اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِؕ مَا يَكُوۡنُ مِنۡ نَّجۡوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَاۤ اَدۡنٰى مِنۡ ذٰ لِكَ وَلَاۤ اَكۡثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ اَيۡنَ مَا كَانُوۡاۚ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ سورۃ نمبر 58 المجادلة آیت نمبر 7
sulemansubhani نے Friday، 22 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِؕ مَا يَكُوۡنُ مِنۡ نَّجۡوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَاۤ اَدۡنٰى مِنۡ ذٰ لِكَ وَلَاۤ اَكۡثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ اَيۡنَ مَا كَانُوۡاۚ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ ۞
ترجمہ:
(اے مخاطب ! ) کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے۔ تین میں جو بھی سرگوشی ہو ‘ چوتھا اللہ ان کے ساتھ ہے اور پانچ میں جو بھی سرگوشی ہو ‘ چھٹا اللہ ان کے ساتھ ہے ‘ خواہ وہ اس سے کم ہوں یا زیادہ اللہ ان کے ساتھ ہے وہ جہاں کہیں بھی ہوں ‘ پھر قیامت کے دن اللہ ان کو ان کے کئے ہوئے کاموں کی خبر دے گا ‘ بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اے مخاطب ! ) کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے۔ تین میں سے جو کچھ بھی سرگوشی ہو ‘ چوتھا اللہ ان کے ساتھ ہے اور پانچ میں جو کچھ بھی سرگوشی ہو چھٹا اللہ ان کے ساتھ ہے ‘ خواہ وہ اس سے کم ہوں یا زیادہ ‘ اللہ ان کے ساتھ ہے۔ وہ جہاں کہیں بھی ہوں ‘ پھر قیامت کے دن اللہ ان کو ان کے کئے ہوئے کاموں کی خبر دے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ (اے رسول مکرم ! ) کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو بری سرگوشی کرنے سے منع کیا گیا تھا ‘ پھر وہ اسی کام کی طرف لوٹے جس سے انہیں منع کیا گیا تھا اور وہ گناہ ‘ سرکشی اور رسول کی نافرمانی کرنے کی سرگوشی کرتے ہیں اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو ان الفاظ کے ساتھ آپ کو سلام کرتے ہیں جن الفاظ کے ساتھ اللہ نے آپ کو سلام نہیں بھیجا اور وہ اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہمارے اس قول پر اللہ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا ‘ ان کے لئے دوزخ کافی ہے وہ اسی میں داخل ہوں گے اور کیسا برا ٹھکانا ہے۔ (المجادلہ ٨۔ ٧)
اللہ تعالیٰ کا سرگوشیوں پر مطلع ہونا
اس سے پہلی آیت میں فرمایا تھا : اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا ہے ‘ یعنی اس کو ہر چیز کا علم ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے اور اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کی وسعت کو بیان فرمایا ہے کہ اس کو تمام آسمانوں اور زمینوں اور ان کے درمیان کی چیزوں کا علم ہے اور وہ تمام لوگوں کی باتیں سنتا ہے اور ان کی پوشیدہ باتوں اور آپس کی سرگوشیوں کو سنتا ہے اور اس کے فرشتے بھی لوگوں کی سرگوشیوں کو لکھتے رہتے ہیں ‘ سو کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے۔ قرآن مجید میں ہے :
ترجمہ : (التوبہ : ٧٨)… کیا ان کو یہ علم نہیں کہ بیشک اللہ ان کی راز کی باتوں کو اور ان کی سرگوشیوں کو خوب جانتا ہے اور بیشک اللہ تمام غیبوں کو بہت زیادہ جاننے والا ہے۔
ترجمہ (الزخرف : ٨٠)… یا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان کی راز کی باتوں کو اور ان کی سرگوشیوں کو نہیں سنتے ‘ کیوں نہیں ! اور ہمارے فرشتے ان کے پاس لکھتے رہتے ہیں۔
اور فرمایا : تین میں جو کچھ بھی سرگوشی ہو چوتھا اللہ ان کے ساتھ ہے ‘ اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود اور اس کا شخص اور اس کی ذات ان کے ساتھ ہے بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ اس کا علم ان کے ساتھ ہے اور وہ ان کو دیکھتا ہے اور ان کی سرگوشیوں کو سنتا ہے۔ اللہ سبحانہ ‘ و تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کے تمام احوال پر مطلع ہے اور اس کا علم ہر چیز اور ہرحال کو محیط ہے ‘ اسی لئے فرمایا :؎ اللہ ان کے ساتھ ہے وہ جہاں کہیں بھی ہوں ‘ پھر قیامت کے دن ‘ اللہ ان کو ان کے کئے ہوئے تمام کاموں کی خبر دے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
تین اور پانچ سرگوشیاں کرنے والوں کی تخصیص کی وجہ
اس آیت میں تین سرگوشی کرنے والوں اور پانچ سرگوشی کرنے والوں کا ذکر کیا ہے ‘ دو اور چار سرگوشی کرنے والوں کا ذکر نہیں فرمایا ‘ حالانکہ کم از کم سرگوشی کرنے والے دو ہوتے ہیں ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو طاق عدد محبوب ہے ‘ حدیث میں ہے :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
ان اللہ و تریحب الوتر…( ترجمہ) بیشک اللہ فرد ہے اور فرد کو پسند کرتا ہے۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٤١٠‘ صحیح مسلم : ٢٦٧٧)
اور کم از کم طاق عدد واحد ہے اور ایک شخص اپنے نفس سے تو سرگوشی کر نہیں سکتا ‘ پس سرگوشی کرنے والوں کا کم از کم طاق عدد تین ہوگا اور اس کے بعد طاق عدد پانچ ہوگا اس وجہ سے تین سرگوشی کرنے والوں اور پانچ سرگوشی کرنے والوں کا ذکر فرمایا۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ جو منافقین مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے کے لئے سرگوشیاں کرتے تھے ان کا عدد تین ہوتا تھا یا پانچ ہوتا تھا ‘ اس وجہ سے تین سرگوشیاں کرنے والوں اور پانچ سرگوشیاں کرنے والوں کا ذکر فرمایا۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 58 المجادلة آیت نمبر 7