هُوَ الَّذِىۡۤ اَخۡرَجَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ مِنۡ دِيَارِهِمۡ لِاَوَّلِ الۡحَشۡرِؔؕ مَا ظَنَنۡـتُمۡ اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ مَّانِعَتُهُمۡ حُصُوۡنُهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰٮهُمُ اللّٰهُ مِنۡ حَيۡثُ لَمۡ يَحۡتَسِبُوۡا وَقَذَفَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ يُخۡرِبُوۡنَ بُيُوۡتَهُمۡ بِاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَيۡدِى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ فَاعۡتَبِـرُوۡا يٰۤاُولِى الۡاَبۡصَارِ – سورۃ نمبر 59 الحشر آیت نمبر 2
sulemansubhani نے Saturday، 23 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
هُوَ الَّذِىۡۤ اَخۡرَجَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ مِنۡ دِيَارِهِمۡ لِاَوَّلِ الۡحَشۡرِؔؕ مَا ظَنَنۡـتُمۡ اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ مَّانِعَتُهُمۡ حُصُوۡنُهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰٮهُمُ اللّٰهُ مِنۡ حَيۡثُ لَمۡ يَحۡتَسِبُوۡا وَقَذَفَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ يُخۡرِبُوۡنَ بُيُوۡتَهُمۡ بِاَيۡدِيۡهِمۡ وَاَيۡدِى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ فَاعۡتَبِـرُوۡا يٰۤاُولِى الۡاَبۡصَارِ ۞
غزوہ بنو نضیر
حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیرو مشقی متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں :
امام ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ بیر معونہ کے بعد چار ہجری میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو نضیر کی طرف روانہ ہوئے، اس کا سبب یہ تھا کہ حضرت عمرو بن امیہ نے غلطی سے بنو عامر کے دو آدمی قتل کر دییء تھے، جن کی دیت (خون بہا) اب تک واجب الادا تھی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نضیر سے جو معاہدہ یا ہوا تھا، اس کے مطابق اس دیت کا ایک حصہ بنو نضیر پر واجب تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے مطالبہ کے لئے بنو نضیر کے پاس گئے تھے، بنو نضیر نے کہا، ہاں ! ہم اپنا حصہ ادا کریں گے اور خفیہ طور پر یہ سازش کی، ایک شخص چپکے سے چھت پر چڑھ گیا تاکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایک بھاری پتھر گرا کر معاذ اللہ آپ کو ہلاک کر دے۔ آپ اس وقت اس چھت کی دیوار کے سائے میں کھڑے تھے۔ عمرو بن حجاش یہودی اس ارادہ سے چھت پر چڑھا، اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ آپ کے صحابہ کی ایک جماعت تھی، ان میں حضرت ابوبکر، حضرت چھت پر چڑھا اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ آپ کے صحابہ کی ایک جماعت تھی، ان میں حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت علی (رض) بھی تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرما کر آپ کو بنو نضیر کی اس سازش سے مطلع کردیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس مدینہ چلے گئے ادھر جب آپ کو دیر ہوگئی تو آپ کے اصحاب آپ کو ڈھونڈنے نکلے، پھر آپ کے اصحاب آپ سے ملے اور آپ نے ان کو اس واقعہ کی خبر دی۔
علامہ وقادی نے کہا کہ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت محمد بن مسلمہ کو بنو نضیر کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ وہ آپ کے قرب اور شہر مدینہ سے نکلجائیں اور منافقین نے ان کو وہیں ٹھہرنے پر ابھارا اور کہا کہ ہم تمہاری مدد کریں گے، یہ چیز ان کے دل میں گھر کرگئی اور انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف یہ پیغام بھیجا کہ وہ وہاں سے نہیں نکلیں گے اور انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کیا ہوا معاہدہ توڑ دیا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی طرف پیش قدمی کا حکم دیا۔ علامہ واقدی نے کہا ہے کہ آپ نے پندرہ روز تک ان کا محاصرہ کیا، ابن ہشام نے کہا، یہ ماہ ربیع الاول کا واقع ہے، امام ابن اسحاق نے کہا : آپ ان کی طرف روانہ ہوئے اور چھ روز تک ان کا محاصرہ کئے رکھا، ان ہی ایام میں حرمت خمر نازل ہوئی، بنو نضیر قلعہ بند ہوگئے، آپ نے حکم دیا کہ ان کی کھجوروں کے باغ کاٹ کر جلا دیئے جائیں، پھر انہوں نے پکار کر کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ فساد کرنے سے منع کرتے تھے اور فساد کرنے والوں کی مذمت کرتے تھے اور اب آپ خود فساد کر رہے ہیں، پس ان درختوں کو کاٹنے اور جلانے کا کیا جواز ہے ؟ منافقین کی ایک جماعت نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ تم اپنے مئوقف پر ڈٹے رہو اور یہاں سے نہ نکلو اگر جنگ کی نوبت آئی تو ہم تمہایر ساتھ مل کر جنگ کریں گے اور اگر تم کو نکالا گیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل جائیں گے، بنو نضیر ان کی مدد کے انتظار میں کچھ دن اور ٹھہرے، لیکن ان کی مدد نہیں آئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا، پھر انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) س۔ سوال کیا کہ آپ ان کو قتل نہ کریں اور ان کو جلا وطن کریں، بہ شرطی کہ وہ ہتھیاروں کے علاوہ اپنے باقی اموال اور اسباب کو اپنے ساتھ اونٹوں پر لاد کرلے جائیں۔ امام بیہقی نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حکم دیا کہ وہ تین دن کے اندر اس بستی کو خالی کردیں۔
امام ابن اسحاق نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنا تمام مال اور اسباب ان اونٹوں پر لاد لیا، حتیٰ کہ اپنے گھروں کے دروازے بھی اکھاڑ کر اپنے ساتھ لے گئے، انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے اپنے باغات اور کھیت چھوڑ دیئے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان باغات اور کھیتوں کو مہاجرین اولین میں تقسیم کردیا اور انصار نے ان اموال میں سے کچھ نہیں لیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کے متعلق سورة الحشر کی آیات نازل فرمائیں۔ (البدایہ والنہایہ ٣ ص 218-219 ملحضاً و موضحاً دارلافکر، بیروت، ١٤١٨ ھ)
غزوہ بنو نضیر کی مزید تفصیل
علامہ ابو اسحاق احمد بن ابراہیم الثعلبی المتوفی ٤٢٤٧ ھ لکھتے ہیں :
مفسرین نے کہا ہے کہ یہ تمام آیات بنو النضیر کے متعلق نازل ہوئی ہیں، کیونکہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں داخل ہوئے تو آپ سے بنو نضیر نے اس شرط پر صلح کی کہ آپ ان سے جنگ نہ کریں اور وہ بھی آپ سے جنگ نہیں کریں گے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی یہ شرط قبول کرلی، پھر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر میں مشرکوں کے خلاف جنگ کی اور ان پر غلبہ حاصل کیا تو بنو نضیر نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر ہم نے ” تورات “ میں پڑھا ہے، پھر جب غزوہ احد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تو یہ شک اور نفاق میں پڑگئے اور انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مئومنوں سے عداوت ظاہر کرنی شروع کردی اور ان کے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان جو معاہدہ تھا، اس کو توڑ دیا، پھر کعب بن اشرف چالیس یہودیوں کے ساتھ مکہ گیا اور قریش کے پاس جا کر انہوں نے حلف اٹھایا اور یہ معاہدہ کیا کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت میں ہم متحد ہیں، پھر ابوسفیان چالیس مشرکوں کے ساتھ آ کر ان سے حرم کعبہ میں ملا اور انہوں نے غلاف کعبہ کو پکڑ کر ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا معاہدہ کیا۔ پھر کعب بن اشرف اور اس سکے اصحاب مدینہ چلے گئے، پھر حضرت جبریل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئے اور آپ کو کعب بن اشرف اور ابوسفیان کے درمیان ہونے والے معاہدہ کی خبر دی، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کعب بن اشرف کو قتل کرنے کا حکم دیا تو اس کو محمد بن مسلمہ انصاری نے قتل کردیا جو اس کا رضاعی بھائی تھا۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو نضیر کی خیانت اور عہد شکنی پر مطلع ہوچکے تھے، آپ حضرت ابوبکر حضرت عمر اور حضرت علی (رض) کے ساتھ ان کے پاس گئے اور ان سے ان دو مسلمانوں کی دیت میں سے ان کا حصہ طلب کیا، جن کو حضرت عمر و بن امیہ الضمری نے پیر معونہ سے واپسی کے وقت غلط فہمی سے قتل کردیا تھا، جب وہ دونوں بنو عامر کی طرف جا رہے تھے، بنو نضیر نے دیت ادا کرنے کو قبول کیا اور آپ کو بٹھایا اور قلعہ کی چھت کے اوپر سے آپ پر بھاری پتھر پھینکنے کی سازش کی، اللہ سبحانہ، نے آپ کو اس سازش سے مطلع کر کے آپ کو بچا لیا، جس بستی میں بنو نضیر رہتے تھے اس کا نام زھرۃ تھا، جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی طرف روانہ ہوئے اس وقت وہ کعب بن اشرف پر ماتم کر رہے تھے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو مدینہ سے نکل جانے کا حکم دیا۔
عبداللہ بن ابی نے ان کو پیغام بھیجا کہ وہ اپنے قلعوں سے نہ نکلیں، اگر انہوں نے تم سے قتال کیا تو ہم تمہارے ساتھ مل کر ان سے قتال کریں گے اور اگر تم کو نکال دیا گیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل جائیں گے۔ تاہم منافقین ان کی مدد کو نہ پہنچے۔
دوسرے دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لشکر لے کر روانہ ہوئے اور ان کا اکیس روز تک محاصرہ کیا، پھر اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور منافقین کی مدد سے مایوس ہوگئے، پھر انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صلح کا سوال کیا، آپ نے انکار فرمایا اور کہا اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں کہ تم مدینہ سے نکل جائو، پھر انہوں نے اس شرط پر جلا وطنی کو قبول کرلیا کہ وہ اسلحہ کے علاوہ باقی ساز و سامان اپنے اونٹوں پر لاد کرلے جائیں گے، ان کو وہ سامان لے جانے کی اجازت دی جائے، پھر دو گھرانوں کے سوا سب شام چلے گئے، یہ دو گھرانے آل ابی الحقیق اور آل حی بن اخطب تھے، یہ لوگ خیبر چلے گئی اور ان کی ایک جماعت حیرہ چلی گی۔
اس واقعہ کا ذکر قرآن مجید کی اس آیت میں ہے :” ھو الذی اخرج الذین کفروا من اھل الکتب من دیارھم ‘ (الحشر : ٢) جس ذات نے اہل کتاب میں سے کافروں کو یعنی نبو نضیر کو ان کے ان گھروں سے نکال دیا جو مدینہ میں تھے۔
امام ابن اسحاق نے کہا، جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے واپس ہوچکے تھے، اس وقت بنو نضیر کو جلا وطن کیا تھا اور بنو قریظہ کو غزوہ احزاب سے واپسی میں فتح کیا تھا اور ان دونوں کے درمیان دو سال کا وقفہ تھا۔
نیز اس آیت میں فرمایا :” لا ول الحشر۔ “
زہری نے کہا : بنو نضیر دنیا میں وہ پہلے لوگ تھے جن کا شام میں حشر کیا گیا۔
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : جس شخص کو اس میں شک ہو کہ میدان حشر شام میں قائم ہوگا وہ اس آیت کو پڑھے، کیونکہ اس دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا تھا : نکل جائو، انہوں نے پوچھا : کہاں جائیں ؟ آپ نے فرمایا : ارض محشر میں پ، پھر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (الکشف و البیان ج ٩ ص 266-270 ملحضا ً داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢٢ ھ)
علامہ محمد بن عمر واقدی متوفی ٢٠٧ ھ علامہ عبدالملک بن ہشام متوفی ٢١٣ ھ علامہ محمد بن احمد ذہبی متوفی ٧٤٨ ھ نے بھی غزوہ بنو نضیر کا واقعہ کم و بیش اسی طرح لکھا ہے۔ (کتاب المغازی ج ١ ص 308 دارالکتب العلمیہ، ١٤٢٤ ھ سیرۃ ابن ہشام مع الروض الانف ج ٣ ص 387 دارالکتب العلمیہ، ١٤١٨ ھ تاریخ الاسلام، المغازی ص ٢٤٣ دارلاکتب العربی، ١٤١٩ ھ)
” اول حشر “ کا معنی
الحشر : ٢ میں ” اول الحشر “ فرمایا ہے :” الحشر “ سے مراد ہے : ایک جماعت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ نکالنا اور اس کو ” اول حشر “ حسب ذیل وجوہ سے فرمایا ہے :
(١) حضرت ابن عباس (رض) اور اکثر مفسرین کا قول ہے کہ ان اہل کتاب کو پہلی مرتبہ جزیرہ عرب سے نکالا گیا اور دوسری بار حضرت عمر نے یہودیوں کو مدینہ طے جلا وطن کر کے شام کی طرف نکالا۔
(٢) میدان محشر شام کی سر زمین میں قائم ہوگا جب تمام مردوں کو زندہ کر کے شام کے علاقہ میں جمع کیا جائے گا اور دنیا میں اس سر زمین میں پہلی بار بنو نضیر کو نکالا گیا تھا۔
(٣) یہودیوں کو قتال کے لئے پہلی بار ان کی بستی سے نکال کر جمع کیا گیا اور پھر ان کو جلا وطن کیا گیا۔
(٤) قتادہ نے کہا : یہ پہلا حشر ہے اور دوسرا حشر اس وقت ہوگا جب قرب قیامت میں ایک آگ تمام لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف لے جائے گی۔ (النکت و العیون ج ٥ ص 498-499 معالم التنزیل ج ٥ ص 52-53) نیز اس آیت میں فرمایا : وہ اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے منہدم کر رہے تھے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے بھی۔ اس انہدام کی تفسیر میں حسب ذیل وجوہ بیان کی گئی ہیں :
(١) جب بنو نضیر کو یہ یقین ہوگیا کہ ان کو جلا وطن کردیا جائے گا تو اب ان کو اس سے جلن ہوئی کہ ان کے گھروں میں مسلمان رہیں گے تو وہ اپنے گھروں کو اندر سے توڑ رہے تھے اور مسلمان ان کے گھروں کو باہر سے توڑ رہے تھے۔
(٢) قتادہ نے کہا : جب منافقوں نے ان کو یقین دلایا کہ وہ ان کی مدد کریں گے تو انہوں نے اپنے گھروں کو منہدم کر کے قلعوں کی طرح بنایا اور مسلمانوں نے ان کے گھروں کو ہر طرف سے توڑ دیا۔
(٣) جب مسلمان ان پر غالب آگئی تو انہوں نے ان کے گھروں کو منہدم کردیا اور بنو نضیر نے اپنے گھر کی پچھلی دیواروں کو منہدم کیا تھا تاکہ وہ گھروں سے نکلنے کا راستہ بنالیں۔
(٤) مسلمان ان کی بستی کو باہر سے منہدم کر رہے تھے اور بنو نضیر گھروں کو اندر سے منہدم کر رہے تھے تاکہ اپنے گھروں کے دروازوں، کھڑکیوں اور دیگر اشیاء کو نکال کرلے جائیں۔
(زاد المسیرج ٨ ص 204 النکت والعیون ج ٥ ص 499، الکشف والبیان ج ٩ ص 269 معالم التنزیل ج ٥ ص ٥٣ )
بنو نضیر کے عذاب سے عبرت حاصل کرنے کی تفصیل
نیز اس آیت میں فرمایا : سو اے آنکھوں والو ! عبرت حاصل کرو۔
اس آیت کی تفسیر حسب ذیل وجوہ سے کی گئی ہے :
بنو نضیر نے اپنے قلعوں پر اور اپنی شوکت اور قوت پر گھمنڈ کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے ان کے قلعوں کو منہدم کردیا اور ان کی شوکت اور قوت کو توڑ ڈالا، انہوں نے یہودیوں کی امداد پر بھروسا کیا تھا، وہ ان کی امداد کو نہ پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے آنکھوں والو ! عبرت حاصل کرو، اور اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اعتماد نہ کرو، لہٰذا عابد اور زاہد کو چاہے کہ وہ اپنے زہد اور عبادت پر بھروسا نہ کرے اور عالم فاضل کو چاہیے کہ وہ اپنے علم و فضل پر اعتماد نہ کرے، بلکہ ہر شخص اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت پر توکل کرے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دے گا۔ صحابہ نے پوچھا، یا رسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا : مجھ کو بھی نہیں، سوا اس کے کہ اللہ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے، تم ٹھیک ٹھیک اور صحت کے قریب عمل کرو، اور صبح اور شام کے کچھ وقت میں نیک کام کرو اور درمیانہ روش رکھو۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٤٦٣ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨١٦ سنن نسائی رقم الحدیث : ٥٠٤٩ )
اس جگہ یہ اعتراض ہوتا ہے کہ بنو نضیر پر ان کے کفر اور ان کی عہد شکنی کی وجہ سے دنیا میں عذاب آیا کہ ان کو جلا وطن کردیا گیا اور انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے گھر منہدم کئے اور وہ آخرت میں عذاب کے مستحق ہوئے، حلاان کہ اور بہت لوگوں نے بھی کفر کیا اور عہد شکنی کی، مگر ان پر دنیا میں عذاب نہیں آیا۔ امام رازی نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا ہے کہ اس آیت میں عذاب سے مراد عام ہے، خواہ وہ دنیا کا عذاب ہو یا آخرت کا، لیکن میرے نزدیک یہ اعتراض سرے سے وارد ہی نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ایک مخصوص واقعہ بیان فرمایا ہے کہ بنو نضیر پر ان کے کفر اور ان کی عہد شکنی کی وجہ سے دنیا میں عذاب آیا اور اس آیت میں کوئی قاعدہ کلیہ نہیں بیان فرمایا کہ جو لوگ بھی کفر اور عہد شکنی کریں گے ان پر لازماً دنیا میں عذاب آئے گا۔
علماء اصول نے اس آیت سے قیاس کے ثبوت پر استدلال کیا ہے، ہم نے قیاس کے حجت ہونے پر الشوریٰ : ١٠ ” تبیان القرآن “ ج ٠١ ص ٥٥١ میں بہت تفصیل سے کلام کیا ہے۔
اعتبار کا لغوی اور اصطلاحی معنی
اس آیت میں ” فاعتبروا “ کا لفظ ہے، اس کا مصدر ” اعتبار “ ہے، علامہ محمد بن عبالقادر رازی حنفی متوفی ٦٦٠ ھ اس کے مادہ عبر کے متعلق لکھتے ہیں :
عبرت کا معنی ہے : نصیحت حاصل کرنا، دوسرے کے حال پر اپنے آپ کو قیاس کرنا ” عبر “ کا معنی ہے : آنسو بہنا ” غبر “ کا معنی ہے : راستہ سے گزرنا ” عبر “ کا معنی ہے : کسی شخص کے مافی الضمیر کو بیان کرنا، زبان سے دل کی ترجمانی کرنا۔ (مختار الصحاح ص 246 داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٩ ھ)
علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی 502 ھ لکھتے ہیں :
” عبر “ کا اصل معنی ہے : ایک حال سے دوسرے حال کی طرف تجاوز کرنا، اس وجہ سے کہتے ہیں، دریا عبور کرتا ہے اور آنکھ سے آنسو گرتا ہے اور فلاں راستے سے گزرتا ہے اور اعتبار اور عبرت اس کو کہتے ہیں کہ انسان حاضر چیز کا مشاہدہ کر کے اس چیز کی معرفت حاصل کرے جو حاضر نہیں ہے اور تعبیر، خواب کی تاویل کے ساتھ خاص ہے، جس میں ظاہر سے باطن کی طرف انتقال ہوتا ہے۔ (المفردات ج ٢ ص 416 مکتبہ نزارمصطفی مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)
علامہ خلیل بن احمد فراہیدی متوفی 175 ھ نے کہا : مضای کے واقعات سے سب سیکھنا عبرت ہے۔ (کتاب العین ج ٢ ص 1125 مطبع باقری، قم، ١٤١٤ ھ)
امام فخر الدین حمد بن عمر رازیم توفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :
اعتبار کا لفظ عبور سے ماخوذ ہے، اس کا معنی ہے : ایک چیز کا دوسری چیز کی طرف تجاوز کرنا، اس لئے آنسو کو عبرت کہتے ہیں کیونکہ وہ آنکھ سے تجاوز کرتا ہے اور خواب کی تاویل کو تعبیر کہتے ہیں کیونکہ تعبیر بیان کرنے والا متخیل سے معقول کی طرف منتقل ہوتا ہے اور الفاظ کو عبارات کہتے ہیں، کیونکہ بولنے والے کی زبان سننے والے کی طرف معانی منتقلک رتی ہے، کہا جاتا ہے کہ سعید وہ شخص ہے جو دوسرے عبرت حاصل کرے، کیونکہ اس کی عقل دور سے کے حال سے اپنے حال کی طرف منتقل ہوتی ہے، اسی لئے مفسرین نے اعتبار کی تفسیر میں کہا ہے کہ حقائق اشیاء اور ان کی دلالت کی وجوہ میں غور و فکر کرنا، تاکہ اس سے اس کی جنس کی دوسری چیز حاصل ہو، اس کو اعتبار کہتے ہیں اور ” یا اولی الابصار “ کا معنی ہے : اے عقل والو اور بصیرت والو ! ، یا اے وہ لوگو جنہوں نے اس واقعہ کا مشاہدہ کیا ہے۔ (تفسیر کبیرج ١٠ ص ٥٠٤ داراحیاء التراث العربی، بیروت ١٤١٥ ھ)
علامہ عبداللہ بن عمر بیضاوی متوفی ٦٨٥ ھ لکھتے ہیں :
اس آیت سے اس پر استدلال کیا گیا ہے کہ قیاس حجت ہے، کیونکہ اس آیت میں ایک حال سے دور سے حال کی طرف تجاوز کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
علامہ اسماعیل بن محمد الحنفی المتوفی 1195 ھ اس عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں :
قیاس شرعی جو اپنی شروط کا جامع ہو حجت شرعیہ ہے، اس کی وجہ سے مقیس (فرع) میں حکم ظاہر ہوتا ہے اور وہ دلائل شرعیہ میں سے ہے، وجہ استدلال یہ ہے کہ ہم کو اعتبار کرنے کا حکم دیا اور اعتبار کا معنی ہے : کسی چیز کو اس کی نظری کی طرف لوٹا دینا، بایں طور کہ اس نظیر پر بھی اس چیز کا حکم لگایا جائے کیونکہ اس چیز اور اس کی نظیر میں علت مشترک ہوتی ہے۔ (حاشیۃ القونوی علی الیضاوی ج ١٩ ص ٩ دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢٢ ھ)
ترجمہ:
وہی ہے جس نے اہل کتاب میں سے کافروں کو پہلی بار جلا وطن کرنے کے لئے ان کو ان کے گھروں سے نکال، تمہیں ان کے نکلنے کا گمان (تک) نہ تھا اور وہ اس گھمنڈ میں تھے کہ ان کے قلعے ان کو اللہ (کے عذاب) سے بچا لیں گے، پس ان پر اللہ کا عذاب ایسی جگہ سے آیا جہاں سے ان کو گمان بھی نہ تھا، اور اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا، وہ اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے منہدم کر رہے تھے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے (بھی) سو اے آنکھوں والو ! عبرت حاصل کرو
القرآن – سورۃ نمبر 59 الحشر آیت نمبر 2
ٹیگز:-
Allama Ghulam Rasool Saeedi , تبیان القرآن , بنو نضیر , سورہ الحشر , سورہ حشر , غزوہ بنو نضیر