أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ مِنۡهُمۡ فَمَاۤ اَوۡجَفۡتُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ خَيۡلٍ وَّلَا رِكَابٍ وَّلٰڪِنَّ اللّٰهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞

ترجمہ:

اور اللہ نے جو اموال ان سے نکال کر اپنے رسول پر لوٹا دیئے حالانکہ تم نے ان کے حصول کے لئے نہ اپنے گھوڑے دوڑائے تھے نہ اونٹ، لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جن پر چاہے مسلط فرما دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ نے جو اوال ان سے نکال کر اپنے رسول پر لوٹا دیئے حالانکہ تم نے ان کے حصول کے لئے اپنے گھوڑے دوڑائے تھے نہ اونٹ، لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جن پر چاہے مسلط فرما دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ نے ان بستیوں والوں سے جو اموال نکال کر اپنے رسول پر لوٹا دیئے، سو وہ اللہ کے ہیں اور رسول کے اور (رسول کے) قربات داروں کے اور یتیموں کے اور مسکینوں کے اور مسافروں کے تاکہ وہ (اموال) تم میں صرف (صرف) مال داروں کے درمیان گردش نہ کرتے رہیں، اور رسول تم کو جو دیں اس کو لے لو، اور جس سے تم کو روکیں اس سے رک جائو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ (الحشر : ٧-٦)

فئے کا لغوی اور شرعی معنی

اس آیت میں ” افائ “ کا لفظ ہے، اس کا مصدر ” فیی “ ہے، علامہ راغب اصفہاین اس کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

فئے کا معنی ہے : حالت محمودہ کی طرف رجوع کرنا اور اس مال غنیمت کو فئے کہتے ہیں جس میں مسلمانوں کو کوئی مشقت نہ ہو۔ (المفردات ج ٢ ص 502-503 مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ : ١٤١٨ ھ)

علامہ ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ لکھتے ہیں :

مشرکین کے جو اموال مسلمانوں کے قبضہ میں آجائیں، وہ اموال فئے ہیں، لہٰذا غنیمت، جزیہ اور خراج یہ سب فئے ہیں، کیونکہ یہ تمام وہ چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کفار کی ملکیت سے نکال کر مسلمانوں کی ملکیت میں داخل کردیں، ہرچند کہ غنیمت بھی فئے ہے لیکن وہ بعض خصوصیات کی وجہ سے فئے سے الگ ہوگئی کہ جو اموال کفار سے بذریعہ جنگ حاصل ہوں ان کو غنیمت کہتے ہیں، اور ان اموال میں خمس (٥/١) نکالنے کے بعد ان کو مجاہدین پر تقسیم کردیا جاتا ہے اور جو مال فئے ہوں وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زیر انتظام رہتے ہیں، ان کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی ضروریات، اپنے اقرباء، فقراء، مساکین، مسافروں اور عام مسلمانوں کی فلاح اور بہبود پر خرچ کرتے ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے بعد ان کا مصرف فقرائ، مساکین، مسافر اور عام مسلمانوں کی ضروریات ہیں، کیونکہ حضرت مالک بن اوس بن حدثان (رض) کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے فرمایا : بنو نضیر کے اموال فئے تھے ان اموال کو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف پلٹا دیا، ان کے حصول کے لئے مسلمانوں نے اپنے اونٹ اور گھوڑے نہیں دوڑائے تھے، یہ اموال خاص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تصرف میں ھتے، آپ ان اموال میں سے اپنے اہل ویعال کے لئے ایک سال کا خرچ نکالتے تھے اور باقی اموال کو جہاد فی سبیل اللہ کے لئے سواریوں اور ہتھیاروں میں خرچ کرتے تھے۔ علامہ ابوبکر جصاص فرماتے ہیں : یہ وہ اموال فئے ہیں جن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تصرف کرتے تھے، ان اموال میں کسی کا حق نہیں ہے، الآیہ کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان اموال میں سے کسیک و کچھ عطا فرما دیں، ان اموال میں سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اہل پر خرچ کرتے تھے اور باقی اموال کو سواریوں اور ہتھیاروں پر خرچ کرتے تھے، کیونکہ ان اموال کو مسلمانوں نے جنگ کے ذریعہ حاصل نہیں کیا تھا بلکہ صلح کے ذریعہ حاصل کیا تھا، ارض فدک اور عرینہ کے اموال کا بھی یہ یہ حکم ہے۔ قرآن مجید میں فئے کے متعلق سورة حشر کی جو آیات ہیں ان میں یہ دلیل ہے کہ کفار کے جو اموال بغیر جنگ کے مسلمانوں کو حاصل ہوئے ہوں ان کو مسلمان کے بیت المال میں نہیں رکھا جائے گا بلکہ ان کو ان مصارف میں خرچ کیا جائے گا جن مصارف میں خراج اور جزیہ کے اموال کو خرچ کیا جاتا ہے، کیونکہ وہ اموال بنو نضیر کے اموال کے حکم میں ہیں کیونکہ ان کے حصول کے لئے مسلمانوں نے کوئی جنگ کی ہے نہ کوئی مشقت اٹھائی ہے۔ (احکام القرآن ج ٣ ص 429-430 سہیل اکیڈمی، لاہور، ١٤٠٠ ھ)

مال غنیمت اور مال فئے کو کفار کی ملکیت سے نکال کر مسلمانوں کو دینے کی وجہ

کفار سے جس نوع کے بھی اموال حاصل ہوتے ہیں، ان سب کی حقیقت یہ ہے کہ کفار کے باغی ہوجانے کی وجہ سے بحق سرکار ضبط ہونے کے بعد وہ اموال ان کی ملیکت سے نکل جاتے ہیں اور مالک حقیقی (یعنی اللہ تعالیٰ ) کی طرف لوٹ جاتے ہیں، اس لئے اموال کے اللہ کی طرف پلٹ آنے کو افاء اور فیئی سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن جن اموال کے حصول میں مسلمانوں کی جنگ اور جہاد کا دخل ہوتا ہے، اس مال کو اللہ تعالیٰ نے لفظ غنیمت سے تعبیر فرمایا، ارشاد ہوا :” واعلموا انما غنمتم من شیء الایۃ “ (الانفال : ٤) جان لو کہ مال تم نے بطور غنیمت حاصل کیا ہے اور کفار کے جس مال کے حصول میں جنگ اور جہاد کی ضرورت نہیں پڑتی، اللہ تعالیٰ نے اس کو فئے سے تعبیر فرمایا ہے اور ارشاد فرمایا :” ما افآء اللہ علی رسولہ من اھل القریٰ “ (الحشر : ٧) یعنی بنو نضیر اور بنو قریظہ کے جو مال اللہ تعالیٰ نے بغیر جنگ کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف پلٹا دیئے۔

سورة حشر کی ابتدائی آیات میں بنو نضیر کی ان جائیادوں اور املاک کا ذکر ہو رہا ہے جو پہلے بنو نضیر کی ملک تھیں اور ان کی جلا وطنی کے بعد وہ اسلامی حکومت کے قبضہ میں آگئیں، ان آیات میں ان متروکہ جائیدادوں کے انتظام اور ان کے اموال میں تصرف کرنے کا طریقہ بیان فرمایا ہے، کیونکہ یہ ایک علاقہ کے فتح ہونے کے بعد اس کے اسلامی مقبوضات میں شامل ہونے کا تصرف کرنے کا طریقہ بیان فرمایا ہے، کیونکہ یہ ایک علاقہ کے فتح ہونے کے بعد اس کے اسلامی مقبوضات میں شامل ہونے کا پہلا موقع تھا اور اس کے بعد بھی اس قسم کے بہت سے علاقے فتح ہونے والے تھے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ابتداء ہی میں ارضای پہلا موقع تھا اور اس کے بعد بھی اس قسم کے بہت سے علاقے فتح ہونے والے تھے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ابتداء ہی میں اراضی مفتوحہ کا قانون بیان فرما دیا۔ اس آیت میں یہ بات قابل غور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ان سے اپنے مفتوحہ کا قانون بیان فرما دیا۔ اس آیت میں یہ بات قابل غور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ان سے اپنے رسول کی طرف پلٹا دیا۔ ان الفاظ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ زمین اور یہاں کی ساری چیزیں اللہ کے باغیوں کا حق نہیں ہیں، اگر وہ ان چیزوں پر متصرف ہیں تو اس کی مثال اییس ہے جیسے ڈاکو اور باغی حکومت کے اموال پر قبضہ کر کے اس میں تصرف کرنے لگیں درحقیقت تمام اموال میں اصل یہ ہے کہ ان اموال کو ان کے حقیقی مالک اللہ رب العالمین کے احکام اور اس کی اطاعت اور عبادت میں خرچ کیا جائے اور ان اموال میں اس طرح کا خرچ صرف صالحین مئومنین ہی کرسکتے ہیں۔ اس لئے جو اموال بھی ایک جائز اور صحیح جنگ کے نتیجہ میں کافر کے قبضہ سے نکل کر اہل ایمان کے قبضہ میں آجائیں ان کی حقیقی حیثیت یہ ہے کہ ان کا مالک انہیں اپنے خائن ملازموں کیقبضہ سے نکال کر اپنے فرمانبردار ملازموں کی طرف پلٹاتا ہے، اس لئے ان املاک کو اسلامی قانون کی اصلاح میں فئے (پلٹا کر لائے ہوئے اموال) کہا جاتا ہے۔

مال غنیمت اور مال فئے کا فرق

مال غنیمت وہ مال ہے جس کو مسلمان فوج دشمن سے جنگ کر کے اور مقابلہ میں فتح یاب ہو کر دشمن سے حاصل کرتی ہے، لیکن فوج میں اس مال کو تقسیم کرنے کی صرف یہ وجہ نہیں ہے کہ چونکہ اس فوج نے لڑ کر یہ مال جیتا ہے، اس وجہ سے یہ مال اس کا حق ہے، بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مسلمانوں کو اس جنگ میں فتح عطا کی ہے اور درحقیقت یہ اس اسلامی نظام کی فتح ہے، جس کو قائم کرنے کے لئے مسلمانوں نے جنگ کی تھی، اس لئے مسلمانوں پر لازم ہے کہ خمس نکالنے کے بعد مال غنیتم کے عنوان سے ان کو جو مال دیا جائے اس مال کو وہ اللہ کے احکام اور اس کی اطاعت اور عبادت میں صرف کریں تاکہ دنیا کو معلوم ہو کہ جب کفار کے ہاتھ میں پیسہ ہو تو وہ اس کو کس طرح خرچ کرتے ہیں اور جب مسلمانوں کے ہاتھ میں پیسہ آئے تو وہ اس کو کس طرح صرف کرتے ہیں۔

مال غنیمت کے برخلاف مال فئے کی یہ نوعیت نہیں ہے کہ اس مال کو اسلامی فوج نے میدان جنگ میں لڑ کر جیتا ہے اور اس بناء پر اس مال کو اسلامی فوج میں تقسیم کردیا جائے، بلکہ مال فئے کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اپنے رسول اور مسلمانوں کو کفار پر غالب کردیا اور اسلام کے رعب اور ہیب سے کفار اپنے اموال کو چھوڑ کر بھاگے اور بغیر کسی جنگ کے مسلمانوں کے ہاتھوں میں کفار کے اموال آگئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے ظاہر ہوتا ہے : ” فما اوجفتم علیہ من خیل ولا رکاب “ (الحشر : ٦) یہ ایسے اموال نہیں ہیں جن پر تم نے اپنے گھوڑے یا اونٹ دوڑائے ہوں۔ اس وجہ یس اموال فئی میں فوج کا حق نہیں ہے کہ مال غنیمت کی طرح مال فئی کو بھی ان میں تقسیم کردیا جائے۔

اسلام میں غنیتم اور فئے کا حکم الگ الگ مقرر کیا ہے، غنیمت کا حکم سورة انفال کی آیت : ٤١ میں بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ مال غنیمت کے پانچ حصے کئے جائیں، چار حصے لڑنے والی فوج میں تقسیم کر دیئیج ائیں اور ایک حصہ بیت المال میں داخل کر کے اس کو یتامی مساکین مسافروں اور مسلمانوں کے عام رفاہی امور میں خرچ کیا جائے اور فئے کا حکم سورة حشر کی آیت : ٧ تا ١٠ میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اموال فئے کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے قرابت داروں، یتای، مساکین اور مسافروں پر خرچ کیا جائے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے بعد آپ کا حصہ ساقط ہوگیا، امام شافعی کے نزدیک یہ حصہ اب امام اور خلیفہ پر خرچ کیا جائے گا اور آپ کے قرابت داروں کا حصہ فقراء اور مساکین میں آگیا اور یہ تقسیم کی وہی صورت ہے جو خمس میں بیان کی گئی ہے۔ غنیمت اور فئے کا یہ ایک اجمالی فرق ہے، اس کی تفصیل آئندہ سطور میں ہم فقہاء اسلام کے مذاہب کے ذکر میں بیان کریں گے، اس سے پہلے کہ فئے اور غنیمت کی مزید وضاحت کریں، پہلے سورة حشر کی ان آیات کو بیان کرتے ہیں جو فئے کے احکام کا اصل ماخذ ہیں۔

قرآن مجید سے اموال فئے کے وقف ہونے پر دلائل

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(الحشر : ٧-٦) اور اللہ نے جو اموال ان سے نکال کر اپنے رسول پر لوٹا دیئے، حالانکہ تم نے ان کے حصول کے لئے نہ اپنے گھوڑے دوڑائے تھے نہ اونٹ، لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جن پر چاہے مسلط فرما دیتا ہے، اور اللہ ہر چیز قادر ہے۔ اللہ نے ان بستیوں والوں سے جو اموال نکال کر اپنے رسول پر لوٹا دیئے، سو وہ اللہ کے ہیں اور رسول کے، اور (رسول کے) قربات داروں کے اور یتیموں کے اور مسکینوں کے اور مسافروں کے تاکہ وہ (اموال) تم میں سے صرف مال داروں کے درمیان گردش نہ کرتے رہیں۔ اس کے بعد فرمایا :

والذین جآء ومن بعدھم (الحشر : ١٠) اور (یہ مال ان لوگوں کے لئے بھی ہے) جو پہلوں کے بعد آئے ہیں۔

ان آیات سے واضح ہوگیا کہ مال خمس اور مال فئے کے مصارف ایک جیسے ہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اموال کسی شخص کی شخصی ملکیت میں نہیں دیئے، حتیٰ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی اللہ تعالیٰ نے ان اموال کا شخصی مالک نہیں بنایا بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ اموال آپ کی تولیت اور انتظام میں کردیئے اور ان کے مصارف متعین کردیئے، تاکہ آپ ان اموال کو اپنی ضروریات میں خرچ کریں، اپنے قرابت داروں میں صرف کریں اور یتیموں، مکسینوں اور مسافروں پرخ رچ کریں، چناچہ اس باب کی احادیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان اموال کو اسی طرح خرچ کرتے تھے، نیز اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا ہے کہ ان اموال کے یہ مصارف اس لئے مقرر کئے ہیں تاکہ یہ مال تمہارے مال داروں کے درمیان ہی گردش نہ کرتا رہے، اس سے واضح ہوگیا کہ مال فئی کا کوئی شخص شخصی مالک نہیں ہے اور نہ اس میں وراثت جاری ہوسکتی ہے، نیز ان آیات کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” والذین جآء و من بعدھم “ (الحشر : ١٠) اور (یہ مال ان لوگوں کے لئے بھی ہے) جو پہلوں کے بعد آئے ہیں۔ اس آیت سے بھی یہ واضح ہوگیا کہ اموال فئے کسی شخص کی نجی اور شخصی ملکیت نہیں ہوتے بلکہ یہ مسلمانوں کے مفاد عامہ اور یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لئے قیامت تک وقف ہوتے ہیں اور اموال فئے کے قوف ہونے پر سورة حشر کی یہ نصوص قطعیہ ناطق اور شاہد ہیں۔

احادیث سے مال فئے کے وقف ہونے پر دلائل اور باغ فذک کا وقف ہونا

حضرت اوس بن مالک (رض) باین کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے مجھے بلوایا، میں دن چڑھنے کے بعد ان کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ وہ گھر میں خالی تخت پر چمڑے کے ایک تکیہ سے ٹیک لگائے بیٹھے ہیں، فرمانے لگے : اے مالک ! تمہاری قوم کے کچھ لوگ جلدی جلدی آئے تھے، میں نے انہیں تھوڑی سی چیزیں دینے کا حکم دے دیا ہے، تم وہ چیزیں لے کر ان کے درمیان تقسیم کردو، میں نے کہا : آپ میری علاوہ کسی اور کے ذمہ یہ کام لگا دیتے تو اچھا تھا، حضرت عمر نے فرمایا : اے مالک ! تم یہ چیزیں لے لو، اتنے میں (ان کا غلام) یرفاء اندر آیا اور کہنے لگا : حضرت عثمان، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف، حضرت زبیر اور حضرت سعد کے متعلق کیا حکم ہے ؟ (یعنی وہ اندر آنے کی جازت چاہتے ہیں) حضرت عمر نے کہا : اچھا اور انہیں اندر آنے کی اجازت دے دی اور وہ اندر آگئے پھر یرفاء آئے اور کہا : حضرت علی اور حضرت عباس کے بارے میں کیا حکم ہے حضرت عمر نے کہا : اچھا اور ان کو بھی اجازت دے دی، حضرت عباس نے کہا، اے امیر المومنین ! میرے اور اس جھوٹے، خطا کار، عہد شکن اور خائن کے درمیان فیصلہ کردیجیے، باقی صحابہ نے بھی کہا : ہاں ! اے امیر المومنین ! ان کے درمیان فیصلہ کردیجیے اور ان کی راحت دلایئے۔ حضرت مالک بن اوس نے کہا : میرا خیال تھا کہ ان دونوں نے ان صحابہ کو اسی لئے پہلے بھیجا تھا، حضرت عمر نے کہا، ٹھہرو ! میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ جس کے اذن سے آسمان اور زمین قائم ہیں، کیا تمہیں علم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : ہمارا وارث نہیں بنایا جائے گا، ہم نے جو کچھ بھی چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ! ، ضھر حضرت عمر، حضرت عمر نے کہا : ٹھہرو ! میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ جس کے اذن سے آسمان اور زمین قائم ہیں، کیا تمہیں علم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : ہمارے وارث نہیں بنایا جائے گا، ہم نے جو کچھ بھی چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ! پھر حضرت عمر، حضرت عباس اور حضرت علی کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : میں تم دونوں کو اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس کے اذن سے آسمان اور زمین قائم ہیں، کیا تم دونوں یہ جانتے ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا تھا کہ ہمارا وارث نہیں بنایا جائے گا ہم نے جو کچھ چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے، ان دونوں نے کہا : ہاں ! حضرت عمر نے کہا، بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک چیز کے ساتھ خاص کیا تھا جس کے ساتھ کسی اور کو خاص نہیں کیا تھا، یہ بستویں کے وہ اموال ہیں جو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر لوٹا دیئے تھے، یہ اموال اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہیں (یعنی اموال فئے) راوی کہتے ہیں ، ْْھے علم نہیں کہ انہوں نے اس سے پہلے والی آیت پڑھی تھی یا نہیں۔ پھر حضرت عمر نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارے درمیان بنو نضیر کے اموال تقسیم کردیئے، بخدا ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان اموال کو اپنے ساتھ خاص نہیں کیا اور نہ تمہیں چھوڑ کر ان اموال کو خود رکھا، حتیٰ کہ یہ مال باقی رہ گیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس مال سے ایک سال کا خرچ لے لیتے تھے، باقی جو بچتا وہ بیت المال میں رکھ لیتے، حضرت عمر نے کہا : ہاں ! پھر حضرت عمر نے حضرت عباس اور حضرت علی کو بھی وہی قسم دی جو باقی صحابہ کو دی تھی اور کہا، کیا تم کو اس کا علم ہے ؟ انہوں نے کہا، ہاں ! حضرت عمر نے کہا : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وصال ہوگیا تو حضرت ابوبکر نے کہا : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خلیفہ ہوں، پھر تم دونوں آئے، تم اپنے بھتجیے کی میراث سے طلب کرتے تھے اور یہ اپنی زوجہ کے لئے ان کے والد کی میراث سے طلب کرتے تھے تو حضرت ابوبکر نے کہا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : ہم کسی کو وارث نہیں بناتے، ہم نے جو کچھ بھی چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے، سو تم دونوں نے حضرت ابوبکر کو جھوٹا، گناہ گار، عہد شکن اور خائن گمان کیا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ حضرت ابوبکر سچے، نیک، ہدایت یافتہ، اور حق کی پیروی کرنے والے ہیں، پھر حضرت ابوبکر فوت ہوگئے اور میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر کا خلیفہ بنایا گیا، پس تم دونوں مجھے بھی جھوٹا، گناہ گار، عہد شکن اور خائن گمان کیا (یعنی میرے ساتھ وہ سلوک کیا جو جھوٹے اور خائن کے ساتھ کرتے ہیں) اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں سچا، نیک، ہدایت یافتہ اور حق کی پیروی کرنے والا ہوں، پھر میں ان اموال کا ولی بنایا گیا پھر تم اور یہ میرے پاس آئے درآں حالیکہ تم دونوں کی رائے متفق تھی، تم دونوں نے کہا : ان اموال کی نگہدشات ہمارے سپرد کردیجیے، میں نے کہا، اگر تم چاہو تو میں یہ اموال اس شرط کے ساتھ تمہارے سپرد کردیتا ہوں کہ تم ان اموال میں اسی طرح تصرف کرو گے جس طرح ان اموال میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تصرف کرتے تھے، تم دونوں نے اس کا اقرار کیا، حضرت عمر نے کہا، کیا اسی طرح معاہدہ ہوا تھا ؟ انہوں نے کہا، ہاں ! حضرت عمر نے کہا، اب پھر تم دونوں میرے پاس آئے ہو کہ میں تم دونوں کے درمیان فیصلہ کروں، نہیں ! خدا کی قسم ! قیامت تک میں تمہارے درمیان اس کے سوا کوئی اور فیصلہ نہیں کروں گا، اگر تم ان اموال کا انتظام کرنے سے عاجز ہوگئے ہو تو پھر یہ مجھے واپس کردو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٣٥٨ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٩، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٩٦٣ سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٦١٠ السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ٤٤٥٠ )

کیا حضرت علی نے نبی کا وارث نہ بنانے کی روایت میں حضرت ابوبکر اور عمر کو جھوٹا، عہد شکن …خائن اور گناہ گار گمان کیا تھا ؟

ملا باقر مجلسی نے کہا ہے کہ اس حدیث کے باطل اور موضوع ہونے پر یہ دلیل ہے کہ ” صحیح مسلم “ میں مالک بن اوس سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے حضرت علی اور حضرت عباس سے کہا : حضرت ابوبکر نے تم دونوں سے یہ کہا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : ہم کسی کو وارث نہیں بناتے، ہم نے جو کچھ ترک کیا ہے وہ صدقہ ہے، پس تم دونوں نے ابوبکر کو جھوٹا، عہد شکن، خائن اور گناہ گار گمان کیا اور اللہ خوب جانتا ہے کہ ابوبکر سچے، نیک اور حق کی پیروی کرنے والے تھے، پھر ابوبکر فوت ہوگئے اور میں رسول اللہ کا خلیفہ ہوا، پھر تم دونوں نے مجھ کو جھوٹا، عہد شکن، خائن اور گناہگار گمان کیا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں سچا، نیک اور حق کی پیروی کرنے والا ہوں۔ ملا باقر مجلسی کہتے ہیں کہ ” صحیح مسلم “ کی اس روایت سے یہ ثابت ہوگیا کہ حضرت علی، حضرت ابوبکر کو اس روایت میں جھوٹا گردانتے تھے اور حضرت علی کا اس روایت کو جھوٹا قرار دینا اس روایت کی باطل اور موضوع ہونے پر واضح دلیل ہے، کیونکہ حضرت علی حق کے سوا کچھ نہیں کہتے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت علی (رض) بھی اس حدیث کی صداقت کے معترف تھے جیسا کہ مالک بن اوس کی اسی روایت میں ہے، حضرت عمر نے حضرت علی اور حضرت عباس سے فرمایا :

میں تم کو اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس کی اجازت سے زمین اور آسمان قائم ہیں، کیا تم دونوں کو یہ عمل ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : ہمارا وارث نہیں بنایا جائے گا، ہم نے جو کچھ چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے ؟ حضرت عباس اور حضرت علی دونوں نے کہا : ہاں (ہمیں علم ہے) (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٩ )

نبی کا وارث نہ بنانے کی حدیث پر اشکالات کے جوابات

اس جگہ پر اشکال ہوتا ہے کہ حضرت عباس اور حضرت علی کو اس حیدث کا علم تھا اور جب انہیں علم تھا تو حضرت فاطمہ کو بھی یقینا علم ہوگا تو پھر ان حضرات نے حضرت ابوبکر سے میراث کا مطالبہ کیوں کیا اور پھر دوبارہ حضرت عمر سے میراث کا مطالبہ کیوں کیا ؟

حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ حضرت علی، حضرت فاطمہ اور حضرت عباس اس حدیث کے تو معترف تھے لیکن اس حدیث کو عام نہیں سمجھتے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ترکہ میں سے کسی چیز کا بھی کوئی وارث نہیں ہوگا، ان کے نزدیک اس حدیث کا مفہوم یہ تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ترکہ میں سے بعض چیزوں کا کوئی وارث نہیں ہوگا اور باقی متروکات میں وراثت جاری ہوگی اور خیبر کی بعض اراضی اور فدک کے متعلق ان کا گمان تھا کہ اس میں وراثت جاری ہوگی، اس وجہ سے وہ ان میں وراثت کو طلبک رتے تھے اس کے برعکس حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور دیگر صحابہ اس حدیث کو عموم پر محمول کرتے تھے اور اس حدیث کی تعمیم اور تخصیص میں ان کی آراء اور اجتہاد میں اختلاف ہوگیا، حضرت علی اور حضرت عباس کو اپنے مئوقف پر اصرار تھا اس وجہ سے پہلے انہوں نے حضرت ابوبکر سے اور پھر حضرت عمر سے میراث کی تقسیم کا مطالبہ کیا۔ (فتح الباری ج ٦ ص ٢٠٧ محصلاً لاہور، ١٤٠١ ھ)

دوسرا اشکال یہ ہے کہ حضرت عمر نے جو حضرت عباس اور حضرت علی سے فرمایا کہ تم دونوں نے پہلے ابوبکر کو اور پھر مجھے جھوٹا، عہد شکن اور خائن گمان کیا اس کا کیا محمل ہے ؟ علامہ ابی مالکی لکھتے ہیں کہ علامہ مازری مالکی نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ یہ باب تنزیل سے ہے یعنی تم دونوں نے حضرت ابوبکر کے استدلا اور حجت کو تسلیم نہیں کیا اور برابر میرثا کی تقسیم کا مطالبہ کرتے رہے، خلاصہ یہ ہے کہ تم نے سچے شخص کے ساتھ جھوٹے شخص کا معاملہ کیا نہ یہ کہ تم نے ان کو فی الواقع جھوٹا سمجھا۔ عالمہ ابی مالکی لکھتے ہیں کہ یہاں ہمزہ استفہام محذوف ہے یعنی ” افرایتماہ کاذبا غادراً خائناً آئماً “ کیا تم نے ابوبکر کو جھوٹا، عہد شکن، خائن اور گناہ گار سمجھا تھا ؟ اور یہ استفہام انکاری ہے، یعنی جب تم حضرت ابوبکر کو جھوٹا اور عہد شکن نہیں سمجھتے تھے تو پھر کیوں بار بار میراث کی تقسیم کا مطالبہ کرتے تھے ؟ (اکمال اکمال العلم ج ٥ ص 77-78 دارلاکتب العلمیہ بیروت)

میں کہتا ہوں کہ ان توجیہات کے صحیح اور صواب ہونے کی دلیل یہ یہ کہ حضرت علی (رض) نے اپنے دور خلافت میں ان اراضی کو حضرت فاطمہ کی اولاد کی ملکیت میں نہیں دیا اور اس سے یہ ظاہر ہوگیا کہ بعہد میں حضرت علی کو یہ شرح صدور ہوگیا کہ اس حدیث کے بارے میں حضرت ابوبکر کا اجتہاد صحیح اور صائب تھا اور یہ کہ یہ حدیث اپنے عموم پر ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متروکات میں سے کسی چیز میں ورثات جاری نہیں ہوگی۔

ہم نے جو اس حدیث کی تحقیق کی ہے اس سے یہ واضح ہوگیا کہ حضرت علی اور حضرت عمر کا اس حدیث سے استدلا میں اختلاف تھا اور اس حدیث میں اہل بیت کا اختالف نہیں تھا، نہ حضرت علی، حضرت فاطمہ اور حضرت عباس میں سے کسی نے اس حیدث کا انکار کیا تھا، جیسا کہ ملا باقر مجلس نے سمجھا ہے بلکہ انہوں نے قسم کھا کر اس حدیث کا اعتراف کیا اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ ائمہ شیعہ نے بھی اس حدیث کو کئی اسانید سے روایت کیا ہے جیسا کہ ہم نے شرح صحیح مسلم ج ٥ ص 460-461 میں اس کو مفصل بیان کیا۔

نبی کا وارث نہ بنانے کی تائید میں دیگر احادیث

ام المومنین حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صاحبزادی حضرت فاطمہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر سے یہ سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو فئی عطا کیا تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں جو کچھ چھوڑا ہے اس میں ان کی میراث کو تقسیم کریں، حضرت ابوبکر نے ان سے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمارا وارث نہیں بنایا جائے گا، ہم نے جو کچھ چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٢٤٠ )

امام بخاری اپنی سند کے ساتھ حضرت عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں :

حضرت مالک بن اوس بن حدثان (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) (حضرت عثمان، حضرت عبد الرحمٰن، حضرت زبیر اور حضرت سعد سے) کہا : ٹھہرو ! میں تم کو اللہ کی قسم دے کر سوال کرتا ہوں، جس کے اذن سے آسمان اور زمین قائم ہیں کیا تم کو علم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : ہمارا وارث نہیں بنایا جائے گا، ہم نے جو کچھ چھوڑا وہ صدقہ ہے ؟ انہوں نے کہا، بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا تھا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :5358)

باغ فدک کو وقف قرار دینے پر مفصل بحث اور علماء شیعہ کے اہم اعترضاتا کے جوابات پڑھنے کے لئے ” شرح صحیح مسلم “ ج ٥ ص 361-460 کا مطالعہ فرمائیں۔

” دولۃ “ کا معنی

نیز الحشر : ٧ میں فرمایا : تاکہ وہ (اموال) تم میں سے (صرف) مال داروں کے درمیان گردش کرتے نہ رہیں۔

اس آیت میں ” دولۃ “ کا لفظ ہے، علامہ حسین محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ اس کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

” الدولۃ “ اور ” الدولۃ “ واحد ہیں، ایک قول یہ ہے کہ ” الدولۃ “ کا اطلاق مال میں ہوتا ہے ” الدولۃ “ کا اطلاق حرب میں ہوتا ہے، اور دولت اس چیز کو بھی کہتے ہیں جو بعینہ گردش کرتی رہتی ہے، کبھی ایک کے پاس، کبھی دوسرے کے پاس، قرآن مجید میں ہے :

وتلک الایام ندا ولھا بین الناس (آل عمران : ١٤٠) ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ (المفردات ج ١ ص 232، مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہر حکم واجب الاطاعت ہے

اس کے بعد اس آیت میں فرمایا : اور رسول تم کو جو دیں اس کو لے لو، اور جس سے تم کو روکیں اس سے رک جائو۔

یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم کو مال غنیمت سے جو کچھ عطا کریں، اس کو قبول کرلو، اور تم کو مال غنیمت میں خیانت

کرنے سے روکیں تو اس سے رک جائو۔ اس آیت کا شان نزول اگرچہ مال غنیمت کے ساتھ خاص ہے، لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وسلم کے تمام اور مر اور نواہی اور آپ کے تمام احکام اس میں داخل ہیں۔

حصن بصری نے کہا، اس آیت کا معنی ہے : میں تم کو مال فئے سے جو کچھ دوں اس کو قبول کرلو، اور جس چیز سے تم کو منع کر دوں اس کو طلب نہ کرو۔

علاہم الماوردی المتوفی ٤٥٠ ھ نے کہا : یہ آیت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام اوامر اور نواہی پر محمول ہے کیونکہ آپ کا ہر حکم صرف نیک کام کے لئے ہوتا ہے اور انہی اور ممانعت برائی کے لئے ہوتی ہے۔ (النکت والعیون ج ٥ ص 504 دارالکتب العلمیہ، بیروت)

تبیان القرآن سورۃ نمبر 59 الحشر آیت نمبر 6