أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا اتَّقُوا اللّٰهَ وَلۡتَـنۡظُرۡ نَـفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٍ‌ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو، اور ہر شخص غور کرتا رہے کہ اس نے کل (قیامت کے لئے) کبا بھیجا ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ تمہارے تمام کاموں کی خبر رکھنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو، اور ہر شخص غور کرتا رہے کہ اس نے کل (قیامت کے لئے) کیا بھیجا ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ تمہارے تمام کاموں کی خبر رکھنے والا ہے۔ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی انہیں اپنی جانوں سے بھلا دیا یہی لوگ فاسق ہیں۔ دوزخی اور جنتی برابر نہیں ہوسکتے جنتی ہی کامیاب ہیں۔ (الحشر : ٢٠-١٨)

منافقین کی مذمت کے بعد مئومنوں کو ہدیات اور تقویٰ کی ترغیب

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں اور یہودیوں کو زجر و توبیخ کی تھی اور ان کی مذمت کی تھی اور اس آیت سے مئومنوں کو خطاب فرمایا اور قیامت کے ہولناک دن اور اس دن کے محاسبہ کی تیاری کرنے کی طرف متوجہ فرمایا۔ اس آیت کے شروع میں بھی فرمایا تھا : اللہ سے ڈرتے رہو، اور اس آیت کے آخر میں پھر فرمایا : اور اللہ سے ڈرتے رہو یا تو یہ اول کی تاکید ہے یا پہلے سے مراد ہے : اللہ کے احکام پر عمل کرنے میں اللہ سے ڈرتے رہو اور دوسرے سے مراد ہے : اللہ کی نافرمانی کرنے میں اللہ سے ڈرتے رہو۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 59 الحشر آیت نمبر 18