اِنَّمَا النَّجۡوٰى مِنَ الشَّيۡطٰنِ لِيَحۡزُنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَيۡسَ بِضَآرِّهِمۡ شَيۡئًـا اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰهِؕ وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ – سورۃ نمبر 58 المجادلة آیت نمبر 10
sulemansubhani نے Friday، 22 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنَّمَا النَّجۡوٰى مِنَ الشَّيۡطٰنِ لِيَحۡزُنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَيۡسَ بِضَآرِّهِمۡ شَيۡئًـا اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰهِؕ وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۞
ترجمہ:
سرگوشی تو صرف شیطان کی طرف سے ہوتی ہے تاکہ وہ ایمان والوں کو غمگین کرے اور وہ اللہ کے اذن کے بغیر ایمان والوں کو کسی قسم کا نقصان پہنچانے والا نہیں ہے اور مومنوں کو اللہ پر ہی توکل کرنا چاہیے
مجلس میں ایک آدمی کو چھوڑ کر باقیوں کا سرگوشیاں کرنا منع ہے
المجادلہ : ١٠ میں فرمایا : سرگوشی تو صرف شیطان کی طرف سے ہوتی ہے تاکہ وہ ایمان والوں کو غمگین کرے اور وہ اللہ کے اذن کے بغیر کسی قسم کا نقصان پہنچانخے والے نہیں ہیں اور مومنوں کو اللہ پر ہی توکل کرنا چاہیے۔
اس آیت کا معنی یہ ہے کہ شیطان منافقین کو اس پر برانگیختہ کرتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے اس طرح سرگوشیاں کیا کریں جس سے مسلمان فکر ‘ تشویش اور غم میں مبتلا ہوں۔ اس لئے کہ جب مسلمان منافقوں کو ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرتے ہوئے دیکھیں گے تو یہ گمان کریں گے کہ شاید ان کو یہ خبر پہنچی ہے کہ ہمارے بھائی اور رشتہ دار جو جہاد میں گئے ہوئے تھے وہ قتل ہوگئے ہیں یا شکست کھا گئے ہیں اور اس وجہ سے وہ تشویش اور غم میں مبتلا ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ ان کا رد کرتے ہوئے فرماتا ہے : ان کی سرگوشیوں سے مسلمانوں کو کوئی ضرر نہیں پہنچے گا کیونکہ اللہ کے اذن کے بغیر شیطان کسی کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتا۔ مخلوق کو جو بھی ضرر یا نفع پہنچتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے ‘ وہی اپنے علم کے تقاضے اور اپنی مثیت سے مخلوق کو بیماریوں اور مصائب میں مبتلا کرتا ہے یا ان کو صحت ‘ شفاء اور راحت عطا کرتا ہے اور مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ کسی قسم کا تردد اور فکر نہ کریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں اور جو اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے وہ مایوس اور نامراد نہیں ہوتا۔
اس آیت کی تفسیر میں یہ کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ جب تین مسلمان ہوں تو ایسا نہ کریں کہ ایک کو چھوڑ کردو مسلمان آپس میں سرگوشی کرنا شروع کردیں۔ اس سے تیسرا مسلمان اس تشویش میں مبتلا ہوگا کہ شاید یہ میرے خلاف کوئی بات کررہے ہیں۔ اسی حکم میں یہ بھی ہے کہ تین آدمیوں میں سے ایک آدمی پشتو یا گجراتی نہیں جانتا اور وہ آدمی آپس میں پشتو یا گجراتی میں بات کرنا شروع کردیں تو اس سے وہ تیسرا خواہ مخواہ اس بدگمانی میں مبتلا ہوگا کہ شاید یہ میرے خلاف یا میرے متعلق کوئی بات کررہے ہیں ‘ حدیث میں ہے :
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک آدمی کے سامنے دو آدمی آپس میں سرگوشی نہ کریں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٢٨٨‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٨٣‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٧٧٦‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ٨ ص ٥٨١‘ مسند احمد ج ٢ ص ٤٥‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٥٨٠)
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم تین افراد ہو تو ایک کو چھوڑ کردو آدمی باہم سرگوشی نہ کریں ‘ حتیٰ کہ تم اس کو تشویش اور غم میں مبتلا کرو ‘ تم لوگوں سے میل جول رکھو۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٢٩٠‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٨٤‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٨٥١‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٨٢٥‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٨٨٥‘ مسند احمد ج ١ ص ٣٧٥‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٥٨٣)
ان احادیث میں عدد کی خصوصیت مراد نہیں ہے ‘ لہٰذا چار آدمیوں میں سے ایک کو چھوڑ کر تین آدمی سرگوشیاں نہ کریں ‘ اسی طرح دس آدمی ایک کو چھوڑ کر آپس میں پشتو یا سندھی میں بات نہ شروع کردیں۔ اس لئے جب مجلس میں بہت آدمی ہوں تو اس زبان میں بات کریں جو سب کو آتی ہو اور مجلس میں سے کسی ایک آدمی کے بھی غم اور تشویش میں مبتلا ہونے کا سبب نہ بنیں۔ بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ یہ حکم ابتداء اسلام میں تھا ‘ جب منافقین مسلمانوں سے ہٹ کر آپس میں سرگوشیاں کرتے تھے اور جب اسلام کا غلبہ ہوگیا تو یہ حکم ساقط ہوگیا اور بعض علماء نے کہا : یہ حکم سفر کے ساتھ خاص ہے کیونکہ سفر کے دوران مسلمان اجنبی مقام میں ہوتے ہیں اور وہاں یہ خطرہ ہوتا ہے کہ جب لوگ اس کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی کررہے ہوں تو وہ مسلمان یہ گمان کرسکتا ہے کہ کہیں وہ اس کو لوٹ کر قتل کرنے کی سازش نہ کررہے ہوں لیکن آبادی میں اور اپنے وطن میں یہ خطرہ نہیں ہوتا لیکن صحیح یہ ہے کہ اس آیت کو حکم اب بھی باقی ہے اور اس کے خلاف کوئی آیت یا حدیث مشہور نہیں ہے اور اس کو محض قیاس سے منسوخ قرار دینا صحیح نہیں ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 58 المجادلة آیت نمبر 10