أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا يُقَاتِلُوۡنَكُمۡ جَمِيۡعًا اِلَّا فِىۡ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوۡ مِنۡ وَّرَآءِ جُدُرٍؕ بَاۡسُهُمۡ بَيۡنَهُمۡ شَدِيۡدٌ ‌ؕ تَحۡسَبُهُمۡ جَمِيۡعًا وَّقُلُوۡبُهُمۡ شَتّٰى‌ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ قَوۡمٌ لَّا يَعۡقِلُوۡنَ‌ۚ ۞

ترجمہ:

وہ سب مل کر بھی تم سے قلعہ بند بستیوں کے سوا نہیں لڑ سکیں گے یا دیواروں کی آڑ سے ان کی لڑائی آپس میں بہت سخت ہے، (اے مخاطب ! ) تم ان کو متفق سمجھتے ہو حالانکہ ان کے دل مختلف ہیں، کیونکہ یہ لوگ عقل سے کام نہیں لیتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ سب مل کر بھی تم سے قلعہ بند بستیوں کے سوا نہیں لڑ سکیں گے، یا دیواروں کی آڑ سے، ان کی لڑائی آپس میں بہت سخت ہے (اے مخاطب ! ) تم ان کو متفق سمجھتے ہو حالانکہ ان کے دل مختلف ہیں، کیونکہ یہ لوگ عقل سے کام نہیں لیتے۔ ان کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جو ماضی قریب میں اپنے کرتوتوں کا مزا چکھ چکے ہیں اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ ان کی مثال شیطان کی طرح ہے جس نے انسان سے کہا، کفر کر، پھر جب اس نے کفر کرلیا تو شیطان نے کہا : میں تجھ سے بےزار ہوں میں اببہ رب العلمین سے ڈرتا ہوں۔ سو ان دونوں کا انجام ہمیشہ دوزخ میں رہنا ہے اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔ (الحشر :14-17)

منافقین کا بنو نضیر کو شیطان کی طرح ورغلانا اور اس کا انجام

اس سے مراد یہ ہے کہ یہود اور منافقین سب مل کر بھی مسلمانوں سے جنگ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے، ماسوا اس کے کہ وہ قلعہ میں بند ہو کر لڑیں، یا دیواروں کی پیچھے مورچہ بنا کر لڑیں۔ یہ جب آپس میں جنگ کرتے ہیں تو ایک دوسرے سے ان کا مقابلہ بہت سخت ہوتا ہے، لیکن اللہ اور رسول کے خلاف جب یہ مسلمانوں سے جنگ کریں تو ان کا بڑے سے بڑا بہادر بھی بزدل ہوجاتا ہے، اس وجہ سے یہ مسلمانوں سے جنگ کرنے سے احتراز کرتے ہیں، تم بہ ظاہر دیکھیت ہو کہ یہ ایک دوسرے سے بہت الفت اور محبت رکھتے ہیں، لیکن ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف سخت نفرت اور عداتو ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ یہ اپنی عقلوں سیک ام نہیں لیتے۔