8-باب حب الرسول صلى الله عليه وسلم من الإيمان

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت امور ایمان سے ہے

اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت اس طرح ہے کہ دونوں بابوں میں محبت کا تعلق ایمان سے ہے ۔

 

١٤- حدثنا ابـواليـمـان قـال أخبرنا شعيب قال حدثنا أبو الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة رضی الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فوالذي نفسي بيده لا يؤمن أحدكم حتى اكون أحب إليه من والده وولده .

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں ابوالیمان نے حدیث بیان کی،انہوں نے کہا: ہمیں شعیب نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہیں ابوالزناد نے، از اعرج از ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پس اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا، جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد اور اس کی اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں-

15-حدثنا يعقوب بن إبراهيم قال حدثنا ابن علية عن عبد العزيز بن صهيب، عن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم (ح). وحدثنا ادم قال حدثنا شعبة عن قتادة عن أنس قال قال النبی صلى الله عليه وسلم لا يؤمن أحدكم حتى اكون أحب إليه من والده وولده والناس أجمعين .

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابن علیہ نے از عبد العزیزبن صہی ب از حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( ح ) اور ہمیں آدم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے ازقتادہ از حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ۔

( صحیح مسلم : 44 سنن نسائی:۰ ۵۰۳ سنن ابن ماجہ : 67 مسند ابوعوانه ج ا ص 33 سنن دارمی :2742 مسند ابویعلی :۳۰۴۹ صحیح ابن حبان : ۱۷۹ شعب الایمان : ۱۳۷۴ شرح السنتہ 22۲۴ المعجم الاوسط : ۲۸۵۴ مسند احمد ج 3 ص 177 طبع قدیم مسند احمد : 12814 – ج ۲۰ ص ۲۰۲ مؤسسة الرساله بیروت)

حدیث : 14 کے رجال کا تعارف

(۱) پہلا راوی ابوالیمان ہے، اس کا تعارف پہلے کیا جا چکا ہے

( ۲ ) دوسرا راوی شعیب بن ابی حمزہ والحمصی ہے، اس کا تعارف بھی پہلے کیا جا چکا ہے

( ۳ ) ابوالزناد عبد اللہ بن ذکوان المدنی القرشی ہے، انہوں نے تابعین کی ایک جماعت سے احادیث روایت کی ہیں اور ان سے بھی تابعین نے احادیث روایت کی ہیں یہ ۶ ۳ سال کی عمر میں ۱۳۰ھ میں فوت ہو گئے تھے ۔

( ۴ ) چوتھے راوی الاعرج ہیں ان کا نام ابوداؤد عبدالرحمان بن هرمز ہے، یہ تابعی مدنی قرشی ہیں انہوں نے ابوسلمہ اور عبدالرحمان بن القاری سے احادیث روایت کی ہیں اور ان سے الزھری، یحیی الانصاری اور دیگر نے احادیث روایت کی ہیں، ان کی توثیق پر اتفاق ہے یہ 117ھ میں اسکندریہ میں فوت ہو گئے تھے۔

(۵) پانچویں راوی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں ان کا تعارف بھی پہلے کیا جا چکا ہے۔ (عمدۃ القاری ج۱ ص ۲۳۳)

حدیث: ١٥ کے رجال کا تعارف

(۱) ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم الدورقی العبدی یہ ثقہ ،حافظ، اور متقن تھے انہوں نے ابن عیینہ، القطان، یجی بن ابی کثیر اور بہت سے ائمہ سے احادیث کا سماع کیا ہے اور ان سے ابوزرعہ، ابو حاتم اور ایک جماعت نے سماع کیا ہے یہ ۲۵۲ھ میں فوت ہو گئے تھے۔

( ۲ ) ابن علیہ علیہ ان کی ماں ہیں اور ان کے والد ابراہیم بن سہل ہیں انہوں نے عبد العزیز بن صہیب اور ایوب السختیانی سے احادیث کا سماع کیا ہے ان کی جلالت اور توثیق پر اتفاق ہے یہ بغداد میں ۱۹۴ھ میں فوت ہو گئے۔

( ۳ ) عبدالعزیز بن صہیب، یہ تابعی ہیں انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے سماع کیا ہے ان کی توثیق پر اتفاق ہے۔

( ۴) آدم بن ابی ایاس ہیں، ان کا تعارف کیا جا چکا ہے۔

(۵) شعبہ بن الحجاج ہیں ،ان کا تعارف بھی ہو چکا ہے۔

(۲ ) قتادہ بن دعامہ ہیں، ان کا تعارف بھی کیا جاچکا ہے۔

( ۷ ) حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ ہیں ان کا تعارف بھی کیا جا چکا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج۱ ص ۲۳۷)

اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ اس حدیث میں محبت رسول کا ذکر ہے اور یہی باب کا عنوان ہے ۔

محبت رسول کی اقسام

اس باب میں امام بخاری نے دو حدیثیں روایت کی ہیں اور دونوں کا خلاصہ یہ ہے کہ کامل مومن وہ شخص ہوگا جو اپنے والد اپنی اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہو، اس لیے یہ جاننا چا ہیے کہ محبت کی اقسام کیا ہیں :

علامہ ابوالحسین علی بن خلف ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں:

محبت کی تین اقسام ہیں:

(۱) جلال اور عظمت کے ساتھ محبت، جیسے والد کے ساتھ محبت ہوتی ہے

(۲) شفقت اور رحمت کے ساتھ محبت، جیسے اولاد کے ساتھ محبت ہوتی ہے اور

(۳) استحسان اور حسن سلوک کے ساتھ محبت، جیسے تمام لوگوں کے ساتھ محبت ہوتی ہے۔ ۔

اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ جس کا ایمان کامل ہو گا، اس کو یہ معلوم ہوگا کہ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حق اور آپ کا فضل، اس کے والد، اس کی اولاد، اور سب لوگوں سے زیادہ ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو گمراہی سے نکال کر ہدایت دی اور اس کو دوزخ سے نجات دی ۔ (شرح صحیح البخاری لا بن بطال ج ا 66۲۲ مکتبه الرشد ریاض 1420ھ )

قاضی عیاض بن موسی مالکی اندلسی متوفی ۵۴۴ ھ لکھتے ہیں :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی ایک قسم ہے: آپ کی سنت کی نصرت کرنا اور آپ کی شریعت کی مدافعت کرنا اور آپ کی زیارت کی تمنا کرنا اور آپ کے اوپر اپنی جان اور مال کو خرچ کرنا ۔ (اکمال المعلم بفوائد مسلم ج۱ص۲۸۱-۲۸۰ دار الوفا، بیروت ۱۴۱۹ھ )

محبت رسول کی کیفیت

حافظ ابوالعباس احمد بن عمر القرطبی المالکی المتوفی 656 ھ لکھتے ہیں :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا سب کی محبتوں پر راجح ہونا ضروری ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو تمام اجناس میں کامل بنایا ہے اور آپ کو تمام انواع پر فضیلت دی ہے اور آپ میں تمام محاسن ظاہرہ اور باطنہ رکھے ہیں اور آپ کو اخلاق حسنہ اور خصائل جمیلہ کی خصوصیت عطا کی ہے۔

قاضی ابوالفضل نے کہا: جب تک کوئی شخص ہر والد اور ہر اولاد سے آپ کو افضل اعتقاد نہ کرے وہ مومن نہیں ہوسکتا اور اس کے کفر میں کوئی شک نہیں جو آپ کی تعظیم اور اجلال کا عقیدہ ہ نہ رکھے، لیکن اس حدیث کا یہ منشا نہیں ہے کہ آپ کے اعظم ہونے کا عقیدہ آپ کے سب سے زیادہ محبوب ہونے کو مستلزم نہیں ہے کیونکہ کبھی انسان کسی شخص کو بہت عظیم سمجھتا ہے اور اس کی محبت اپنے دل میں نہیں پاتا، یہی وجہ ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہ حدیث سنی کہ تم میں سے اس وقت تک کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں، تو حضرت عمر نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہیں سواۓ میری جان کے آپ نے فرمایا: اے عمر ! تمہاری جان سے بھی زیادہ ( میرا محبوب ہونا ضروری ہے ) حضرت عمر نے کہا: میری جان سے بھی زیادہ آپ محبوب ہیں آپ نے فرمایا: اب اے عمر ! ( یعنی اب تمہارا ایمان کامل ہے ) ( صحیح البخاری: 6632 مسند احمد ج ۴ ص 336)

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ یہ محبت صرف تعظیم کا اعتقاد نہیں ہے بلکہ آپ کی عظیم کے ساتھ آپ کی طرف دل مائل ہو اور جو شخص اپنے دل میں آپ کی طرف سب سے زیادہ میلان نہ لائے، اس کا ایمان کامل نہیں ہے، جیسے حضرت ابوسفیان کی بیوی حضرت ھند نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ پہلے میں آپ کے چہرہ کو سب سے زیادہ ناپسند کرتی تھی اور اب آپ کا چہرہ میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے اور جیسے حضرت عمرو ابن العاص رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا: میں نے اپنا تجزیہ کیا اور میرے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کوئی محبوب نہیں ہے اور نہ میری آنکھوں میں آپ سے زیادہ کوئی معظم ہے اور آپ کے جلال کی وجہ سے میں آپ کو نگاہ بھر کر نہیں دیکھ سکتا اور اگر مجھ سے سوال کیا جائے کہ میں آپ کی صفت بیان کروں تو میں اس کی طاقت نہیں رکھتا کیونکہ میں نے نگاہ بھر کر آپ نہیں دیکھا ۔ ( صحیح مسلم 121)

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آپ کی محبت میں آپ کے اصحاب کا مقام بہت بلند تھا، بعض مؤمنین شہوات میں ڈوبے رہتے ہیں اور ان پر غفلت کے پردے پڑے رہتے ہیں اور ان کے احوال بہت ناقص ہوتے ہیں لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جاۓ اور آپ کے فضائل بیان کیے جائیں تو ان کی محبت جوش میں آتی ہے اور وہ آپ کی زیارت کے لیے بے چین ہو جاتے ہیں، بلکہ آپ کی قبر مبارک اور آپ کے آثار کی زیارت کے لیے مضطرب ہو جاتے ہیں اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے اہل وعیال مال و دولت ماں باپ حتی کہ ان کی جان بھی چلی جائے اور کسی طرح ان کو آپ کی زیارت ہو جاۓ البتہ ان پر شہوت اور غفلت کے غلبہ کی وجہ سے ان کی یہ کیفیت جلد زائل ہو جاتی ہے ہم اللہ کریم سے یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں آپ کی دائمی اور کامل محبت عطا فرماۓ اور ہمیں غلبہ شہوت اور غفلت کے حجابات سے محفوظ رکھے ۔ (المفہم ج ا ص ۲۴۷۔ ۲۲۵ ملخصا دار ابن کثیر بیروت ۱۴۲۰ھ )

صحابہ کرام کی محبت رسول کی چند مثالیں

حدیث میں ہے کہ جنگ بدر میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے بیٹے جو اس وقت مسلمان نہیں ہوۓ تھے مسلمانوں کولڑنے کے لیے للکار رہے تھے ۔حضرت ابوبکر نے ان کے مقابلہ پر جانا چاہا لیکن نبی ﷺ نے فرمایا: تم اپنی ذات سے ہمیں فائدہ پہنچاؤ۔(الاستیعاب: ۰۲ ۱۴ ج ۲ ص ۶۸ ۳، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۵ ۱۴ ھ )

حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جنگ بدر میں اپنے ماموں العاص بن ہشام بن المغیرہ کوقتل کر دیا تھا۔( سیرت ابن ہشام ج ۲ ص 324 مطبوعہ دار احیاء التراث العربي بیروت ۱۵ ۱۴ ۵ )

امام ابولحسن علی بن احمد الواحدی المتوفی 468 ھ مذکور الصدرآیت (المجادلہ:۲۲) کے شان نزول میں لکھتے ہیں:

ابن جریج نے کہا: مجھے یہ حدیث بیان کی گئی ہے کہ ابوقحافہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی تو حضرت ابوبکر نے ابوقحافہ ( حضرت ابوبکر کا باپ) کو اس زور سے تھپٹر مارا کہ وہ گر پڑا پھر انہوں نے اس واقعہ کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔ آپ نے پوچھا: کیا تم نے ایسا کیا؟ عرض کیا : ہاں، آپ نے فرمایا: دوبارہ ایسا نہ کرنا ۔ حضرت ابو بکر نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر میرے پاس تلوار ہوتی تو میں اس کوقتل کردیتا تو اللہ تبارک وتعالی نے یہ آیت نازل فرمائی ۔

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابوعبیدہ بن الجراح کی شان میں نازل ہوئی، جب انہوں نے جنگ احد میں اپنے باپ عبد اللہ بن الجراح کوقتل کر دیا اور حضرت ابوبکر کی شان میں نازل ہوئی جب جنگ بدر میں ان کے بیٹے عبدالرحمن نے مسلمانوں کو جنگ کے لیے للکارا تو حضرت ابوبکر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے مقابلہ میں لڑنے کی اجازت مانگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی ذات سے ہمیں فائدہ پہنچاؤ،کیا تم نہیں جانتے کہ تم میرے لیے میری آنکھوں اور میرے کانوں کے مرتبہ میں ہو اور حضرت مصعب بن عمیر کی شان میں نازل ہوئی جب انہوں نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو جنگ احد میں قتل کر دیا اور حضرت عمر کی شان میں نازل ہوئی جب انہوں نے اپنے ماموں العاص بن ہشام بن المغیرہ کو جنگ بدر میں قتل کر دیا اور حضرت علی اور حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہما کی شان میں نازل ہوئی جب انہوں نے عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ قتل کر دیا اور یہ صحابہ اس آیت کے اس حصہ کے مصداق ہیں،خواہ وہ ( دشمن ) ان کے باپ ہوں یا بیٹے ہوں یا بھائی ہوں یا ان کے قریبی رشتہ دار ۔

( اسباب النزول للواحدی : 417_ص 434 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت اسباب الله للسیوطی ص 82 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت) )

ان احادیث سے واضح ہو گیا کہ مختلف جنگوں میں صحابہ کرام نے اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں اپنے باپ،بھائی اور دیگر قریبی رشتہ داروں کوقتل کر دیا،ایک نابینا صحابی کے ایک باندی سے دو کمسن بچے تھے لیکن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتی تھی تو انہوں نے اس کوقتل کر دیا ۔ ( سنن ابوداؤد 4361 ) اور حضرت عمیر بن امیہ کی ایک بہن تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب و شتم کرتی تھی تو انہوں نے اس کو قتل کر دیا۔ (المعجم الکبیر ج ۱۷ ص 65 – 64 ) اسی طرح صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں مکہ سے مدینہ ہجرت کی اور اپنے رشتہ داروں کے علاوہ اپنے وطن،اپنے پسندیدہ مکانوں اور اپنے جمع شدہ مال اور اپنے کاروبار اور تجارت کو چھوڑ کر مدینہ چلے آئے ۔

شرح صحیح مسلم میں محبت رسول کی تحقیق اس حدیث کی شرح ہم نے شرح صحیح مسلم میں بھی کی ہے اور وہاں ہم نے اس کی بہت زیادہ تفصیل کی ہے اس کے عنوانات حسب ذیل ہیں:

۱) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے ساتھ مکلف کرنے کی توجیہ (۲ٌ)نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ہونے کی وجوہات (۳ ) اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اور محبت کے چند مظاہر (۴) رسول اللہ ﷺ سے محبت کی علامات (۵) اطاعت رسول (۲) اتباع رسول کی حلاوت(۷)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بے عیب ہونا (۸) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بہ کثرت ذکر کرنا (۹) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان سے خوش ہونا (۱۰) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بیان کرنے میں غلو سے احتراز کرنا(۱۱) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر کرنا (۱۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوۃ و سلام پڑھنا(۱۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کا شوق ہونا (۱۴) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوبوں سے محبت کر نا (۱۵) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبتوں سے محبت کرنا (۱۶) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعداء سے عداوت رکھنا ے(۱۷) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی علامات محبت میں حرف آخر ۔

( شرح صحیح مسلم : ۷ ۷ ۔ ج۱ص۴۵۱ – ۴۴۵ فرید بک سٹال لاہور )