أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كَمَثَلِ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ قَرِيۡبًا‌ ذَاقُوۡا وَبَالَ اَمۡرِهِمۡ‌ۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ‌ۚ ۞

ترجمہ:

ان کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جو ماضی قریب میں اپنے کرتوتوں کا مزا چکھ چکے ہیں اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔

الحشر : ١٥ میں فرمایا : ان کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جو ماضی قریب میں اپنے کر تتوں کا مزا چکھ چکے ہیں۔

یعنی کفار نے دو ہجری میں مسلمانوں پر حملہ کیا اور بدر کے میدان میں اپنے منہ کی کھا کر چل گئے، سو ان کافروں کے لئے اور منفاقوں کے لئے اور یہودیوں کے لئے آخرت میں درد ناک عذاب ہے۔