#وہ_لذت_آشنا_ہی_نہیں

✍️ پٹیل عبد الرحمن مصباحی، گجرات (انڈیا)

ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو مجموعی طور پر انسان کے افعال کا مرجع لذت ہے، چاہے کسی فعل کو انجام دے کر لذت کا حصول ہو یا کسی کام سے بچ کر حاصل شدہ لذت کی بقا، یعنی کبھی انسان کوئی کام کرتا ہے لذت پانے کے لیے اور کبھی کسی کام سے بچتا ہے موجودہ لذت کو زیادہ وقت تک باقی رکھنے کے لیے. مطلب یہ ہے کہ دنیا میں انسان یا تو اپنے مخصوص افعال کے ذریعے مخصوص قسم کی لذت پانے کے لیے کوشاں ہے یا پھر خاص قسم کے افعال سے دور رہ کر اپنی موجودہ لذت کو برقرار رکھنے کی جد و جہد میں ہے.

پھر اگر لذت کے مفہوم یا معنی مراد پر غور کیا جائے تو فی زمانہ عام طور سے لذت کا لفظ سن کر مادی و جسمانی لذت کی طرف دھیان جاتا ہے، بلکہ حواس خمسہ سے حاصل ہونے والی لذتوں ہی پر آج کے عام انسان کا تصورِ لذت ختم ہو جاتا ہے. مثلاً آنکھ کے ذریعے دلکش نظارے دیکھ کر حاصل ہونے والی لذت یا کانوں سے سریلی آواز و عمدہ نغمات سننے کی لذت یا بہترین خوشبو سونگھ کر قوت شامہ کے لطف اندوز ہونے کی لذت یا لامسہ کے ذریعے جدا جدا مقامات پر الگ الگ طرح کے لمس سے پیدا ہونے والی لذت یا ذائقہ کے ذریعے متنوع کھانوں اور مشروبات کی کیفیتوں سے پیدا ہونے والی لذت. بہرحال آج کے انسان کا عام تصور؛ لذت کے سلسلے میں مادی و جسمانی لذت تک محدود ہے. بلکہ خبیث طبعیت والوں نے تو تصورِ لذت کو جنسی لذت تک ہی محدود کر رکھا ہے اور ہمہ وقت اس کے حصول کے لیے غلیظ سے غلیظ افعال میں ملوث نظر آتے ہیں. جب کہ حقیقت یہ ہے کہ لذت کا مفہوم صرف جنسی و جسمانی لذت میں منحصر نہیں، بلکہ لذت کے اس سے اعلیٰ مقامات بھی ہیں جو نئی نسل کی نظر سے پوشیدہ بھی ہیں اور مادہ پرستی کے آقا نئی نسل کو ادھر متوجہ ہو کر جنس اور جسم کی محدود گلی سے نکلنے کا موقع بھی نہیں دینا چاہتے.

آئندہ سطور میں جسمانی یا مادی لذت کے علاوہ لذت کے دو اعلیٰ مراتب کا ذکر ہے جن میں سے پہلا جسمانی و مادی لذت سے بڑھ کر ہے مگر تیسرے مقام سے کمتر ہے اور تیسرا یعنی کہ آخری مقام سب سے برتر ہے.

جسمانی لذت سے آگے لذت کا ایک اور مرتبہ ہے جسے ذہنی لذت کے لفظ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے. یہ لذت وہ ہے جس سے خاص قسم کے علمی مشاغل میں مصروف لوگ آشنا اور لطف اندوز ہوتے ہیں. مثلاً ندرتِ تعبیر سے پیدا ہونے والی خیال آفرینی کی لذت یا حسنِ عبارت یا فہمِ مسئلہ یا اختتامِ تحقیق یا پسندیدہ محقق کی نئی کاوش ہاتھ لگنے یا نادر کتاب کی حصول یابی یا مشکل ابحاث کے حل ہو جانے یا ماہر استاد کے تدریسی نکات سماعت کرنے یا ذہین طالب علم کے گہرے سوالات کا جواب دینے یا کسی موضوع کے مالہ و ما علیہ کا احاطہ کر لینے یا کسی مخصوص مسئلہ میں تفکیری سرگرمیوں کے بار آور ہونے کی؛ الگ الگ نوعیت اور مختلف درجے کی لذتیں، یہ تمام ذہنی لذتیں وہ ہیں جو انسانی ذہن کو خاص قسم کا لطف اور سکون عطا کرتی ہیں. اِس فکری لذت سے حاصل ہونے والے اطمینان و سکون کا یہ درجہ عام مادی و جسمانی لذتوں سے کئی گنا برتر ہوتا ہے. اس قسم کی لذت پانے والے اصحابِ علم اور ارباب دانش مذکورہ جسمانی لذت کی ظاہری لطف اندوزی سے قدرے بے نیاز ہوتے ہیں. ان کو اپنی علمی، فکری یا دوسرے لفظوں میں ذہنی لذت اپنے آپ میں اتنا مستغرق رکھتی ہے کہ ان کی نظر میں ظاہری حواس سے حاصل شدہ لذت بے وقعت یا کم از کم غیر دلچسپ ہو کر رہ جاتی ہے. ذہنی لذت کا یہ مرحلہ صاحبان علم و فن کو پیش آتا ہے، چاہے ان کا تعلق دینی علم سے ہو یا دنیاوی تعلیم سے. اس لذت سے تجربہ گاہ میں بیٹھا ہوا سائنس دان بھی آشنا ہوتا ہے، تخیلات کا دھنی شاعر بھی اور درسگاہ میں بیٹھا ہوا مدرس بھی، البتہ دینی علوم سے وابستہ حضرات اس باب میں دو چار قدم آگے ہی ہوتے ہیں اس لیے کہ ان کی تحقیق تحقیق بھی ہوتی ہے اور دین کی خدمت بھی لہٰذا وہ دہرا لطف پاتے ہیں.

لذت کے مذکورہ دونوں مقامات کو سامنے رکھ کر اگر موجودہ دنیا کا جائزہ لیا جائے تو منظر یہ سامنے آتا ہے لذت کے ان ہی دو مراحل کے حصول کے لیے آج کا انسان مصروف سے مصروف ترین زندگی کی طرف بڑھتا جا رہا ہے. وہ چاہتا ہے کہ جنسی لذت سے لے کر ذہنی لذت تک ساری لطف اندوزی اس کے قابو میں ہو اگر چہ اس کے لیے اسے مثبت چھوڑ کر منفی اور نیکی چھوڑ کر بدی کا راستہ اپنانا پڑے. اس راہ میں وہ حصول لذت کی حدود سے نکل کر بے جا لذت کوشی کی راہ پر چل پڑا ہے. آج کے انسان کی بے جا لذت کوشی ہی کا نتیجہ ہے کہ انسان نے کائنات کے فطری نظم میں ناقابل تلافی نقصان کرنا شروع کر دیا ہے. خوراک کی لذت کے لیے کھانے کی غذائیت داؤ پر لگا دی گئی ہے، نگاہوں کی لذت کے لیے عریانی و فحاشی کو فروغ دیا گیا ہے، جنسی بے راہ روی کی غیر محدود لذت کے لیے فیمنزم کے پردے میں عورت کی عزت نیلام کر دی گئی ہے، رومانیت اور فحش نگاری کے زرد صفحات تلے حیا پروری کا قلم دفنا دیا گیا ہے. سریلی آوازوں کی لذت چیختے چلاتے میوزک کی نذر ہو گئی ہے. مصنوعی خوشبوؤں کے جال میں فطری خوشبو ایسی الجھی کہ اب مطلق خوشبو کا مسکن فطرت کی جگہ لیب Lab کو قرار دے دیا گیا ہے. عمدہ اور ٹھنڈے مشروبات کی مخصوص لذت کا متبادل الگ الگ برانڈ کی رنگین شراب کو قرار دے دیا گیا ہے. تحقیق کے لیے صفحات پلٹنے کی لذت کی جگہ تفریح کے لیے اسکرین اسکرال کرنے کو ترجیح دی جا رہی ہے. مخلوط تعلیم کی نحوست نے طلبہ و طالبات کو علوم و فنون کی گہری لذتوں سے نکال کر اخلاقی پستیوں کی ناپاک لذتوں میں مبتلا کر دیا ہے. نہ نظارے سلامت ہیں نہ پیمانے، نہ بصارت سلامت ہے نہ بصیرت، نہ ماکولات میں لطف ہے نہ مشروبات میں مزہ. حقیقی پاکیزہ لذت رخصت ہو چکی اور مصنوعی ناپاک لذتوں نے ڈیرا ڈال دیا.

لذت کا پہلا مقام خالص مادی ہے جب کہ دوسرا مقام خالص ذہنی اور خیالی مگر ان دونوں سے آگے ایک اور مقام بھی ہے جو لذت کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے. وہ مرتبہ روحانی لذت کا ہے. ظاہر کو احکام اسلام سے آراستہ کرنے اور دل کو طریقت کے انوار سے مزین کرنے کے بعد انسان جس قلبی لذت سے آشنا ہو کر لطف پاتا ہے وہ روحانی کیفیات کی ایک بے مثال لذّت ہے. جسمانی لذت تو اس کے مقابل کسی گنتی ہی میں نہیں اور ذہنی لذت کا مرتبہ اس سے اتنا پست ہے کہ اِس راہ کے مسافر خیالی رنگینیوں اور عبارت آرائی کے مرحلوں سے بھی بے نیاز ہو جاتے ہیں. وہ اشیاء کو دیکھ کر یا استعمال کر کے خالقِ اشیاء کی طرف ایسے متوجہ ہوتے ہیں کہ ان اشیاء کی جسمانی لذت اور ان کو دیکھ کر ترتیب پانے والے خیالات کی ذہنی لذت ان کی نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے. وہ ہوش و حواس کے ساتھ یار کی یاد میں ایسے گم ہوتے ہیں کہ اس سے پیدا ہونے والی لازوال لذت میں کائنات کے تمام تغیرات اپنی وقعت کھو دیتے ہیں. اس مقام پر پہنچنے والے لوگ بالکل الگ نوعیت کی لذت سے آشنا ہوتے ہیں مثلاً رضائے الٰہی کی نیت سے کیے جانے والے عمل کی لذت، سنتوں کی پیروی کی لذت، حلال کمائی کے سادہ کھانوں کی لذت، حق بیانی کی جرأت مندانہ لذت، بڑوں کی توقیر اور چھوٹوں پر شفقت کی لذت، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں کامیاب ہونے کی لذت، شیخ کی صحبت میں بیٹھنے کی لذت اور ایسی بے شمار پاکیزہ لذتیں.

آج کا المیہ یہ ہے کہ عوام کو تو سرمایہ دارانہ نظام نے ہر طرح سے جنسی و جسمانی لذت میں جکڑ کر رکھا ہے، رہے خواص یعنی وہ لوگ جو علماء و مشائخ سے قربت رکھتے ہیں تو وہ کسی حد تک غیر ضروری علمی ابحاث کی بے جا لذت میں اور کافی حد تک مادہ پرستی کی ظاہری لذت میں مبتلا ہیں. عوام و خواص سے اوپر علم دین حاصل کرنے والے طلبہ، حاصل کر چکے فارغین اور علمی طور پر اونچا قد رکھنے والے علماء کا طبقہ ہے. یہ طبقہ الگ الگ سطح پر ہے، علم کے حصول میں لگے ہوئے طلبہ کے اندر مادی لذت پر انحصار کا گراف بڑھتا جا رہا ہے، فارغین میں بڑی تعداد ان کی ہے جو علمی و روحانی لذت کے مرحلے سے کم کم واقف ہیں، رہے اونچا قد رکھنے والے علماء تو ان میں زیادہ تعداد جسمانی لذت سے بے نیاز مگر ذہنی لذت تک محدود ہے، اور کچھ حضرات وہ ہیں جو روحانی لذت کے مرتبے پر بھی فائز ہیں. مشائخ کی بات کی جائے تو زبوں حالی کا الگ دور دورا ہے، بہت قلیل حضرات وہ ہیں جو روحانیت کے مراحل سے واقف ہیں ورنہ اکثریت نے روحانی بے مایگی چھپانے کے لیے جدا جدا رسم و رواج کا کھول اپنا رکھا ہے. بظاہر طریقت کے شہسوار نظر آنے والے لوگ اپنے گھرانوں سمیت مادہ پرستی کے اسیر بنے ہوئے ہیں. گویا علمی و روحانی مراتب سے جب حقیقی وابستگی ماند پڑ گئی تو مادی قسم کی زیب و زینت اور ملمع سازی ہی کے سہارے علمیت اور روحانیت کا سماں باندھا جا رہا ہے.

حاصل یہ کہ وہ جو بظاہر لذت کے دعوے دار ہیں وہ در حقیقت لذت آشنا ہی نہیں. وہ یا تو اپنی لذت کی سطح تک محدود ہیں اور اس سے برتر سطح سے ناواقف، یا پھر برتر سطح سے واقف مگر اپنی پست ہمتی اور کم ظرفی سے واقف، یا پھر بلند سطح سے واقف اور اپنی نااہلی سے بھی باخبر مگر فکر معاش میں اپنے آپ کو قد سے اونچا دکھانے کے خوگر. ایسے میں اگر کوئی معرفت الٰہی کی راہ بتانے والا اور روحانی لذتوں تک پہنچانے والا میسر آ جائے تو زہے نصیب ورنہ آخری سہارا یہی ہے کہ واقفین کے مزاروں کا اویسی بن کر کسی مرد حق کے انتظار کی لذت میں چار دن گزار دیے جائیں، یہی غنیمت ہے اور شاید یہی سعادت بھی ہو.
11.06.1445
24.12.2023