يَوۡمَ يَبۡعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيۡعًا فَيَحۡلِفُوۡنَ لَهٗ كَمَا يَحۡلِفُوۡنَ لَـكُمۡ وَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ عَلٰى شَىۡءٍ ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمۡ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ- سورۃ نمبر 58 المجادلة آیت نمبر 18
sulemansubhani نے Saturday، 23 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يَوۡمَ يَبۡعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيۡعًا فَيَحۡلِفُوۡنَ لَهٗ كَمَا يَحۡلِفُوۡنَ لَـكُمۡ وَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ عَلٰى شَىۡءٍ ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمۡ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ۞
ترجمہ:
جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو یہ اس کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھا رہے ہیں اور ان کا یہ گمان ہوگا کہ وہ کسی دلیل پر ہیں، سنو ! بیشک وہی جھوٹے ہیں
دنیا اور آخرت میں منافقین کی جھوٹی قسمیں
المجادلہ : ١٨ میں فرمایا : جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو یہ اس کے سامنے بھی اس طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھا رہے ہیں اور ان کا گمان یہ ہوگا کہ وہ کسی (ٹھوس) دلیل پر ہیں، سنو ! بیشک وہی جھوٹے ہیں۔
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : منافقین قیامت کے دن اسی طرح جھوٹی قسمیں کھائیں گے جس طرح وہ دنیا میں اپنے ساتھیوں کی حمایت میں جھوٹی قسمیں کھایا کرتے تھے، قیامت کے دن ان کی جھوٹی قسم کا ذکر اس آیت میں ہے :
(الانعام : ٢٣) اللہ کی قسم ! ہمارے پروردگار کی، ہم مشرک نہ تھے۔
اور مسلمانوں کے سامنے ان کی جھوٹی قسم کھانے کا ذکر اس آیت میں ہے :
(التوبہ : ٥٦) اور وہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں گے کہ وہ تم میں سے ہیں۔
دراصل منافقین اپنے نفاق میں اس قدر راسخ ہیں کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح وہ دنیا میں جھوٹی قسمیں کھانے سے بچ جاتے تھے اور ان کو قتل نہیں کیا جانا تھا، اسی طرح آخرت میں بھی جھوٹی قسمیں کھانے سے وہ بچ جائیں گے اور ان کو عذاب نہیں دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا : سنو ! بیشک وہی جھوٹے ہیں۔