أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هُوَ اللّٰهُ الۡخَـالِـقُ الۡبَارِئُ الۡمُصَوِّرُ‌ لَـهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى‌ؕ يُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ۚ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ۞

ترجمہ:

وہی اللہ ہے خالق، موجد، صورت بنانے والا، تمام اچھے نام اسی کے ہیں، آسمانوں اور زمینوں کی تمام چیزیں اس کی تسبیح کرتی ہیں، اور ورہ بہت غالب بےحد حکمت والا ہے ؏

” الخالق، الباری “ اور ” المصور ‘ کا معنی

الحشر : ٢٤ میں فرمایا : وہی اللہ ہے، خالق، موجد، صورت بنانے والا، تمام اچھے نام اسی کے ہیں۔ الایۃ

” الخالق “ کا معنی ہے : کسی کو عدم سے وجود میں لانے والا۔ نیز خلق کا معنی تقدیر ہے، وہ کسی چیز کو کسی مخصوص صورت میں مقدر فرماتا ہے اور وہ جس چیز کا ارادہ فرماتا ہے اس کو وجود میں لے آتا ہے۔

” الباری “ یعنی وہ صانع اور موجد ہے اور کسی سابق نمونہ اور مثال کے بغیر چیزوں کو وجود میں لاتا ہے، کسی چیز کو بغیر مادہ کے پیدا کرنے والا خالق ہے اور بغیر مثال کے پیدا کرنے والا باری ہے۔

” المصور “ وہ جس طرح چاہتا ہے مخلوق کی صورت بناتا ہے، مخلوق کو باری پر مقدم کیا، کیونکہ خالق کا تعلق ارادہ سے ہے اور باری کا تعلق تاثیر قدرت سے ہے اور ارددہ تاثیر قدرت ہے اور باری کو مصور پر مقدم کیا کیونکہ ذات صفت پر مقدم ہوتی ہے اور باری کا تعلق ذات سے ہے اور مصور کا تعلق صفت سے ہے۔

اور فرمایا : تمام اچھے نام اسی کے ہیں۔ اس کی تفسیر لاعراف :180 میں گزر چکی ہے۔

اور اس آیت کے آخر میں فرمایا : آسمانوں اور زمینوں کی تمام چیزیں اسی کی تسبیح کرتی ہیں، اس کی تفسیر الحدید کی ابتداء میں گزر چکی ہے۔

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس شخص نے رات یا دن میں سورة الحشر کی آخری (تین) آییں پڑھیں اور اس رات یا دن میں اللہ تعالیٰ نے اس کی روح قبض کرلی تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے جنت کو واجب کردیا۔ (شعب الایمان رقم الحدیث :2501 الکامل لابن عدی ج ٣ ص 318)

القرآن – سورۃ نمبر 59 الحشر آیت نمبر 24