أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ تَوَلَّوۡا قَوۡمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمؕۡ مَّا هُمۡ مِّنۡكُمۡ وَلَا مِنۡهُمۡۙ وَيَحۡلِفُوۡنَ عَلَى الۡكَذِبِ وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے ان لوگوں سے دوستی رکھی جن پر اللہ نے غضب فرمایا، وہ نہ تم میں سے ہیں نہ ان میں سے ہیں اور وہ دانستہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے ان لوگوں سے دوستی رکھی جن پر اللہ نے غضب فرمایا، وہ نہ تم میں سے ہیں نہ ان میں سے ہیں اور وہ دانستہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں۔ اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے، بیشک وہ بہت برے کام کیا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی جھوٹی قسموں کو ڈھال بنا لیا، پھر لوگوں کو اللہ کے راستہ سے روکا، سو ان کے لئے سخت ذلت والا عذاب ہے۔ (المجادلہ :14-16)

المجادلہ : ١٤ کا شان نزول

قتادہ نے کہا، ان لوگوں سے مراد منافقین ہیں جو یہود سے محبت ر کھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ منفاقین نہ مسلمانوں میں سے ہیں نہ یہود میں سے ہیں، یعنی وہ دونوں کے درمیان مذبذب ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے منافقین کے متعلق فرمایا :

(النسائ : ١٤٣) وہ درمیان میں ڈگمگا رہے ہیں نہ پورے ان کی طرف نہ مکمل ان کی طرف۔

سدی اور مقال نے کہا : یہ آیت خصوصاً عبداللہ بن نبتل منافق کے متعلق نازل ہوئی ہے، وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں بیٹھتا تھا، پھر آپ کی باتیں یہود تک پہنچا دیتا تھا، ایک دفعہ آپ اپنے کسی حجرے میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے فرمایا : ابھی تمہارے پاس ایک ایسا شخص آئے گا جس کا دل ظالم ہے اور وہ شیطان کی آنکھوں سے دیکھتا ہے، پس عبد اللہ نبتل آیا، اس کی آنکھیں نیلی تھیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : تم اور تمہارے اصحاب کس وجہ یس مجھے برا کہتے ہو ؟ اس نے اللہ کی قسم کھا کر کہا : اس نے ایسا نہیں کیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے ایسا کیا ہے، پھر وہ وہاں سے گیا اور اپنے اصحاب کو لے کر آیا اور ان سب نے اللہ کی قسم کھا کر کہا : انہوں نے آپ کو برا نہیں کہا، تب اللہ سبحانہ نے ان کے رد میں اس آیت کو نازل فرمایا۔ (زاد المسیرج ٨ ص 196، الکشف و لبیان ج ٩ ص 263 الجامع لاحکام القرآن، جز ١٧ ص 272 تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص 360)

امام احمد اور امام حاکم نے اس واقعہ کو حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے۔ (مسند احمد ج ۃ ص 240 المستدرک ج ٢ ص 482)

اس آیت میں فرمایا ہے : جنہوں نے ان لوگوں سے دوستی رکھی، جن پر اللہ نے غضب فرمایا۔

اس سے مراد یہود ہیں جن پر اللہ نے غضب فرمایا ہے، قرآن مجید میں یہود کے متعلق ہے :

(المائدہ : ٦٠) جن پر لعنت کی اور ان پر غضب ناک ہوا اور ان میں سے بعض کو بندہ اور خنزیر بنادیا۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 58 المجادلة آیت نمبر 14