يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نَاجَيۡتُمُ الرَّسُوۡلَ فَقَدِّمُوۡا بَيۡنَ يَدَىۡ نَجۡوٰٮكُمۡ صَدَقَةً ؕ ذٰ لِكَ خَيۡرٌ لَّكُمۡ وَاَطۡهَرُ ؕ فَاِنۡ لَّمۡ تَجِدُوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ سورۃ نمبر 58 المجادلة آیت نمبر 12
sulemansubhani نے Friday، 22 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نَاجَيۡتُمُ الرَّسُوۡلَ فَقَدِّمُوۡا بَيۡنَ يَدَىۡ نَجۡوٰٮكُمۡ صَدَقَةً ؕ ذٰ لِكَ خَيۡرٌ لَّكُمۡ وَاَطۡهَرُ ؕ فَاِنۡ لَّمۡ تَجِدُوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞
ترجمہ:
اے ایمان والو ! جب تم رسول سے سرگوشی کرنے کا ارادہ کرو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ کیا کرو، یہ تمہارے لئے بہت اچھا اور نہایت پاکیزہ ہے، پس اگر تم کو کچھ نہ ملے (تو تم غم نہ کرو) بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بےحد رحم فرمانے والا ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! جب تم رسول سے سرگوشی کرنے کا ارادہ کرو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ کیا کرو، یہ تمہارے لئے بہت اچھا اور نہایت پاکیزہ ہے، پس اگر تم کو کچھ نہ ملے (تو تم غم نہ کرو) بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ کیا تم اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ کرنے سے گھبرا گئے، پس جب تم نے (صدقہ) نہ کیا اور اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرمالی، پس تم نماز قائم رکھو اور زکوۃ دیا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو، اور اللہ تمہارے کاموں کی خوب خبر رکھنے والا ہے۔ (المجادلہ : ١٣-١٢)
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ کرنے کے حکم کی حکمتیں
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سرگوشی کرنے یعنی خفیہ طریقہ سے آپ سے سوال کرنے پر جو کچھ صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے، اس کیحسب ذیل حکمتیں ہیں :
(١) اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعظیم اور تکریم کا اظہار ہے، کیونکہ مال خرچ کرنے میں شمقت ہوتی ہے اور جو چیز مشقت سے حاصل ہو، اس کی بہت قدر و منزلت ہوتی ہے، اس کے برخلاف جو چیز آسانی سے حاصل ہوجائے اس کی کوئی خاص قدر نہیں ہوتی اور جب مسلمان مال خرچ کرنے کے بعد آپ سے سرگوشی کرسکیں گے تو اس سرگوشی کی بہت قدر و منزلت ہوگی۔
(٢) اس میں فقراء کی مدد ہے کیونکہ وہ صدقہ فقراء کو دیا جائے گا۔
علاہم ابو الحسن علی بن محمد الماوردی المتوفی ٤٥٠ ھ لکھتے ہیں :
(٣) ابن زید نے کہا کہ منافقین نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے غیر ضروری، لا یعنی اور عبث سوال کرتے تھے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے سوال کرنے سے پہلے صدقہ کرنے کا حکم دیا، تاکہ وہ اس قسم کے سوالات نہ کریں۔
(٤) حسن بصری نے کہا، بعض مسلمان تہائی میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سرگوشی کرتے تھے، اس سے دوسرے مسلمانوں نے یہ گمان کیا کہ شاید وہ تنہائی میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تنقیص کرتے ہیں۔ اس سے ان کو رنج ہوا، تب اللہ تعالیٰ نے تہائی میں سرگوشی کرنے سے پہلے ان کو صدقہ کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ تنہائی میں سرگوشی نہ کریں۔
(٥) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : مسلمان نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہ کثرت سوالات کرنے لگے تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس سے مشقت ہوتی تھی کیونکہ آپ نے احکام کی تبلیغ کرنی ہوتی تھی، مصالح امت کے کام کرنے ہوتے تھے اور دیگر عبادات کرنی ہوتی تھیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تخفیف کا ارادہ کیا اور جب اللہ تعالیٰ نے سوال کرنے سے پہلے صدقہ کرنے کا حکم دیا تو بہت مسلمان سوالات کرنے سے رک گئے۔ (النکت و الیعون ج ٥ ص ٤٩٣، دارالکتب العلمیہ، بیروت)
(٦) صدقہ دینے کے حکم سے یہ واضح ہوگیا کہ کون مال دنیا سے محبت کرتا ہے اور کس کو آخرت عزیز ہے۔
(٧) مقاتل بن سلیمان متوفی ٥٠ ھ اور مقاتل بن حیان نے بیان کیا کہ دولت مند لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہ کثرت سوالات کرتے تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں فقراء کو آپ سے سوال کرنے کا موقع نہیں ملتا تھا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مال داروں کی طویل صحبت اور ان کی بہت سرگوشیوں کو ناپسند کرتے تھے، پس جب اللہ تعالیٰ نے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ کرنے کا حکم دیا تو مال دار مسلمان سوال کرنے سے رک گئے اور فقراء کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گفتگو کرنے اور آپ کی ہم نشینی کا موقع مل گیا اور خوش حال مسلمانوں میں سے سوائے حضرت علی بن ابی طالب کے اور کسی نے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ نہیں دیا، انہوں نیح ایک دینار صدقہ کیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دس سوالات کئے۔ (تفسیر مقاتل بن سلیمان ج ٣ ص ٣٣٤، الکشف و البیان ج ٩ ص ٢٦١ )
علامہ ابو اسحاق احمد بن ابراہیم متوفی 428 ھ لکھتے ہیں :
حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے فرمایا : قرآن مجید میں ایک آیت ہے، جس پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل نہیں کیا اور نہ میرے بعد اس پر کوئی عمل کرے گا اور وہ یہ آیت ہے :” یایھا الذین امنوآ اذا ناجیتم الرسول “ (المجادلہ : ١٢) (الکشف والبیان ج ٩ ص 261-262 داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢٢ ھ)