يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا قِيۡلَ لَـكُمۡ تَفَسَّحُوۡا فِى الۡمَجٰلِسِ فَافۡسَحُوۡا يَفۡسَحِ اللّٰهُ لَـكُمۡ ۚ وَاِذَا قِيۡلَ انْشُزُوۡا فَانْشُزُوۡا يَرۡفَعِ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ ۙ وَالَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ دَرَجٰتٍ ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ – سورۃ نمبر 58 المجادلة آیت نمبر 11
sulemansubhani نے Friday، 22 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا قِيۡلَ لَـكُمۡ تَفَسَّحُوۡا فِى الۡمَجٰلِسِ فَافۡسَحُوۡا يَفۡسَحِ اللّٰهُ لَـكُمۡ ۚ وَاِذَا قِيۡلَ انْشُزُوۡا فَانْشُزُوۡا يَرۡفَعِ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ ۙ وَالَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ دَرَجٰتٍ ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ ۞
ترجمہ:
اے ایمان والو ! جب تم سے کہا جائے کہ مجالس میں کشادہ ہو جائو تو کشادہ ہوجایا کرو ‘ اللہ تمہارے لئے کشادگی فرما دے گا اور جب تم سے کہا جائے : کھڑے ہو تو کھڑے ہوجایا کرو ‘ اللہ تم میں سے کامل مومنوں کے اور علم والوں کے درجات بلند فرمائے گا اور اللہ تمہارے تمام کاموں کی بےحد خبر رکھنے والا ہے
حاضرین کو ان کی فضیلت کی وجہ سے صف اول میں بٹھانا
المجادلہ : ١١ میں فرمایا : اے ایمان والو ! جب تم سے کہا جائے کہ کشادہ ہو جائو تو کشادہ ہوجایا کرو ‘ اللہ تمہارے لئے کشادگی فرما دے گا اور جب تم سے کہا جائے کہ کھڑے ہو جائو تو کھڑے ہوجایا کرو۔ الایۃ
اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کاموں سے منع فرمایا تھا جو ایک دوسرے سے بغض اور نفرت کا سبب ہیں اور اس آیت میں ان کاموں کا حکم دیا ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ الفت اور محبت کا سبب ہیں۔
اس آیت میں یہ حکم دیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر نہ بیٹھو ‘ بلکہ کھلے کھلے بیٹھو ‘ تاکہ اگر بعد میں کوئی شخص آئے تو اس کو بھی بیٹھنے کی جگہ مل سکے اور یہ سب صحابہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات سن سکیں اور آپ کی طرف دیکھ سکیں۔
علامہ ابو الحسن علی بن احمد الواحدی المتوفی ٤٦٨ ھ لکھتے ہیں :
مقاتل نے کہا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الصفۃ میں تشریف فرما تھے اور جگہ تنگ تھی اور وہ جمعہ کا دن تھا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مہاجرین اور انصار میں سے شہداء بدر کی تکریم کرتے تھے ‘ پھر حاضرین بدر میں سے کچھ صحابہ آئے اور مجلس میں لوگ پہلے سے آگے بیٹھے ہوئے تھے ‘ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے لوگوں کے پیروں کی جانب کھڑے ہوگئے۔ وہ اس انتظار میں تھے کہ ان کے لئے کشادگی کرکے بیٹھنے کی جگہ بنائی جائے۔ لوگوں نے ان کے بیٹھنے کے لئے جگہ نہیں دی تو یہ چیز نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ناگوار ہوئی تو آپ کے گرد جو غیر بدری صحابہ تھے ‘ آپ نے ان سے فرمایا : فلاں ! تم اٹھو ‘ اے فلاں ! تم اٹھو ‘ اور آپ نے اتنے غیر بدری صحابہ کو اپنے قریب سے اٹھا دیا جتنے بدری صحابہ آئے تھے۔ پس جن لوگوں کو اپنی جگہ سے اٹھایا گیا تھا ان کو یہ اٹھانا ناگوار گزرا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے چہروں سے ناگواری کو بھانپ لیا تو منافقین نے مسلمانوں سے کہا : کیا تمہارا یہ زعم نہیں تھا کہ تمہارے پیغمبر لوگوں کے درمیان عدل اور انصاف کرتے ہیں۔ پس اللہ کی قسم ! انہوں نے ان لوگوں کے ساتھ عدل اور انصاف نہیں کیا۔ مسلمان اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھ چکے تھے اور وہ اپنے نبی کے قریب بیٹھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے ان مسلمانوں کو ان کی جگہوں سے اٹھا دیا اور جو لوگ دیر سے آئے تھے ‘ ان کو ان کی جگہوں پر بٹھا دیا ‘ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اے ایمان والو ! جب تم سے کہا جائے کہ کشادہ ہوجائے تو کشادہ ہوجایا کرو۔ الایۃ
(اسباب النزول للواحدی ص ٤٣٢۔ رقم الحدیث : ٩٥‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٨٨٤٦۔ ج ١٠ ص ٣٣٤٤۔ ٣٣٤٣‘ معالم التنزیل ج ٥ ص ٤٤‘ الدرالمنشور ج ٨ ص ٨٧)
امیر اور منتظم مجلس کو چاہیے کہ عام لوگوں کو صف اول سے اٹھا کر اصحاب فضل کو بٹھائے
ہر چند کے آداب مجلس کا یہی طریقہ ہے کہ جو شخص مجلس میں آ کر پہلے بیٹھ چکا ہو اس کو اس کی جگہ سے نہ اٹھایا جائے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے متعدد احادیث میں کسی شخص کو اس کی جگہ سے اٹھانے سے منع فرمایا ہے لیکن مذکور الصدر حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اصحاب فضل کے لئے امیر مجلس دوسروں کو ان کی جگہوں سے اٹھا کر اپنے قریب بٹھا سکتا ہے ‘ البتہ اصحاب فضل کو ازخود دوسروں کو ان کی جگہوں سے اٹھا کر خود بیٹھنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
حضرت ابو مسعود انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم لوگوں میں سے جو بالغ اور عقلمند ہیں ان کو میرے قریب کھڑے ہونا چاہیے ‘ پھر جو ان کے قریب ہوں ‘ پھر جو ان کے قریب ہوں۔
(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٣٢‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٦٧٤‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٨٠٧‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٩٧٦‘ مسند احمد ج ١ ص ٤٥٧ )
امیر مجلس اور منتظم اعلیٰ کو چاہیے کہ وہ عام لوگوں کو صف اول سے اٹھا کر پیچھے بٹھائے اور اصحاب فضل ‘ علماء اور معزز لوگوں کو اگلی صف میں بٹھائے ‘ اس پر ان احادیث میں دلیل ہے :
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں کو ان کے مراتب اور مناصب کے مطابق بٹھائو۔
(سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٨٤٢ )
حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بوڑھے مسلمان کی تعظیم کرنا اور اس حامل قرآن کی تعظیم کرنا جو قرآن میں غلو نہ کرے اور اس کے احکام پر عمل کرے اور سلطان عادل کی تعظیم کرنا ‘ اللہ کی تعظیم کرنے سے ہے۔
(سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٨٤٢ )
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہر فعل میں حسن ہے
المجادلہ : ١١ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگرچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کوئی فعل بظاہر عقل یا عدل کے خلاف ہو لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ فعل تصحیح ہوتا ہے جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا ہو ‘ کیونکہ پہلے سے بیٹھے ہوئے لوگوں کو اٹھا کر بعد میں آنے والوں کو ان کی جگہ بٹھانا بظاہر معیوب ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اسی کا حکم دیا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا تھا۔ معلوم ہوا کہ کسی چیز میں فی نفسہ حسن ہے نہ قبیح ہے ‘ جو کام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کرلیں وہ حسین ہے اور جس سے آپ منع فرما دیں وہ قبیح ہے اور اس آیت کے شان نزول سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کاموں پر نکتہ چینی کرنا یہ منافقوں کا کام ہے۔
اصحاب فضل کا کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھنے کی ممانعت
ہم نے یہ لکھا ہے کہ اصحاب فضل کو یہ نہیں چاہیے کہ وہ ازخود کسی کو اگلی صف سے اٹھا کر خود اس کی جگہ بیٹھ جائیں ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی ممانعت میں متعدد ارشاد فرمائے ہیں :
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع فرمایا کہ ایک شخص کسی کو مجلس سے اٹھا کر خود اس کی جگہ بیٹھ جائے لیکن دوسروں کے لئے کشادگی اور وسعت کرو۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٢٧٠‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٧٧‘ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٩٨٠٦‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ٨ ص ٥٨٤‘ مسند احمد ج ٢ ص ١٧‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٨٢٨‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٧٤٩‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٥٨٦)
حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود اس کی جگہ ہرگز نہ بیٹھے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٧٨‘ سنن بیہقی ج ٣ ص ٢٣٣)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر جائے اور پھر واپس آجائے تو پھر اس جگہ کا وہی زیادہ حقدار ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٧٩‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٨٥٣‘ مسند احمد ج ٢ ص ٢٨٣‘ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٩٧٩٢‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٧٣٧‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٥٨٨)
اللہ کے کشادگی کرنے کا معنی
نیز اس آیت میں فرمایا : اللہ تمہارے لئے کشادگی فرما دے گا ‘ یعنی تمہارے لئے قبر میں کشادگی کردے گا یا تمہارے دلوں میں کشادگی فرما دے گا یا تمہارے لئے دنیا اور آخرت میں وسعت فرما دے گا۔
نیز فرمایا ہے : اور جب تم سے کہا جائے کہ کھڑے ہو جائو تو کھڑے ہوجایا کرو۔
اس کا ایک معنی یہ ہے کہ جب تم سے جہاد کے لئے کھڑے ہونے کا کہا جائے یا نماز کے لئے یا کسی بھی نیک کام کے لئے کھڑے ہونے کا کہا جائے تو کھڑے ہوجایا کرو۔
اس کے بعد فرمایا : اللہ تم میں سے کامل مومنوں کے اور علم والوں کے درجات بلند فرمائے گا۔ الایۃ
یعنی اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں عزت و کرامت اور آخرت میں اجر عظیم عطا فرمائے گا پس مومنوں کا غیر مومنوں پر اور علماء کا غیر علماء پر درجہ بلند فرمائے گا۔
علماء کی فضیلت میں آیات اور احادیث
امام بخاری تعلیقاً بیان کرتے ہیں :
علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں ‘ انبیاء نے علم کا وارث بنایا ہے ‘ سو جس نے علم کو حاصل کیا اس نے بڑے عظیم حصہ کو حاصل کیا اور جو شخص علم کے راستہ پر گیا ‘ اللہ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کردے گا۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٦٤٦) اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
ترجمہ (الفاطر : ٢٨ )… اللہ کے بندوں میں سے صرف علماء اللہ سے ڈرتے ہیں۔
ترجمہ (الزمر : ٩)… قرآن مجید کو امثال کو صرف علماء سمجھتے ہیں۔ آپ کہئے کہ کیا علم والے اور بےعلم برابر ہوسکتے ہیں۔
اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرما لیتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : تم ربانیین بن جائو ‘ حلماء (بردبار) اور فقہائ۔ (صحیح البخاری ‘ کتاب العلم ‘ باب : ١٠)
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک فقیہ شیطان کے اوپر ایک ہزار عابدوں سے زیادہ سخت ہوتا ہے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٦٨١‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٢٢ )
حضرت ابو الدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : جو شخص کسی راستہ پر علم کو طلب کرنے کے لئے چلتا ہے ‘ اللہ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کردیتا ہے اور فرشتے طالب علم کی رضا کے لئے اپنے پر رکھتے ہیں اور بیشک عالم کے لئے آسمانوں اور زمینوں کی تمام چیزیں مغفرت طلب کرتی ہیں حتیٰ کہ پانی میں مچھلیاں بھی اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسے ہے ‘ جیسے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر ہوتی ہے اور علماء ہی انبیاء کے وارث
ہیں اور انبیاء دینار اور درھم کا وارث نہیں بناتے، وہ صرف علم کا وارث بناتے ہیں، سو جس نے علم کو حاصل کیا اس نے عظیم حصہ کو حاصل کیا۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٦٨٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٢٣، مسند احمد ج ٥ ص 196)
حضرت ابوامامہ باہلی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا، ان میں سے ایک عابد تھا اور دوسرا عالم، پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عالم کی فضیلت عابد پر اس طرح ہے جس طرح میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ شخص پر ہے، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ اور اس کے سارے فرشتے اور تمام آسمان اور زمین والے حتیٰ کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور حتیٰ کہ مچھلی بھی لوگوں کو تعلیم دینے والے پر صلوۃ بھیجتے رہتے ہیں۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٦٨٥)
اللہ تعالیٰ کے صلوٰۃ بھیجنے کا معنی ہے : رحمت نازل فرمانا اور مخلوق کی صلوٰۃ کا معنی ہے، حصول رحمت کی دعا کرنا۔
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : قیامت کے دن تین (گروہ) شفاعت کریں گے، انبیاء پھر علمائ، پھر شہدائ۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٣١٣)
القرآن – سورۃ نمبر 58 المجادلة آیت نمبر 11