أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

 

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ نَافَقُوۡا يَقُوۡلُوۡنَ لِاِخۡوَانِهِمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَئِنۡ اُخۡرِجۡتُمۡ لَنَخۡرُجَنَّ مَعَكُمۡ وَلَا نُطِيۡعُ فِيۡكُمۡ اَحَدًا اَبَدًاۙ وَّاِنۡ قُوۡتِلۡتُمۡ لَـنَـنۡصُرَنَّكُمۡ ؕ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّهُمۡ لَـكٰذِبُوۡنَ ۞

 

ترجمہ:

کیا آپ نے ان منفاقین کی طرف نہیں دیکھا جو اپنے ان بھائیوں سے کہتے ہیں جو اہل کتاب میں سے کافر ہیں کہ اگر تم کو (تمہاری بستی) سے نکال دیا گیا تو ہم بھی ضرور تمہارے ساتھ نکل جائیں گے اور ہم تمہارے معاملہ میں کبھی بھی کسی کی اطاعت نہیں کریں گے اور اگر تم سے قتال کیا گیا تو ہم تمہاری مدد کریں گے اور اللہ شہادت دیتا ہے کہ بیشک یہ ضرور جھوٹے ہیں

 

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا آپ نے ان منفاقین کی طرف نہیں دیکھا جو اپنے ان بھائیوں سے کہتے ہیں جو اہل کتاب میں سے کافر ہیں کہ اگر تم کو (تمہاری بستی) سے نکال دیا گیا تو ہم بھی ضرور تمہارے ساتھ نکل جائیں گے اور ہم تمہارے معاملہ میں کبھی بھی کسی کی اطاعت نہیں کریں گے اور اگر تم سے قتال کیا گیا تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے اور اللہ شہادت دیتا ہے کہ بیشک یہ ضرور جھوٹے ہیں۔ اگر ان کو نکالا گیا تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے اور اگر ان سے قتال کیا گیا تو یہ ان کی مدد نہیں کریں گے اور اگر انہوں نے ان کی مدد کی تو یہ ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے، پھر (کہیں سے) ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔ (اے مسلمانو ! ) ان کے دلوں میں ضرور اللہ سے زیادہ تمہارا خوف ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ نہیں سمجھتے۔ (الحشر : ١٢-١١)

بنو نضیر کو منفاقین کا ورغلانا اور دونوں کی ناکامی اور عذاب

مقاتل بن سلیمان متوفی 150 ھ نے کہا ہے کہ یہ آیتیں اس سلسلہ میں نازل ہوئی ہیں کہ منافقین بنی نضیر سے یہ کہتے تھے کہ تمہاری مدد کے لئے ہم تمہارے ساتھ ہیں اور اگر تم کو نکلنا پڑا تو ہم پھر بھی تمہارے ساتھ ہیں، یہ منافقین عبداللہ بن ابی، عبداللہ بن نبتل اور رفاعتہ بن زید تھے اور بہ ظاہر ان کا تعلق انصار سے تھا، اس آیت میں فرمایا ہے : انہوں نے اپنے بھائیوں سے کہا کیونکہ منافقین اور یہودی دینی رشتہ سے آپس میں بھائی تھے، کیونکہ دونوں فریق سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے منکر تھے اور اس میں فرمایا ہے : منافقین نے اہل کتاب کے کافروں سے کہا، اس سیم راد جی ابن خطب، جدی، ابویاسر اور مالک بن الضیف اور بنو قریظہ ہیں، انہوں نے ان سے کہا، اگر (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تم کو مدینہ سے نکال دیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ مدینہ سے نکل جائیں گے اور اس معاملہ میں ہم کسی کی بات نہیں مانیں گے، اللہ شہادت دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں، اگر بنو نضیر کو مدینہ سے نکال دیا تو منافقین ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے، اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے، اس کا علم تھا کہ منافقین نے بنو نضیر کو جھوٹی تسلیاں دی ہیں، وہ ان کے موافق عمل نہیں کریں گے اور ایسا ہی ہوا اور یہ قرآن مجید کی اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت پر قوی دلیل ہے کہ آپ نے جو پیش گوئی فرمائی تھی وہ حرف بہ حرف پوری ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اگر مسلمانوں نے ان سے جنگ کی تو منافقین ان کا ساتھ نہیں دیں گے اور بالفرض انہوں نے بنو نضیر کے ساتھ جنگ کی تو یہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے اور پھر ان کی کہیں سیم دد نہیں کی جائے گی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ ان منافقوں کے دلوں میں اللہ یس زیادہ مسلمانوں کا خوف ہے، یعنی ان واللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کا علم نہیں ہے اور اس کے علم اور قدرت پر ان کا ایمان نہیں ہے، اس لئے وہ بنو نضیر کو ایسی جھوٹی تسلیاں دیتے ہیں۔ (تفسیر مقاتل بن سلیمان ج ٣ ص 341-342 دارالکتب العلمیہ، بیروت ١٤٢٤ ھ)

تبیان القرآن سورۃ نمبر 59 الحشر آیت نمبر 11