يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا تَنَاجَيۡتُمۡ فَلَا تَـتَـنَاجَوۡا بِالۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ وَمَعۡصِيَتِ الرَّسُوۡلِ وَتَنَاجَوۡا بِالۡبِرِّ وَالتَّقۡوٰىؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِىۡۤ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ سورۃ نمبر 58 المجادلة آیت نمبر 9
sulemansubhani نے Friday، 22 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا تَنَاجَيۡتُمۡ فَلَا تَـتَـنَاجَوۡا بِالۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ وَمَعۡصِيَتِ الرَّسُوۡلِ وَتَنَاجَوۡا بِالۡبِرِّ وَالتَّقۡوٰىؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِىۡۤ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ ۞
ترجمہ:
اے ایمان والو ! جب تم آپس میں سرگوشی کرو تو تم گناہ ‘ سرکشی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی نہ کرنا اور نیکی اور خوف خدا کی سرگوشی کرنا ‘ اور اللہ سے ڈرتے رہنا اسی کی طرف تم جمع کئے جائو گے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! جب تم آپ میں سرگوشی کرو تو تم گناہ ‘ سرکشی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی نہ کرنا اور نیکی اور خوف خدا کی سرگوشی کرنا اور اللہ سے ڈرتے رہنا اسی کی طرف تم جمع کئے جائو گے۔ سرگوشی تو صرف شیطان کی طرف سے ہوتی ہے تاکہ وہ ایمان والوں کو غمگین کرے اور وہ اللہ کے اذن کے بغیر کسی قسم کا نقصان پہنچانے والے نہیں ہیں اور مومنوں کو اللہ پر ہی توکل کرنا چاہیے۔ اے ایمان والو ! جب تم سے کہا جائے کہ کشادہ ہو جائو تو کشادہ ہوجایا کرو ‘ اللہ تمہارے لئے کشادگی فرما دے گا اور جب تم سے کہا جائے : کھڑے ہو تو کھڑے ہوجایا کرو ‘ اللہ تم میں سے کامل مومنوں کے اور علم والوں کے درجات بلند فرمائے گا اور اللہ تمہارے کاموں کی بےحد خبر رکھنے والا ہے۔ (المجادلہ : ١١۔ ٩)
مسلمانوں کو سرگوشی سے منع کرنے کے محمل
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی شافعی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :
اس سے پہلی آیت میں یہودیوں کو بری سرگوشیں سے منع فرمایا تھا اور اس آیت میں ایمان والوں کو بری سرگوشیں سے منع فرمایا ہے اور اس آیت میں ایمان والوں سے مراد منافقین ہیں یعنی جو صرف زبان سے ایمان لائے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس آیت میں ایمان والوں سے مراد آپ کے اصحاب (رض) ہیں کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے کفار اور منافقین کو بری سرگوشیوں سے منع فرمایا تو بالتبیع مسلمانوں کو بھی اس سے منع فرمایا کہ کہیں وہ کفار اور منافقین کی روش پر نہ چل پڑیں اور ان کو اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی مخالفت میں سرگوشیوں سے منع فرمایا اور نیکی ‘ خیر اور خدا ترسی کے کاموں میں سرگوشی کرنے کا حکم دیا جیسا کہ اس آیت میں فرمایا ہے :
ترجمہ (النسائ : ١١٤)… منافقین کی اکثر سرگوشیں میں خیر نہیں ہے ‘ ہاں ! جھو صدقہ دینے کا حکم دے ‘ یا کسی اور نیکی کا جو لوگوں کے درمیان صلح کرانے کا حکم دے اور جو مسلمان اللہ کی رضا کے طلب کے لئے یہ کام کریں گے پس عنقریب ہم ان کو اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔
اور جب مسلمان اس طریقہ سے سرگوشی کریں گے تو ان کی سرگوشیوں سے کسی دوسرے مسلمانوں کو ایذاء نہیں پہنچے گی ‘ پھر ان کو آخرت سے ڈرایا کہ تم اللہ ہی کی طرف جمع کئے جائو گے۔ (تفسیر کبیرج ١٠ ص ٤٩٢‘ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)
تبیان القرآن سورۃ نمبر 58 المجادلة آیت نمبر 9