ءَاَشۡفَقۡتُمۡ اَنۡ تُقَدِّمُوۡا بَيۡنَ يَدَىۡ نَجۡوٰٮكُمۡ صَدَقٰتٍ ؕ فَاِذۡ لَمۡ تَفۡعَلُوۡا وَتَابَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمۡ فَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ؕ وَاللّٰهُ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ- سورۃ نمبر 58 المجادلة آیت نمبر 13
sulemansubhani نے Friday، 22 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ءَاَشۡفَقۡتُمۡ اَنۡ تُقَدِّمُوۡا بَيۡنَ يَدَىۡ نَجۡوٰٮكُمۡ صَدَقٰتٍ ؕ فَاِذۡ لَمۡ تَفۡعَلُوۡا وَتَابَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمۡ فَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ؕ وَاللّٰهُ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ۞
ترجمہ:
کیا تم اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ کرنے سے گھبرا گئے، پس جب تم نے (صدقہ) نہ کیا اور اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرمالی، پس تم نماز قائم رکھو اور زکوۃ دیا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو، اور اللہ تمہارے کاموں کی خوب خبر رکھنے والا ہے ؏
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ کرنا آیا واجب تھا یا مستحب ؟
المجادلہ : ١٣ میں فرمایا : کیا تم اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ کرنے سے گھبرا گئے، پس جب تم نے (صدقہ) نہ کیا اور اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرما لی۔ الایۃ
بعض علماء نے کہا، اس آیت میں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ دنیے کا امرا اور حکم دیا ہے اور امر وجوب کے لئے آتا ہے، اس کا معنی یہ ہوا کہ یہ صدقہ کرنا واجب ہے اور دوسرے علماء نے کہا ہے کہ یہ صدقہ واجب نہیں ہے مستحب ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : یہ تمہارے لئے بہت اچھا اور نہایت پاکیزہ ہے اور اس قسم کے الفاظ نفلی کام کے لئے آتے ہیں، واجب کے لئے نہیں آتے اور تحقیق یہ ہے کہ صدقہ کرنا شروع میں واجب تھا، بعد میں اس کا وجوب منسوخ ہوگیا۔ کلبی نے کہا، یہ صرف دن کی ایک ساعت میں واجب رہا، پھر اس کا وجوب منسوخ ہوگیا اور مقاتل بن حیان نے کہا : دس دن تک یہ حکم واجب رہا، پھر اس کا وجوب منسوخ ہوگیا۔ (تفسیر کبیرج ١٠ ص ٤٩٥، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)
حضرت علی (رض) کی وجہ سے امت کو تخفیف حاصل ہونا
علی بن علقمتہ الانماری بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے فرمایا : جب یہ آیت نازل ہوئی :
” یایھا الذین امنوآاذا ناجیتم الرسول “ (المجادلہ : ١٢) تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے لوگ ایک دینار صدقہ کریں گے ؟ میں نے کہا : وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے، آپ نے فرمایا : نصف دینار ؟ میں نے کہا : وہ اس کی بھی طاقت نہیں رکھتے، آپ نے پوچھا، پھر لوگ کس کی طاقت رکھتے ہیں ؟ میں نے کہا، (کچھ) جو کی، آپ نے فرمایا : تم تو بہت زاہد ہو، پھر یہ آیت نازل ہوگئی :
(المجادلہ : ١٣) کیا تم اپنی سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ کرنے سے گھبرا گئے۔
حضرت علی نے فرمایا : پس میرے سبب سے اللہ تعالیٰ نے اس امت سے تخفیف کردی۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣٠٠)
اکابر صحابہ کا آپ سے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ نہ کرنا، آیا ان کے حق میں کسی طعن یا …نقص کا موجب ہے ؟
اکثر روایات میں مذکور ہے کہ صرف حضرت علی (رض) نے آپ سے سرگوشی کرنے سے پہلے ایک دینار صدقہ دیا تھا، اس کے بعد اس حکم پر عمل کرنے کی رخصت نازل ہوگئی اور اس حکم پر عمل کرنا منسوخ ہوگیا اور یہ بھی مروی ہے کہ اکابر صحابہ نے اس حکم پر عمل کرنے کا وقت پایا لیکن اس حکمل پر عمل نہیں کیا اور اس سے اکابر صحابہ پر طعن ہوتا یہ۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اس حکم پر افاضل صحابہ نے اس لئے عمل نہیں کیا کہ فقراء مسلمین آپ سے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے، اس لئے اس حکمل پر عمل کرنا ان کے لئے مشکل تھا اور جو مسلمان غنی تھے ان کے دلوں میں اس کی وجہ سے وحشت پیدا ہوتی تھی، اگر وہ صدقہ نہ کرتے اور دوسرے صدقہ دیتے تو ان پر طعن ہوتا، لہٰذا فقراء کے لئے اس حکم پر عمل کرنا مشکل تھا اور اغنیاء کے لئے اس حکم پر عمل سے توحش ہوتا تھا اور ہر مسلمان کے لئے آپ سے سرگوشی کرنا واجب نہ تھا اور سرگوشی نہ کرنے سے ان کا کوئی نقصان نہ تھا اور نہ ہی سرگوشی کرنا کوئی مستحب کام تھا، بلکہ جس طرح حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ کرنے کا حکم اسی لئے دیا تھا کہ مسلمان سرگوشی کرنا ترک کردیں، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اور بہت مصروفیات تھیں، آپ کا صرف یہی کام نہیں تھا کہ آپ سرگوشیوں کا جواب دیتے رہیں، آپ نے احکام شرعیہ کی تبلیغ کرنی تھی، قرآن مجید کو لکھوانا اور یاد کرانا تھا، کفار سے جہا کے لئے لشکروں کو بھیجنا تھا، مختلف عبادات کرنی تھیں اور مصالح امت پر غور و فکر کرنا تھا، اس لئے سرگوشی سے پہلے صدقہ کرنے کے حکم کا منشاء ہی یہ تھا کہ مسلمان آپ سے سرگوشیاں کرنا ترک کردیں اور اکابر صحابہ اس منشاء سے آگاہ تھے، اس لئے انہوں نے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ نہیں دیا اور انہوں نے جو اس حکم پر عمل نہیں کیا تو اس سے ان پر کوئی طعن وارد نہیں ہوتا، نہ اس سے ان کی فضیلت میں کوئی کمی ہوتی ہے، بلکہ ان کے اس پر عمل نہ کرنے میں ان کی یہ فضیلت ہے کہ وہ قرآن کے اسرار اور رموز سے سب سے زیادہ آگاہ تھے اور وہ منشاء قرآن کو جاننے والے تھے۔
القرآن – سورۃ نمبر 58 المجادلة آیت نمبر 13