اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحَآدُّوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ كُبِتُوۡا كَمَا كُبِتَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ وَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ ؕ وَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ سورۃ نمبر 58 المجادلة آیت نمبر 5
sulemansubhani نے Friday، 22 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحَآدُّوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ كُبِتُوۡا كَمَا كُبِتَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ وَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ ؕ وَ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ۞
ترجمہ:
بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے عداوت رکھتے ہیں وہ اسی طرح رسوا کئے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ رسوا کئے گئے تھے اور بیشک ہم نے واضح آیات نازل فرمائیں اور کافروں کے لئے ذلت والا عذاب ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے عداوت رکھتے ہیں اور اس طرح رسوا کئے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ رسوا کئے گئے تھے اور بیشک ہم نے واضح آیات نازل فرمائیں اور کافروں کے لئے ذلت والا عذاب ہے۔ جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا ‘ پھر انہیں ان کے کئے ہوئے کاموں کی خبر دے گا ‘ جن کاموں کو اللہ نے محفوظ فرما لیا ہے اور وہ ان کو بھول چکے ہیں اور اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا ہے۔ (المجادلہ : ٦۔ ٥)
” یحادون “ کا معنی اور کفارہ کی دنیا اور آخرت میں رسوائی
المجادلہ : ٥ مایں ” یحادون “ کا لفظ ہے ‘ اس کا مدہ ” الحادۃ “ ہے اور اس کا معنی ممانعت ہے۔ اسی وجہ سے دربان کو حداد کہا جاتا ہے کیونکہ وہ لوگوں کو بلا اجازت داخل ہونے سے منع کرتا ہے۔ ابو مسلم اصہانی نے کہا : ” الحادۃ “ میں حدید کو باب مفاعلہ سے لایا گیا ہے۔ اس کا معنی ہے : لوہے کے ہتھیاروں سے ایک دوسرے سے مقابلہ کرنا ‘ خواہ یہ حقیقتاً ہو یا مجازاً ہو یعنی ایک دوسرے سے شدید مناقشت اور مخاصمت رکھنا اور مفسرین نے کہا ہے کہ ” یحادون “ کا معنی ہے : وہ عداوت رکھتے ہیں اور مخالفت کرتے ہیں اور یہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے اولیاء سے جنگ کرتے ہیں اور ان کی تکذیب کرکے اور ان کو اللہ تعالیٰ کے دین سے روک کر ان کی مخالفت کرتے ہیں اس کو اللہ تعالیٰ سے مخالفت کرنا قرار دیا ہے۔
اور یہ عداوت کرنے والے منافقین ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرتے تھے اور آپ کے خلاف سازشیں کرتے تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد تمام کفار ہوں۔ سو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ خبر دی کہ ان کو اس طرح رسوا کیا جائے گا جس طرح ان سے پہلے رسولوں کے دشمنوں کو رسوا کیا گیا تھا اور بیشک اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے صدق پر واضح دلائل بیان کرچکا ہے اور قومی معجزات نازل فرما چکا ہے اور ان عداوت رکھنے والے منافقوں اور کافروں کے لئے دنیا میں ذلت اور رسوائی ہوگی اور آخرت میں بھی ان کو رسوا کرنے والا سخت عذاب ہوگا۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 58 المجادلة آیت نمبر 5