وَالَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡ نِّسَآئِهِمۡ ثُمَّ يَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا فَتَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّتَمَآسَّا ؕ ذٰ لِكُمۡ تُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ سورۃ نمبر 58 المجادلة آیت نمبر 3
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَالَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡ نِّسَآئِهِمۡ ثُمَّ يَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا فَتَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّتَمَآسَّا ؕ ذٰ لِكُمۡ تُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ ۞
ترجمہ:
اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرلیں ‘ پھر عمل زوجیت کے لئے لوٹنا چاہیں جس کے متعلق وہ اتنی سخت بات کہہ چکے ہیں تو ان پر عمل زوجیت سے پہلے ایک غلام کو آزاد کرنا ہے ‘ یہ وہ چیز ہے جس کی تم کو نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ تمہارے کاموں کی خوب خبر رکھنے والا ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جو لوگ اپنی بیوی سے ظہار کرلیں ‘ پھر عمل زوجیت کے لئے لوٹنا چاہیں ‘ جس کے متعلق وہ اتنی سخت بات کہہ چکے ہیں تو ان پر عمل زوجیت سے پہلے ایک غلام کو آزاد کرنا ہے ‘ یہ وہ چیز ہے جس کی تم کو نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ تمہارے کاموں کی خوب خبر رکھنے والا ہے۔ پس جو غلام کو نہ پائے تو اس پر عمل زوجیت سے پہلے دو ماہ کے لگاتار روزے رکھنا ہیں۔ پس جو روزوں کی طاقت نہ رکھے تو اس پر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے ‘ یہ حکم اس لیے ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان برقرار رکھو اور یہ اللہ کی حدود ہیں اور کافروں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ (المجادلہ : ٤۔ ٣)
کفار ظہار کے متعلق احادیث
حضرت خویلہ بنت مالک بن ثعلبہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ مجھ سے میرے خاوند حضرت اوس بن الصامت (رض) نے ظہار کرلیا۔ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس بات کی شکایت کرنے کے لئے گئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ سے تکرار کرتے رہے اور فرماتے رہے : تم اللہ سے ڈرو۔ “ وہ تمہارا غم زاد ہے۔ میں اسی طرح بحث کرتی رہی ‘ حتیٰ کہ قرآن مجید کی یہ آیتیں نازل ہوئیں : ” قد سمع اللہ قول التی تجادلک فی زوجھا “ (المجادلہ : ٤۔ ١) تب آپ نے فرمایا : اس سے کہو : وہ ایک غلام کو آزاد کردے۔ حضرت خولہ نے کہا : وہ اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ آپ نے فرمایا : پھر وہ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔ حضرت خولہ نے کہا : وہ بہت بوڑھا ہے روزوں کی طاقت نہیں رکھتا۔ آپ نے فرمایا : پھر وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ حضرت خولہ نے کہا : اس کے پاس تو صدقہ کرنے کے لئے بالکل مال نہیں ہے۔ حضرت خولہ نے کہا : پھر آپ کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا آیا ‘ میں نے کہا : یا رسول اللہ ! میں اس کی ایک اور ٹکرے سے مدد کروں گی۔ آپ نے فرمایا : تم نے اچھا کیا ‘ جائو ! اس ٹوکرے سے اس کی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو کھلائو اور پھر اپنے عم زاد کی طرف لوٹ جائو۔ امام ابودائود نے کہا : اس ٹوکرے میں ساٹھ صاع (دو سو چالیس کلو گرام) کھجوریں تھیں۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٢١٤)
امام ابو دائود نے ایک اور حدیث روایت کی ہے۔ اس میں حضرت سلمہ بنت صخر (رض) کا اسی قسم کا واقعہ ہے۔ انہوں نے بھی کفارہ ظہار ادا کرنا تھا اور ان کے پاس بھی مال تھا نہ وہ روزوں کی طاقت رکھتی تھیں۔ آپ نے ان سے فرمایا : بنوزریق سے صدقہ کا مال لے کر ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو ۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٢١٣‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ١١٩٨‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٠٦٢ )
حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت اوس بن الصامت نے اپنی بیوی حضرت خویلہ بنت ثعلبہ (رض) سے ظہار کیا۔ انہوں نے اس کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی۔ سو انہوں نے کہا : جب میں بوڑھی ہوگئی اور میری ہڈی کمزور ہوگئی تو انہوں نے مجھ سے ظہار کرلیا۔ تب اللہ نے آیت ظہار نازل فرمائی۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت اوس سے کہا : تم ایک غلام آزاد کردو ‘ انہوں نے کہا : میرے پاس ایک طاقت نہیں۔ آپ نے فرمایا : پھر تم دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو۔ انہوں نے کہا : جس دن میں دو مرتبہ کھانا نہ کھائو تو میری بصارت کمزور ہوجاتی ہے۔ آپ نے فرمایا : پھر تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائو۔ انہوں نے کہا : میرے پاس اتنا طعام نہیں ہے ‘ البتہ آپ مدد فرمائیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پندرہ صاع کے ساتھ ان کی مدد فرمائی اور اللہ تعالیٰ رحیم ہے ‘ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے (مزید) پندرہ صاع جمع کردیئے اور یوں ساٹھ مسکینوں کا طعام ہوگیا۔
(سنن دارقطنی ج ٣ ص ٣١٥ طبع قدیم ‘ رقم الحدیث : ٣٧٩٣ طبع جدید ‘ دارالمعرفۃ ‘ بیروت ‘ ١٤٢٢ ھ)
ظہار میں فقہاء احناف کا موقف
علامہ ابو الحسن علی بن ابی الحنفی المرغینانی المتوفی ٥٩٣ ھ لکھتے ہیں :
اور کفارہ ظہار ‘ ایک غلام کو آزاد کرنا اور اگر غلام میسر نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے ‘ پس اگر اس کی طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے کیونکہ کفارہ میں اسی ترتیب سے نص وارد ہے اور یہ کفارے عمل زوجیت سے پہلے ادا کئے جائیں اور یہ غلام آزاد کرنے میں اور روزے رکھنے میں تو ظاہر ہے کیونکہ قرآن مجید میں اسی طرح ہے اور کھانا کھلانے میں بھی اسی طرح ہے کیونکہ کھانا کھلانے میں جماع سے منع کیا گیا ہے۔ اس حرمت کی وجہ سے جو ظہار سے ثابت ہے ‘ اس لئے کفارہ کو عمل زوجیت پر مقدم کرنا ضروری ہے تاکہ عمل زوجیت حلال طریقہ سے ہو۔ (الہدایہ مع البنایہ ج ٥ ص ٣٣٧‘ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١١ ھ)
علامہ ابوبکر احمد بن علی الرازی الحنفی الجصاص المتوفی ٣٧٠ ھ لکھتے ہیں :
ظہار کرنے والے کے متعلق اختلاف ہے۔ کیا وہ کھانا کھلانے سے پہلے جماع کرسکتا ہے ؟ پس ہمارے اصحاب (احناف) اور امام مالک اور مام شافعی نے کہا : اس وقت تک جماع نہ کرے حتیٰ کہ کھانا کھلا دے جبکہ اس پر کھانا کھلانا فرض ہو اور جو ظہار کرنے والا روزہ رکھنے سے عاجز ہو اس سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک وہ کفارہ نہ دے ‘ جماع نہ کرے۔
(احکام القرآن ج ٣ ص ٤٢٧۔ ٤٢٦‘ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور)
تاہم علامہ المرغینانی الحنفی نے لکھا ہے کہ کھانا کھلانے سے پہلے تو مظاہر جماع نہیں کرسکتا لیکن کھانا کھلانے کے درمیان جماع کرسکتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
اگر مظاہر دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ رہا ہو اور دو ماہ کے درمیان اس نے بیوی سے جماع کرلیا تو ازسر نو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے گا اور جب دو ماہ کے مسلسل روزے نہ رکھ سکتا ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے گا اور ہر مسکین کو نصف صاع (دو کلو) گندم یا ایک صاع (چار کلو) کھجور یا ایک صاع جو یا ان کی قیمت ادا کرے گا اور اگر اس نے ایک مسکین کو ساٹھ دن کھلایا تو اس کے لئے کافی ہوگا اور اگر اس نے ایک مسکین کو ایک دن میں ساٹھ مسکینوں کا طعام دے دیا تو یہ صرف ایک مسکین کا کفارہ ہوگا اور اگر مظاہر نے کھانا کھلانے کے دوران اپنی بیوی سے جماع کرلیا تو اس کو یہ کفارہ دہرانا نہیں پڑے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے غلام آزاد کرنے اور ساٹھ مسلسل روزوں میں یہ قید لگائی ہے کہ یہ کفارہ جماع کرنے سے پہلے ادا کریں اور کھانا کھلانے میں یہ قید نہیں لگائی کہ جماع کرنے سے پہلے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائیں۔ اس لئے یہ کفارہ اپنے اطلاق پر رہے گا اور کھانا کھلانے کے درمیان وہ جماع کرسکتا ہے۔
(ہدایہ مع نصب الرایہ ج ٣ ص ٣٥٩۔ ٣٥٨‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٦ ھ ‘ المحیط البرہانی ج ٥ ص ١٩٣۔ ١٩٢‘ ادارۃ القرآن ‘ ١٤٢٤ ھ)
ظہار میں فقہاء حنبلیہ کا موقف
علامہ موفق الدین عبداللہ بن احمد بن قدامہ حنبلی متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں :
کھانا کھلانے میں تسلسل ضروری نہیں ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس میں تسلسل کی قیدڈ نہیں لگائی ‘ پس اگر مظاہر نے کھانا کھلانے کے دوران اپنی بیوی سے جماع کرلیا تو اس پر از سر نو کھانا کھلانا واجب نہیں ہوگا۔
(المغنی مع الشرح الکبیر ج ٦٠٨‘ دارالفکر ‘ بیروت)
ظہار میں فقہاء مالکیہ کا موقف
امام مالک بن انس متوفی ١٧٩ ھ فرماتے ہیں :
جس شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا ‘ پس ایک ماہ کے روے رکھے ‘ پھر رات کو اپنی بیوی سے جماع کرلیا تو وہ از سر نو روزے رکھے گا اور پچھلے روزوں پر بنا نہیں کرے۔ اسی طرح کھانا کھلانے والے کا حکم ہے ‘ اگر ساٹھ مسکینوں میں سے ایک مسکین بھی رہتا ہو اور وہ اپنی بیوی سے جماع کرلے تو اس کو ازسر نو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا۔
(المدینۃ الکبریٰ ج ٣ ص ٨٢‘ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)
علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمدمال کی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :
حضرت اوس بن الصامت (رض) کی حدیث میں ہے کہ جب انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خبر دی کہ انہوں نے اپنی بیوی سے جماع کرلیا ہے تو آپ نے ان کو کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا اور یہ صاف تصریح ہے ‘ جو غلام آزاد کرنے کا کفارہ ہو یا روزہ رکھنے کا یا کھانا کھلانے کا اور امام ابوحنیفہ نے کہا : اگر اس کا کفارہ کھانا کھلانا ہ، تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ جماع کرے پھر کھانا کھلائے۔
(الجامع لاحکام القرآن جز ١٧ ص ٢٥٤‘ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)
میں کہتا ہوں کہ علامہ قرطبی (رح) نے امام اظعم ابوحنیفہ (رض) کا موقف صحیح نقل نہیں کیا۔ امام اعظم کے نزدیک کھانا کھلانے سے پہلے اپنی بیوی سے جماع کرنا حلال نہیں ہے ‘ جیسا کہ ” ہدایہ “ اور ” محیط برھانی “ کے حوالوں سے گزر چکا ہے۔ البتہ ان کے نزدیک کھانا کھلانے کے درمیان اپنی بیوی سے جماع کرنا جائز ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے غلام آزاد کرنے اور روزوں کے ساتھ یہ قید لگائی ہے کہ جماع کرنے سے پہلے یہ کفارہ ادا کرے اور کھانا کھلانے کے ساتھ کفارہ کو مطلق رکھا ہے ‘ اس کے ساتھ یہ قید نہیں لگائی۔
ظہار میں فقہاء شافعیہ کا موقف
علامہ ابو الحسن علی بن محمد الماوردی الشافعی المتوفی ٤٥٠ ھ لکھتے ہیں :
امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے سے پہلے جماع کرنا اسی طرح حرام ہے جس طرح غلام آزاد کرنے اور ساٹھ روزے رکھنے سے پہلے جماع کرنا حرام ہے کیونکہ یہ تینوں کفارہ ظہار ہیں اور جب مطلق ‘ مقید کی جنس سے ہو تو مطلق کو مقید پر محمول کردیا جاتا ہے ‘ جیسے شہادت میں ہے ‘ انتہی کلامہ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
ترجمہ : (الطلاق : ٢)… تم اپنوں میں دو نیک آدمیوں کو گواہ بنائو۔
اس آیت میں گواہ بنانے کو نیک آدمیوں کے ساتھ مقید کیا ہے اور دوسری آیت میں گواہ بنانے کو مطلق رکھا ہے۔ فرمایا :
ترجمہ : (البقرہ : ٢٨٢)… تم اپنے مردوں میں سے دو گواہ بنائو۔
امام فخر الدین رازی شافعی متوفی ٦٠٦ ھ ‘ علامہ ابو عبداللہ قرطبی مالکی متوفی ٦٦٨ ھ ‘ علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ اور محمد بن علی بن محمد شوکانی ظاہری نے کہا : البقرہ : ٢٨٢ میں مطلق گواہوں سے مراد عادل گواہ ہیں ‘ جیسا کہ الطلاق : ٢ میں ہے۔
(تفسیر کبیر ج ٣ ص ٩٥‘ الجامع لاحکام القرآن جز ٢ ص ٣٥٤‘ روح المعانی جز ٣ ص ٩٤‘ فتح القدیر ج ١ ص ٥٠٨)
علامہ الماوردی المتوفی ٤٥٠ ھ لکھتے ہیں :
اور اس لئے کہ جب ایک مقید پر مطلق کو محمول کرنا واجب ہے تو دو مقیدوں پر مطلق کو محمول کرنا بطریق اولیٰ واجب ہوگا اور زیادہ موکد ہوگا اور کفارہ ظہار میں یہ قید ہے کہ جماع کرنے سے پہلے غلام آزاد کیا جائے اور دو ماہ کے روزوں کا زمانہ طویل ہے ‘ پھر بھی یہ قید ہے کہ جماع کرنے سے پہلے دو ماہ کے روزے رکھے جائیں تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے میں بھی یہ قید ملحوظ ہوگی کہ جماع کرنے سے پہلے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے اور جبکہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا زمانہ ساٹھ روزوں سے بہت کم ہے تو اس میں قید کے اعتبار کرنے کا زیادہ حق ہے۔
(الحادی الکبیر ج ١٣ ص ٤٤٧۔ ٤٤٦‘ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٤ ھ ‘ تکملہ مجموع شرح المہذب ج ٢١ ص ٢٨٤ ذ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٢٣ ھ)
فقہاء شافعیہ کی دلیل کا جواب
علامہ کمال الدین محمد بن عبدالواحد ابن الھمام الحنفی المتوفی ٧٦١ ھ اس دلیل کے جواب میں لکھتے ہیں :
مطلق کو مقید پر محمول کرنے کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ مطلق مقید کی جنس سے ہو اور دونوں کا تعلق ایک واقعہ سے ہو ‘ جیسے یہاں پر غلام آزاد کرنا اور ساٹھ روزے رکھنا ‘ دونوں اس قید سے مقید ہیں کہ ان سے پہلے جماع نہ کیا جائے اور اس کے بعد ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا ذکر ہے اور اس میں یہ قید نہیں ہے کہ اس سے پہلے جماع نہ کیا جائے اور یہ مطلق ہے اور یہ بھی مقید کی جنس سے ہے یعنی کفارہ ظہار ہے لیکن مطلق کو مقید پر محمول کرنے کے لئے یہ کافی نہیں ہے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ دونوں کا حکم بھی ایک ہو جیسا کہ اس صورت میں ہے۔
مطلق کو مقید پر محمول کرنے کا ضابطہ
ترجمہ : (المائدہ : ٨٩)… (پس جو شخص کفارہ قسم میں غلام آزاد کرنے کی طاقت نہ رکھے) تو وہ تین دن کے روزے رکھے۔
علامہ ابو عبداللہ مالکی قرطبی لکھتے ہیں :
حضرت ابن مسعود (رض) کی قرات میں ” ثلاثۃ ایام “ کے بعد ” منتابعات “ کی بھی قید ہے ‘ یعنی تین دن کے مسلسل روزے رکھے اور المائدہ : ٨٩ میں مطلقاً تین دن روزے رکھنے کا حکم ہے اور حضرت ابن مسعود کی قرات میں چونکہ تسلسل کی قید ہے ‘ اس لئے اس مطلق کو مقید کیا جائے گا اور یہی امام ابوحنیفہ اور ثوری کا قول ہے اور امام شافعی کا بھی ایک قول یہی ہے اور یہی مزنی کا مختار ہے۔ انہوں نے کفارہ قسم کے روزوں کو کفارہ ظہار کے روزوں پر قیاس کیا ہے اور حضرت عبداللہ بن مسعود کی قرات سے استدلال کیا ہے۔
(الجامع لا حکام القرآن جز ٦ ص ٢١٧‘ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)
حضرت انس (رض) روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابی بن کعب قرات کرتے تھے : ” فصیام ثلاثۃ ایام متتابعات “ پھر مسلسل تین دن کے روزے رکھے اور مجاہد روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود کی قرات میں تھا :” فصیام ثلاثہ ایام متتابعات “
(جامع البیان رقم الحدیث : ٩٧٥١۔ ٩٧٥٠‘ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)
عطاء ‘ اعمش اور طائوس کہتے ہیں کہ ہمیں حضرت ابن مسعود کی قرات اس طرح پہنچی ہے : فصیام ثلاثہ ایام متتابعات “
(مصنف عبدالرزاق ج ٨ ص ٤٤٣۔ رقم الحدیث : ١٦٣٨٤۔ ١٦٣٨٣۔ ١٦٣٨٢‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ جدید ‘ ١٤٢١ ھ)
ابو العالیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابی قرات کرتے تھے : ” فصیام ثلاثۃ ایام متتابعات “
(السنن الکبری للبیہقی ج ١٠ ص ٦٠‘ ملتان ‘ معرفۃ السنن والاثار للبیہقی ج ٧ ص ٣٢٦‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)
علامہ ابن ھمام حنفی فرماتے ہیں : اس صورت میں مطلق کو مقید پر محمول کرنا واجب ہے کیونکہ یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک ہی چیز کو مطلقاً بھی وجود میں داخل کرنا مطلوب ہو اور اسی چیز کو مقیداً بھی وجود میں داخل کرنا مطلوب ہو کیونکہ کفارہ قسم کے تین روزوں کو بغیر کسی قید کے مطلقاً بھی رکھنے کا حکم ہے اور تسلسل کی قید کے ساتھ بھی رکھنے کا حکم ہے اور یہاں پر ایک ہی واقعہ ہے اور ایک ہی حکم ہے اسی لئے یہاں پر مطلق کو مقید پر محمول کرنا واجب ہے۔ قرآن مجید کی قرات متواترہ میں مطلقاً تین روزے رکھنے کا حکم ہے اور قرات مشہورہ میں تتابع اور تسلسل کی قید ہے اور قرات مشہورہ سے قرآن مجید پر زیادتی جائز ہے۔
(فتح القدیر ج ٤ ص ٢٣٢‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)
ظہار میں غیر مقلدین کا موقف
آئمہ اربعہ اور جمہور فقہاء اور مفسرین نے ” ثم یعودون لما قالوا “ کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ مظاہر جماع کے لئے لوٹنا چاہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ تین کفاروں میں سے کوئی ایک کفارہ دے اور فرقہ ظاہریہ (غیر مقلدین) علماء نے یہ کہا ہے کہ ” ثم یعودون لما قالوا ‘ کا معنی یہ ہے کہ وہ ایک بار اپنی بیوی سے یہ کہنے کے بعد کہ تو میری ماں کی پیٹھ کی مثل ہے ‘ دوبارہ یہی بات کہے کہ تو میری ماں کی پیٹھ کی مثل ہے تو اس پر کفارہ ظہار واجب ہوگا۔
شیخ علی بن احمد بن سعید بن حزم اندلسی متوفی ٤٥٦ ھ لکھتے ہیں :
جس شخص نے اپنی بیوی سے کہا : تو میری ماں کی پیٹھ کی مثل ہے ‘ اس پر کچھ واجب نہیں ہے ‘ نہ اس کی بیوی سے جماع کرنا اس پر حرام ہے حتیٰ کہ وہ اسی بات کو دوبارہ کہے اور جب وہ دوبارہ اسی بات کو کہے گا تو اس پر کفارہ ظہار واجب ہوجائے گا۔
(المحلی بالاثار ج ٩ ص ١٨٩‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٢٥ ھ)
نواب صدیق حسن خاں بھوپالی متوفی ١٣٠٧ ھ (مشہور غیر مقلد عالم) لکھتے ہیں :
فرقہ ظاہریہ کا یہی مسلک ہے۔ (فتح البیان ج ٧ ص ٩‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ)
تبیان القرآن سورۃ نمبر 58 المجادلة آیت نمبر 3