اِسۡتَحۡوَذَ عَلَيۡهِمُ الشَّيۡطٰنُ فَاَنۡسٰٮهُمۡ ذِكۡرَ اللّٰهِؕ اُولٰٓئِكَ حِزۡبُ الشَّيۡطٰنِؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ الشَّيۡطٰنِ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ – سورۃ نمبر 58 المجادلة آیت نمبر 19
sulemansubhani نے Saturday، 23 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِسۡتَحۡوَذَ عَلَيۡهِمُ الشَّيۡطٰنُ فَاَنۡسٰٮهُمۡ ذِكۡرَ اللّٰهِؕ اُولٰٓئِكَ حِزۡبُ الشَّيۡطٰنِؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ الشَّيۡطٰنِ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ۞
ترجمہ:
شیطان ان پر غالب آگیا تو اس نے اللہ کا ذکر ان سے بھلا دیا، وہ شیطان کا گروہ ہیں، سنو ! بیشک شیطان کا گروہ ہی نقصان اٹھانے والا ہے
” استحوذ “ کا معنی
المجادلہ : ١٩ میں فرمایا : شیطان ان پر غالب آگیا تو اس نے اللہ کا ذکر ان سے بھلا دیا، وہ شیطان کا گروہ ہیں، سنوچ بیشک شیطان کا گروہ ہی نقصان اٹھانے والا ہے۔
اس آیت میں ” استحوذ ‘ کا لفظ ہے۔ زجاج نے کہا، اس کا معنی ہے : غالب آگیا، مبرد نے کہا، اس کا معنی ہے : اس کا احاطہ کرلیا، حضرت عائشہ نے حضرت عمر (رض) کے متعلق فرمایا : وہ احوذی تھے۔
یعنی بہت سیاست دان اور بہت اچھے منتظم تھے اور اس آیت کا معنی ہے : شیطان ان پر قابض ہوگیا اور اس نے ان سے اللہ کا ذکر بھلا دیا۔
القرآن – سورۃ نمبر 58 المجادلة آیت نمبر 19