أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا تَجِدُ قَوۡمًا يُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ يُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَلَوۡ كَانُوۡۤا اٰبَآءَهُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَهُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَهُمۡ اَوۡ عَشِيۡرَتَهُمۡ‌ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمُ الۡاِيۡمَانَ وَاَيَّدَهُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡهُ‌ ؕ وَيُدۡخِلُهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا‌ ؕ رَضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ‌ ؕ اُولٰٓئِكَ حِزۡبُ اللّٰهِ‌ ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ اللّٰهِ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک جو لوگ اللہ پر اور قیامت پر یقین رکھتے ہیں آپ ان کو ایسا نہیں پائیں گے کہ وہ ان سے محبت رکھیں جو اللہ اور اس کے رسول سے عداوت رکھیں خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے ہوں یا ان کے بھائی ہوں یا ان کے رشتہ دار ہوں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد فرمائی اور انہیں ان جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں، اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے، یہی لوگ اللہ کا گروہ ہیں، سنو ! بیشک اللہ کا گروہ ہی فلاح پانے والا ہے ؏

 

المجادلہ : ٢٢ میں فرمایا، بیشک جو لوگ اللہ پر اور قیامت پر یقین رکھتے ہیں آپ ان کو ایسا نہیں پائیں گے کہ وہ ان سے محبت رکھیں جو اللہ اور رسول سے عداوت رکھیں۔ الایۃ

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ایمان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کی محبت جمع نہیں ہوسکتی کیونکہ جو شخص کسی سے محبت رکھتا ہو وہ اس کے دشمن سے محبت نہیں رکھ سکتا، کیونکہ یہ دونوں محبتیں ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتیں، پس جب کسی شخص کے دل میں اللہ کے دشمنوں کی محبت ہوگی تو اس کے دل میں ایمان نہیں ہوگا اور وہ شخص منافق ہوگا، لیکن اس پر کفر یا نفاق کا حکم اس وقت لگایا جائے گا جب وہ اللہ کے دشمنوں کے دین یا ان کے کفر کو پسند کرنے کی وجہ سے ان سے محبت رکھے اور اگر وہ دنیا دار یا رشتہ کے تعلق کی وجہ سے ان سے محبت رکھے تو یہ کفر نہیں ہے گناہ کبیرہ ہے۔

اپنے کافر باپ، بیٹے اور دیگر رشتہ داروں پر اللہ اور اس کے رسول کے حکم کو ترجیح دینے والے صحابہ

اس کے بعد فرمایا : خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا ان کیبیٹے ہوں یا ان کے بھائی ہوں یا ان کے رشتہ دار ہوں۔

آیت کے اس فقرہ کا معنی یہ ہے کہ باپ، بیٹے، بھائی اور رشتہ داروں کے ساتھ طبعی محبت ہوتی ہے، لیکن اسلامقبول کرنے کے بعد مسلمان پر لازم ہے کہ اس طبعی محبت کے تقاضوں کو مرجوح اور مغلوب قرار دے اور اس کے مقابلہ میں اسلام کیا حکام اور اس کے تقاضوں کو غالب قرار دے۔

اس آیت میں فرمایا ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے باپ دادا اور اولاد سے زیادہ محبوب ہوں اور جنگ بدر میں جب عتبہ بن ربیعہ نے مبارزت کی اور مسلمانوں کو مقابلے کے لئے للکارا تو حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ (رض) مقابلہ کے لئے اگٓے بڑھے، لیکن (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : تم بیٹھ جائو۔ (کتاب المغازی للواقدی ج ١ ص 70 مطبوعہ عالم الکتب، بیروت، ١٤٠٤ ھ)

ابن شوذب (رض) بیان کرتے ہیں کہ جنگ بدر کے دن حضرت ابوعبیدہ (رض) کے باپ ان کو اپنے بت دکھا رہے تھے اور حضرت ابوعبیدہ ان سے اعراض کر رہے تھے، لیکن جب ان کے باپ باز نہ آئے، بت دکھاتے رہے اور ان کی تعریف کرتے رہے تو حضرت ابوعبیدہ نے اپنے باپ کو قتل کردیا اور پھر ان کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی :

(المجادلہ : ٢٢) (ے رسول مکرم ! ) جو لوگ اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں، آپ ان کو اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے محبت کرنے والا نہ پائیں گے خواہ (وہ دشمن) ان کے باپ ہوں یا بیٹے ہیں یا بھائی ہوں یا ان کے قریبی رشتہ دار ہوں۔

(المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٣٦٠، المستدرک ج و ص 264-265 حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ امام طبرانی کی سند جید ہے۔ الاصابہ ج ٣ ص 476 مطبوعہ دارلاکتب العلمیہ، بیروت، حافظ ابن کثیرنی اس روایت کو حافظ بیہقی کے حوالے سے ذکر کیا ہے۔ تفسیر ابن کثیر ج ہ ص 385 مطبوعہ دارالفکر، بیروت، ١٤١٨ ھ)

نیز اس آیت میں فرمایا ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک اللہ اور اس کا رسول ان کے رشتہ داروں سے زیادہ محبوب ہوں اور حدیث میں ہے کہ جنگ بدر میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے بیٹے جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے مسلمانوں کو لڑنے کے لئے للکار رہے تھے۔ حضرت ابوبکر نے ان کے مقابلہ پر جانا چاہا لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اپنی ذات سے ہمیں فائدہ پہنچائو۔ (الاستیعاب ج ٢ ص 368، رقم الدیث : ١٤٠٢، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت ١٤١٥ ھ) سے ہمیں فائدہ پہنچائو۔ (الاستیعاب ج ٢ ص 368 رقم الحدیث : ١٤٠٢، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٥ ھ)

حضرت عمر (رض) نے جنگ بدر میں اپنے ماموں العاص بن ہشام بن المغیرہ کو قتل کردیا تھا۔ (سیرت ابن ہاشم ج ٢ ص 324 مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

امام ابوالحسن علی بن احمد الواحدی المتوفی ٤٦٨ ھ مذکور الصدر آیت (المجادلہ : ٢٢) کے شان نزول میں لکھتے ہیں :

ابن جریج نے کہا : مجھے یہ حدیث بیان کی گئی ہے کہا بو قحافہ (حضرت ابوبکر کا باپ) کو اس زور سے تھپڑ مارا کہ وہ گرپڑا، پھر انہوں نے اس واقعہ کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا۔ آپ نے پوچھا : کیا تم نے ایسا کیا ؟ عرض کیا : ہاں ! آپ نے فرمایا : دوبارہ ایسا نہ کرنا۔ حضرت ابوبکر نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر میرے پاس تلوار ہوتی تو میں اس کو قتل کردیتا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

حضرت ابن مسعود (رض) کرتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابوعبیدہ بن الجراح کی شان میں نازل ہوئی، جب انہوں نے جنگ احد میں اپنے باپ عبداللہ بن الجراح کو قتل کردیا (دوسری روایت میں جنگ بدر کا ذکر ہے) اور حضرت ابوبکر کی شان میں نازل ہوئی، جب جنگ بدر میں ان کے بیٹے عبدالرحمحٰن نے مسلمانوں کو جنگ کے لئے للکارا تو حضرت ابوبکر نے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے مقابلہ میں لڑنے کی جازت مانگی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اپنی ذات سے ہمیں فائدہ پہنچائو، کیا تم نہیں جانتے کہ تم میرے لئے میری آنکھوں اور میرے کانوں کے مرتبہ میں ہوا اور حضرت مصعب بن عمیر کی شان میں نازل ہوئی، جب انہوں نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو جنگ احد میں قتل کردیا اور حضرت عمر کی شان میں نازل ہوئی، جب انہوں نے اپنے ماموں العاص بن ہشام بن المغیرہ کو جنگ بدر میں قتل کردیا اور حضرت علی اور حضرت حمزہ (رض) کی شان میں نازل ہوئی، جب انہوں نے عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ کو قتل کردیا اور یہ صحابہ اس آیت کے اس حصہ کے (رض) کی شان میں نازل ہوئی، جب انہوں نے عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ کو قتل کردیا اور یہ صحابہ اس آیت کے اس حصہ کے مصداق ہیں خواہ وہ (دشمن) ان کے باپ ہوں یا بیٹے ہوں یا بھائی ہوں یا ان کے قریبی رشتہ دار۔

(اسباب النزول للواحدی ص ٤٣٤۔ رقم الحدیث : ٤١٧ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت، اسباب النزول للسطیوطی ص ٨٢ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت)

اللہ اور رسول کے مخالفوں سے محبت نہ کرنے والوں پر انعامات

اس کے بعد فرمایا : ہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے۔

اس آیت میں ” کتب “ کا لفظ ہے، اور ” کتب “ کا معنی ہے : جمع کیا، کتاب کو بھی کتاب اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں بہت سارے مضامین جمع ہوتے ہیں، اس لحاظ سے اس آیت کا معنی ہے : اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان کو جمع کردیا، یعنی وہ ہر اس چیز پر ایمان لے ائٓے جس پر ایمان لانا ضروری ہے اور وہ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جو بعض آیات پر ایمان لائے اور بعض پر ایمان نہیں لائے۔

اور جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ ” کتب “ کا معنی ہے :” اثبت و خلق “ یعنی ایمان انکے دلوں میں پیدا کردیا اور ثابت کردیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان کو لکھنا ممکن نہیں ہے، اس لئے اس کو ایجاد اور خلق کے معنی پر محمول کرنا ضروری ہے۔

جو لوگ اللہ کی محبت کو اپنے باپ اور بھائی وغیرہ کی محبت پر ترجیح دیتے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ نے ایک انعام یہ کیا کہ ان کے دلوں میں ایمان کو راسخ کردیا اور دوسرا انعام یہ کیا کہ اپنی طرف سے روح کے ساتھ ان کی تائید فرمائی۔

حضرت ابن عباس (رض) نے اس کی تفسیر میں فرمایا : یعنی ان کے ان کے دشمنوں کے خلاف مدد فرمائی اور اس مدد کو روح فرمایا کیونکہ اس مدد سے ان کے مشن میں مدد فرمائی۔

سدی نے کہا، اس کا معنی یہ ہے کہ ایمان کی روح سے ان کی مدد فرمائی۔

اور ان پر تیسرا انعام یہ فرمایا کہ ان کو جنتوں میں داخل فرمایا اور چوتھا انعام یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگیا اور اللہ تعالیٰ کی رضا سب سے بڑا انعام ہے اور آخر میں فرمایا : یہ لوگ اللہ کا گروہ ہیں اور سنو ! اللہ کا گروہ ہی فلاح پانے والا ہے اور یہ آیت المجادلہ : ١٩ کے مقابل ہمیں ہے، جس میں فرمایا تھا : یہ (منافق) شیطان کا گروہ ہیں اور سنو ! شیطان کا گروہ ہی نقصان اٹھانے والا ہے۔

المجادلہ : ٢٢ کا مشہور شان نزول

اکثر مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ آیت : جو لوگ اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں، آپ ان کو اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے محبت کرنے والا نہ پائیں گے۔ (المجادلہ : ٢٢) حضرت حاتم بن ابی بلتعتہ (رض) کے متعلق نازل ہوئی، جب انہوں نے اہل مکہ کو یہ خبر دی تھی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ فتح کرنے کے لئے مکہ کی طرف روانہ ہونے والے ہیں، اس واقعہ کا تفصیل کے ساتھ ذکر اس حدیث میں ہے :

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے، حضرت زبیر اور حضرت مقدار کو روانہ کیا اور فرمایا : خاخ کے باغ میں جائو، وہاں ایک مسافرہ ملے گی جس کے پاس ایک خط ہوگا، تم اس سے وہ خط لے لینا، ہم لوگ روانہ ہوگئے، ہم نے اپنے گھوڑوں کو دوڑایا، پھر ہم کو ایک عورت ملی، ہم نے اس سے کہا : خط نکالو، اس نے کہا : میرے پاس کوئی خط نہیں ہے، ہم نے اس سے کہا : خط نکالو، ورنہ ہم تمہارے کپڑے اتار دیں گے، اس نے اپنے بالوں کے گچھے سے خط نکال کردیا، ہم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس وہ خط لے کر آئے اس خط میں حضرت حاطب بن ابی بلتعہ نے اہل مکہ کے بعض مشرکین کو خبر دی تھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعض منصوبوں سے مطلع کیا تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے حاطب ! کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! میرے متعلق جلدی نہ کریں، میں قریش کے ساتھ چسپاں تھا، سفیان نے کہا : وہ ان کے حلیف تھے اور قریش سے نہ تھے، آپ کے ساتھ جو مہاجر ہیں ان کی واں رشتہ داریاں ہیں، ان رشتہ داریوں کی بناء پر قریش ان کے اہل و عیال کی حفاظت کریں گے۔ میں نے یہ چاہا کہ ہرچند کہ میرا ان کے ساتھ کوئی نسبی تعلق نہیں ہے، تاہم میں ان پر ایک احسان کرتا ہوں، جس کی وجہ سے وہ (مکہ میں) میرے قرابت داروں کی حفاظت کریں گے، میں نے یہ اقدام (یعنی کفار کو خط کا لکھنا) کسی کفر کی وجہ سے نہیں کیا، نہ اپنے دین سیم رتد ہونے کی بناء پر کیا ہے، اور نہ اسلام لانے کے بعد کفر پر راضی ہونے کے سبب کیا ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے سچ کہا، حضرت عمر نے کہا، یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیں میں اس منافق کی گردن اڑا دوں، آپ نے فرمایا : یہ غزوہ بدر میں حاضر ہوا ہے اور تم کیا جانو کہ اللہ تعالیٰ یقیناً اہل بدر کے تمام حالات سے واقف ہے اور اس نے فرمایا تم جو چاہو کرو میں نے تم کو بخش دیا ہے، پھر اللہ عزو جل نے یہ آیت نازل فرمائی : اے ایمان والو ! میرے دشمن اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائو، ابوبکر اور زبیر کی روایت میں اس آیت کا ذکر نہیں ہے، اور اسحاق نے اپنی روایت میں سفیان کی تلاوت کے حوالے سے اس کا ذکر کیا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٢٧٤-٣٠٠٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٤٩٤ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٦٥٠ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣٠٥ السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١١٥٢١ )

القرآن – سورۃ نمبر 58 المجادلة آیت نمبر 22