امام وکیع بن جراح ؒ کا امام اعظم ابو حنیفہؓ سے حدیث روایت کرنا اور فقھاء کی مرویات کو اصحاب الحدیث کی مروایات پر مقدم کرنا

تحریر: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

 

امام وکیع بن جراح فقھاء یعنی اصحاب الرائے محدثین کی مروایات کو اصحاب الحدیث اثری مشائخ کی روایات پر مقدم کرتے تھے جیسا کہ انکا فرمان امام خطیب اپنی سند صحیح سےنقل کرتے ہیں :

 

أخبرني علي بن أبي علي البصري، ثنا محمد بن خلف بن محمد الخلال، ثنا محمد بن هارون بن حميد، ثنا إبراهيم بن سعيد , قال: سمعت وكيعا , يقول: «حديث الفقهاء أحب إلي من حديث المشايخ

امام ابراہیم بن سعید کہتے ہیں میں نے امام وکیع کو کہتے سنا:

حدیث کے مشائخ (یعنی أصحاب الحدیث) کی بانسبت فقھاء کی (بیان کردہ) احادیث مجھے زیادہ محبوب ہیں

[الكفاية في علم الرواية ، ص: 436 وسند جید]

 

اور امام وکیع بن جراح امام ابو حنیفہ سے کثرت سے روایات بیان بھی کرتے ہیں بطور نمونہ ہم تحقیقا بھی پیش کردیتے ہیں :

 

امام خطیب بغددادی اپنی سند سے روایت بیان کرتے ہیں :

أخبرنا العتيقي، أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحريري، حدثنا أبو حامد محمد بن هارون الحضرمي، حدثنا يوسف بن موسى القطان، حدثنا وكيع، حدثنا أبو حنيفة، عن أبي الزبير، عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من باع عبدا وله مال فماله للبائع إلا أن يشترط المبتاع

امام وکیع بن جراح کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی امام ابو حنیفہؓ نے حضرت ابو زبیر ؓ سے انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے انہوں نے نبی اکرمﷺ سے فرمایا :جس نے کوئی ایسا غلام بیچا جس کے پاس مال ہو تو مال بیچنے والے کو ملے گا، الا یہ کہ خریدار خریدتے وقت شرط لگا لے

[تاريخ بغداد برقم: 1083]

 

سند کے رجال کا مختصر تعارف!

۱۔پہلے راوی : أحمد بن محمد بن أحمد أبو الحسن المجهز المعروف بالعتيقي

امام خطیب انکی توثیق کرتے ہیں اور دیگر ناقدین سے بھی توثیق نقل کرتے ہیں :

كتبت عنه، وكان صدوقا، سمعت أبا القاسم الأزهري ذكر أبا الحسن العتيقي، فأثنى عليه خيرا ووثقه.

[تاریخ بغدد برقم: 2522]

 

۲۔دوسرے راوی : محمد بن عبد الله بن محمدأبو عبد الله الحريري

وقال العتيقي: وكان ثقة.

[تاریخ بغداد برقم: 1083]

 

۳۔تیسرے راوی : مُحَمَّد بْن هارون بْن عَبْد الله أبو حامد الحضرمي

أن يُوسُف بن عمر القواس ذكر أبا حامد الحضرمي في شيوخه الثقات.

وسألت الدارقطنيعن مُحَمَّد بْن هارون الحضرمي فقال: ثقه

[تاریخ بغداد برقم: 1782]

 

۴۔چوتھے راوی: يوسف بن موسى بن راشد القطان الكوفي

امام ذھبی سیر اعلام میں کہتے ہیں : الإمام، المحدث، الثقة، وحدث عن وكيع ۔۔۔الخ

[سیر اعلام النبلاء برقم: 76]

 

۵۔پانچویں راوی:امام وکیع بن جراح حافظ و ناقد الرجال اور فروع میں حنفی مذہب پر تھے۔

 

۶۔چھٹے راوی امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت مجتہد کوفہ

امام ذھبی انکے بارے فرماتے ہیں : لإمام، فقيه الملة، عالم العراق،

نیز اسی تصنیف میں دوسری جگہ فرماتے ہیں :

قال الشافعي: العلم يدور على ثلاثة: مالك، والليث، وابن عيينة.

قلت: بل وعلى سبعة معهم، وهم: الأوزاعي، والثوري، ومعمر، وأبو حنيفة، وشعبة، والحمادان.

امام شافعی فرماتے ہیں علم (حدیث) کا مدار تین ا شخاص پر ہے امام مالک ، امام لیث اور امام ابن عیینہ

(اس پر امام ذھبی اضافہ کرتے ہوئے فرماتےہیں) ”میں (الذھبی) کہتا ہوں بلکہ (علم حدیث کا مدار ) اور سات اشخاص پر بھی ہے ، جن میں امام اوزاعی ، امام سفیان ثوری ، امام معمر ، امام ابو حنیفہ ، امام شعبہ اور امام حماد بن زید و امام حماد بن سلمہ”

[سیر اعلام النبلاء ]

 

معلوم ہوا کہ متقدمین میں دین اسلام میں ان دس شخصیات پر حدیث کی بنیاد قائم تھی۔

 

نیز امام یحییٰ بن معین امام ابو حنیفہ کے بارے فرماتے ہیں :

سمعت يحيى بن معين يقول: كان أبو حنيفة لا بأس به

ابن محرز کہتے ہیں میں نے امام یحییٰ بن معین کو کہتے سنا : ابو حنیفہ میں کوئی حرج نہیں (نوٹ: امام یحییٰ بن معین کا لاباس بہ ثقہ کے برابر توثیق ہے)

[معرفة الرجال للإمام أبي زكريا يحيى بن معين برقم: 230]

 

اسی طرح امام ابن معین سے امام ابن عبدالبر نے بھی سند صحیح سے نقل کیا ہے

الدورقي قال سئل يحيى بن معين وأنا أسمع عن أبي حنيفة فقال ثقة ما سمعت أحدا ضعفه هذا شعبة بن الحجاج يكتب إليه أن يحدث ويأمره وشعبة شعبة

امام دروقی کہتے ہیں امام ابن معین سے سوال کیا گیا ابو حنیفہ کے بارے اور میں انکو سن رہاتھا تو ابن معین نے کہا یہ ثقہ ہیں اور میں نے کسی کو انکی (ابو حنیفہ) کی تضعیف کرتے نہیں سنا ۔ اور یہ شعبہ ہیں جو انکو خط لکھ کر حدیث اور احکام بیان کرنے کی فرمائش کرتے اور امام شعبہ تو پھر امام شعبہ ہیں

[الانتقاء وسندہ صحیح ]

 

۶۔چھٹے راوی : أبو الزبير محمد بن مسلم بن تدرس

امام ذھبی انکے بارے فرماتے ہیں : الإمام، الحافظ، الصدوق، أبو الزبير القرشي

روى عن: جابر بن عبد الله، وابن عباس، وابن عمر، وعبد الله بن عمرو، وأبي الطفيل، وابن الزبير.

[سیر اعلام النبلاء برقم: 174]

اور

ساتویں راوی صحابی رسولﷺ حضرت جابر بن عبداللہ ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس روایت کی سند صحیح ہے اور امام وکیع بن جراح امام ابو حنیفہؓ سے روایت کرتے تھے ۔ اس روایت کو امام ابو داود نے بھی اپنی سند سے روایت کیا ہے امام زھری سے :

 

حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، حدثني سلمة بن كهيل، حدثني من سمع جابر بن عبد الله، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:” من باع عبدا، وله مال فماله، للبائع إلا ان يشترط المبتاع”

[سنن ابی داود برقم: 3435]

 

امام وکیع کے نزدیک امام ابو حنیفہ کی فقاہت کا مقام : امام خطیب بغدادی اپنی سند سے روایت بیان کرتے ہیں:

 

أنا الحسن بن الحسين بن العباس النعالي , أنا أبو بكر أحمد بن جعفر بن محمد بن سلم الختلي , نا أحمد بن علي الأبار , نا علي بن خشرم المروزي , قال: سمعت وكيعا ,

يقول لأصحاب الحديث: لو أنكم تفقهتم الحديث وتعلمتموه ما غلبكم أصحاب الرأي , ما قال أبو حنيفة في شيء يحتاج إليه إلا ونحن نروي فيه بابا ولا بد للمتفقه من أستاذ يدرس عليه , ويرجع في تفسير ما أشكل إليه , ويتعرف منه طرق الاجتهاد , وما يفرق به بين الصحة والفساد

امام ابن خشرم کہتے ہیں میں نے امام وکیع بن جراح کو اصحاب الحدیث سے کہتے سنا :

اگر تم لوگ حدیث کی فقہ اور اسکا علم حاصل کرتے تو اصحاب الرائے تم پر غالب نہ آتے پھر کہا : امام ابو حنیفہ نے ایسا کچھ نہیں کہا کسی مسئلے میں جس میں وہ (کسی کے) محتاج ہو ں مگر ہم باقاعدہ (امام ابو حنیفہ) کے ان مسائل میں احادیث کے ابواب روایت کرتے ہیں

اور کوئی چارہ نہیں کسی فقھی کے لیے استاذ (کے علاوہ) جس پر وہ درس کرتا ہے اور اسکی طرف رجوع کرتا ہے مشکل باتوں میں اسکی طرف اور وضاحت کے لیے اور اس سے اجتہاد کرنے کے راستے اخذ کرنا سیکھتا ہے اور وہ اس سے علم حاصل کرتا ہے جس کے زریعہ وہ کسی چیز کے صیحت اور فساد کا فرق کرتا ہے (یعنی صحیح و غلط کا فرق)

 

اس قول کو مختصر بھی بیان کرتے ہیں :

 

أخبرني الحسن بن محمد بن الحسن الخلال , نا محمد بن العباس الخزاز , نا أبو بكر بن أبي داود , نا علي بن خشرم , قال: سمعت وكيعا , غير مرة يقول: «يا فتيان تفهموا فقه الحديث , فإنكم إن تفهمتم فقه الحديث لم يقهركم أهل الرأي»

[الكفاية في علم الرواية برقم: 162 واسناد حسن]

 

یہی وجہ ہے کہ امام ابو حنیفہ کے اجتہاد اور دقیق نظر کی سبب امام وکیع بن جراح انکی پیروی کرتے مسائل میں جیسا کہ امام یحییٰ بن معین بیان کرتے ہیں

 

کہ امام وکیع بن جراح امام ابو حنیفہ کے قول کی پیروی کرتے تھے یہ قول متعدد صحیح الاسناد سے تاریخ بغداد اور دیگر کتب میں موجود ہے

 

جیسا کہ امام ذھبی امام یحییٰ بن معین سے تصریح نقل کرتے ہیں :

علي بن الحسين بن حبان: عن أبيه: سمعت ابن معين يقول: ما رأيت أفضل من وكيع.

قيل: ولا ابن المبارك؟

قال: قد كان ابن المبارك له فضل، ولكن ما رأيت أفضل من وكيع، كان يستقبل القبلة، ويحفظ حديثه، ويقوم الليل، ويسرد الصوم، ويفتي بقول أبي حنيفة -رحمه الله- وكان قد سمع منه كثيرا

علی بن حسین اپنے والد سے بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں میں نے امام یحییٰ بن معین کو سنا

وہ کہتے ہیں میں نے امام وکیع سے افضل کوئی نہیں دیکھا ہے

ان سے کہا گیا کہ عبداللہ ابن مبارک (بھی ان جیسے افضل ) نہیں ؟

تو انہوں نے پھر کہا ابن مبارک بھی فضیلت کے مالک ہیں ۔۔۔ لیکن۔۔۔۔

میں نے امام وکیع سے افضل نہیں دیکھا جو کہ قبلہ جانب ہو کر عبادات میں مشغول رہتے ، احادیث کو حفظ کرتے اور روزے رکھتے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امام ابو حنیفہ کے قول پر فتویٰ دیتے تھے

اور میں نے ان سے بہت زیادہ سماع کیا ہے

(نوٹ: امام وکیع اتنے بڑے حدیث کے علام ہونے کے باوجود مسائل اجتیہاد میں امام ابو حنیفہ کے فتاویٰ کے پیروی کرتے )

 

قال صالح بن محمد جزرة: سمعت يحيى بن معين يقول: ما رأيت أحدا أحفظ من وكيع.

اور صالح بن جزرہ کہتے ہیں میں نے امام یحییٰ بن معین سے سنا وہ کہتے ہیں ؛ میں نے امام وکیع سے بڑا حافظ (الحدیث) کوئی نہیں دیکھا ہے

[سیر اعلام النبلاء،برقم: 48]

 

امام صیمری نے بھی اپنی کتاب میں اسکو مکمل اپنی سند صحیح سے بیان کیا ہے :

اور باب باندھتے ہیں :

 

فمن أخذ عنه العلم وكان يفتي بقوله وكيع بن الجراح

(ابی حنیفہ) سے علم سیکھنے والوں اور انکے قول پر فتویٰ دینے والوں میں سے امام وکیع بن الجراح

 

أخبرنا عمر بن إبراهيم قال أنبأ مكرم قال أنبأ علي بن الحسين بن حبان عن أبيه قال سمعت يحيى بن معين قال ما رأيت أفضل من وكيع بن الجراح قيل له ولا ابن المبارك قال قد كان لإبن المبارك فضل ولكن ما رأيت أفضل من وكيع كان يستقبل القبلة ويحفظ حديثه ويقوم الليل ويسرد الصوم ويفتي بقول أبي حنيفة وكان قد سمع منه شيئا كثيرا قال يحيى بن معين وكان يحيى بن سعيد القطان يفتي بقول أبي حنيفة أيضا

ابن معین فرماتے ہیں کہ امام وکیع سے افضل میں نے نہیں دیکھا کہ جو رات کو قیام کرتے قبلہ جانب ہو کر احادیث یاد کرتے ، اور مسلسل روزے رکھتے

اور امام ابو حنیفہ کے قول پر فتویٰ دیتے

اسکو بیان کرنے کے بعد امام یحیٰ بن معین فرماتے ہیں :

میں نے ان سے بہت زیادہ سنا ہے ۔ اور (میرے شیخ ) امام یحییٰ بن سعید القطان بھی امام ابو حنیفہ کے قول پر ہی فتویٰ دیتے تھے

[اخبار ابی حنیفہ للصیمری وسند صحیح ]

 

تحقیق: دعا گو اسد الطحاوی

http://www.asadaltahawi.com