ دوسرے اہل کتاب یہ اعتقاد نہ کریں کہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان پر ایمان لانے والے اللہ تعالیٰ کے فضل کے حصول پر قادر نہیں ہیں ‘ اس لئے فرمایا : ” تاکہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ اللہ کے فضل پر بالکل قدرت نہیں رکھتے ‘ اور بیشک فضل اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے ‘ وہ اسے جس کو چاہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔ “

آیا مومنین اہل کتاب کو ہر نیک عمل کا دگنا اجر دیا جائے گا یا نہیں ؟

اہل کتاب میں سے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے والوں کے لئے القصص : ٥٤ میں فرمایا تھا : ” اولٓیک یوتون اجرھم مرتین بما صبروا “ ان کو دو مرتبہ اجر دیا جائے گا اور الحدید : ٢٨ میں ان کے لئے فرمایا ہے : ” یوبکم کفلین من رحمتہ “ اللہ تم کو اپنی رحمت سے دو حصے عطا فرمائے گا ‘ ان آیتوں کا کیا مطلب ہے ‘ آیا ان لوگوں کو ان کے ہر نیک عمل پر عام مسلمانوں کی بہ نسبت دگنا اجر دیا جائے گا یا ان کو ایک اجر ان کے پہلے ایمان کا دیا جائے گا اور دوسرا اجر ان کو ان کے دوسرے ایمان کا دیا جائے گا ؟ اگر ثانی الذکر معنی ہو تو اس میں ان کی کوئی خصوصیت نہیں رہتی اور نہ اس میں بظاہر اللہ تعالیٰ کا کوئی خصوصی فضل ہے ‘ جس کا یہاں بہت اہمیت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے کیونکہ عام قاعدہ کے مطابق ان کو دو اجر ملے ‘ ایک اجر سابق شریعت پر ایمان لانے کا ملا اور دوسرا اجر بعد میں ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت پر ایمان لانے کا ملا اور اگر ان دونوں آیتوں کا یہ معنی ہو کہ ان کو ان کے ہر نیک عمل پر عام مسلمانوں کی بہ نسبت دگنا اجر دیا جائے گا تو اس میں ان کی خصوصیت بھی نظر آتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا ان پر خصوصی فضل بھی دکھائی دیتا ہے۔ مفسرین اور شارحین حدیث کی عبارات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دو ایمان ہیں ‘ اس لئے ان کو دو اجر ملیں گے۔ یہ نہیں معلوم ہوتا کہ ان کے ہر نیک عمل پر ان کو عام مسلمانوں کی بہ نسبت دگنا اجر ملے گا ‘ لیکن میرا ذوق اور میرا رحجان اسی طرف ہے اور حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی جانتا ہے۔

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

پھر ان دو اجروں میں سے ہر ایک کو فی نفسہ دگنا کیا جائے گا اور ہر نیکی کا دس گنا اجر دیا جائے گا اور ان کے اجور دگنے چوگنے کردیئے جائیں گے۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ وہ غلام جو اللہ کا حق بھی ادا کرتا ہو اور اپنے مالک کا حق بھی ادا کرتا ہو وہ آزاد شخص سے بہتر ہے اور یہی وہ رائے ہے جس کو ابو عمر بن عبدالبر وغیرہ نے پسند کیا ہے اور اس کو ترجیح دی ہے۔

(الجامع لاحکام القرآن جز ١٣ ص ٢٧٣‘ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

نیز ” تفسیر امام ابن ابی حاتم “ میں ” کفلین “ (الحدید : ٢٨) کی تفسیر میں مذکور ہے : حضرت ابو موسیٰ نے ” کفلین “ کی تفسیر میں کہا : ضعفین (دو مثل ‘ دوگنا) اور یہ حبشی زبان کا لفظ ہے۔

(تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ١٠ ص ٣٣٤١۔ رقم الحدیث : ١٨٨٣‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٨ ھ)

ہر چند کی ان آیات اور ” صحیح بخاری “ کی حدیث کا ظاہر معنی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو دو اجر عطا فرمائے گا لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بعید نہیں ہے کہ ان کو ان کے ہر نیک عمل کا دگنا اجر دیا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔

القصص : ٥٤ کی تفسیر میں ‘ میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ بھی اسی محمول ہے۔

سورۃ الحدید کا اختتام

الحمد اللہ رب العا لمین ! آج تیرہ ذوالقعدہ ١٤٢٥ ھ/ ٢٦ دسمبر ٢٠٠٤ ء بروز اتوار سورة الحدید کی تفسیر مکمل ہوگئی ‘ ٤ دسمبر کو اس کی تفسیر شروع کی تھی ‘ اس طرح بائیس دنوں میں یہ تفسیر مکمل ہوئی۔

رب العالمین ! اس تفسیر کو اور اس سے پہلے لکھی ہوئی تفسیر کو قبول فرما اور بشری تقاضے سے جو مجھ سے غلطیاں ہوئیں ان کو معاف فرما اور تا روز قیامت اس تفسیر کو فیض آفریں رکھ اور باقی ماندہ سورتوں کی تفسیر کو بھی مکمل فرما دے اور میری اور میرے والدین کی ‘ میرے اساتذہ کی ‘ میرے تلامذہ اور احباب کی ‘ اس کتاب کے ناشر اور معاونین کی اور قارئین کی اور جمیع مسلمانوں کی مغفرت فرما۔

وآخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین و الصلوۃ والسلام علی سیدنا محمد و علیٰ آلہ و اصحابہ و ازواجہ و ذریاتہ اجمعین

غلام رسول سعیدی غفرلہ ‘

خادم الحدیث دارالعلوم نعیمیہ ‘ ١٥ فیڈرل بی ایریا ‘ کراچی۔ ٣٨

القرآن – سورۃ نمبر 57 الحديد آیت نمبر 29