أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا عَدُوِّىۡ وَعَدُوَّكُمۡ اَوۡلِيَآءَ تُلۡقُوۡنَ اِلَيۡهِمۡ بِالۡمَوَدَّةِ وَقَدۡ كَفَرُوۡا بِمَا جَآءَكُمۡ مِّنَ الۡحَـقِّ‌ ۚ يُخۡرِجُوۡنَ الرَّسُوۡلَ وَاِيَّاكُمۡ‌ اَنۡ تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ رَبِّكُمۡ ؕ اِنۡ كُنۡـتُمۡ خَرَجۡتُمۡ جِهَادًا فِىۡ سَبِيۡلِىۡ وَ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِىۡ ‌ۖ تُسِرُّوۡنَ اِلَيۡهِمۡ بِالۡمَوَدَّةِ ‌ۖ وَاَنَا اَعۡلَمُ بِمَاۤ اَخۡفَيۡتُمۡ وَمَاۤ اَعۡلَنۡتُمۡ‌ؕ وَمَنۡ يَّفۡعَلۡهُ مِنۡكُمۡ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيۡلِ ۞

 

ترجمہ:

اے ایمان والو ! میرے دشمنوں کو اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائو، تم ان کی طرف دوستی کا پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ وہ اس حق کا کفر کرتے ہیں جو تمہارے پاس آچکا ہے، وہ رسول کو اور تہیں اس وجہ سے نکالتے ہیں کہ تم اپنے رب اللہ پر ایمان لائے ہو، اگر تم میرے راستہ میں جہاد کرنے اور میری رضا طلب کرنے کے لئے نکلے ہو (تو ان سے دوستی نہ رکھو) تم ان کی طرف دوستی کا خفیہ پیغام بھیجتے ہو، اور میں خوب جانتا ہوں جس کو تم نے چھپایا اور جس کو تم نے ظاہر کیا، اور تم میں سے جو ایسا کرے گا وہ راہ راست سے بھٹک گیا

 

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! میرے دشمنوں کو اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائو، تم ان کی طرف دوستی کا پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ وہ اس حق کا کفر کرتے ہیں جو تمہارے پاس آ چاک ہے، وہ رسول کو اور تمہیں اس وجہ سے نکالتے ہیں کہ تم اپنے رب اللہ پر ایمان لائے ہو، اگر تم میرے راستہ میں جہاد کرنے اور میری رضا طلب کرنے نکلے ہو (تو ان سے دسوتی نہ رکھو) تم ان کی طرف دسوتی کا خفیہ پغیام بھیجتے ہو، اور میں خوب جانتا ہوں جس کو تم نے چھپایا اور جس کو تم نے ظاہر کیا اور تم میں سے جو ایسا کرے گا وہ راہ راست سے بھٹک گیا۔ اگر وہ تم پر قابو پالیں تو وہ تمہارے کھلے دشمن ہوں گے اور وہ برائی کے ساتھ تمہارے خلاف دست درازی اور زبان درازی کریں گے اور وہ یہ تمنا کریں گے کہ کاش ! تم کافر ہو جائو۔ تمہاری رشتہ داریاں اور تمہاری اولاد قیامت کے دن ہرگز تمہیں نفع نہیں دیں گی (اللہ) تمہارے درمیان جدائی کر دے گا اور اللہ تمہارے تمام کاموں کو خوب دیکھنے والا ہے۔ (الممتحنہ : ٣-١)

الممتحنہ : ٣-١ کا شان نزول

یہ آیات حضرت حاطب بن ابی بلتعہ (رض) پر عتاب کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہیں، اس کی تفصیل اس حدیث میں ہے :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256 ھ اور دیگر محدثین اپنی اسنید کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے، حضرت زبیر اور حضتر مقداد کو روانہ کیا اور فریاد : خاخ کے باغ میں جائو، وہاں ایک مسافرہ ملے گی جس کے پاس ایک خط ہوگا، تم اس سے وہ خط لے لینا، ہم لوگ روانہ ہوگئے، ہم نے اپنے گھوڑوں کو دوڑایا، پھر ہم کو ایک عورت ملی، ہم نے اس سے کہا : خط نکالو ! اس نے کہا : میرے پاس کوئی خط نہیں ہے، ہم نے اس سے کہا، خط نکالو ! ورنہ ہم تمہارے کپڑے اتار دیں گے، اس نے اپنے بالوں کے گچھے سے خط نکال کردیا، ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس وہ خط لے کر آئے، اس خط میں حضرت حاطب بن ابی بلتعہ نے اہل مکہ کے بعض مشرکین کو خبر دی تھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعض منصوبوں سے مطلع کیا تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے حاطب ! کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! میرے متعلق جلدی نہ کریں، میں قریش کے ساتھ چسپاں تھا، سفیان نے کہا : وہ ان کے حلیف تھے اور قریش سے نہ تھے، آپ کے ساتھ جو مہاجر ہیں ان کی وہاں رشتہ داریاں ہیں، ان رشتہ داریوں کی بناء پر قریش ان کے اہل و عیال کی حفاظت کریں گے۔ میں نے یہ چاہا کہ ہرچند کہ میرا ان کے ساتھ کوئی نسبی تعلق نہیں ہے، تاہم میں ان پر ایک احسان کرتا ہوں، جس کی وجہ سے وہ (مکہ میں) میرے قربات داروں کی حفاظت کریں گے، میں نے یہ اقدام (یعنی کفار کا خط کا لکھنا) کسی کفر کی وجہ سے نہیں کیا، نہ اپنے دین سے مرتد ہونے کی بناء پر کیا ہے، اور نہ اسلام لانے کے بعد کفر پر راضی ہونے کے سبب سے کیا ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے سچ کہا، حضرت عم نے کہا : یا رسول اللہ ! مجھے اجازت دیں میں اس منافق کی گردن اڑا دوں، آپ نے فرمایا : یہ غزوہ بدر میں حاضر ہوا ہے، اور تم کیا جانو کہ اللہ تعالیٰ یقیناً اہل بدر کے تمام حالات سے واقف ہے اور اس نے فرمایا، تم جو چاہو کرو، میں نے تم کو بخش دیا ہے، پھر اللہ عزو جل نے یہ آیت نازل فرمائی : اے ایمان والو ! میرے دشمن اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائو، ابوبکر اور زبیر کی روایت میں اس آیت کا ذکر نہیں ہے، اور اسحاق نے اپنی روایت میں سفیان کی تلاوت کے حوالے سے اس کا ذکر کیا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :3007, 4274 صحیح مسلم رقم الحدیث :2494 سنن ابو دائود رقم الحدیث :2650 سنن ترمذی رقم الحدیث :3305 السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث :11521)

وہ عورت کون تھی جس کے ہاتھ حضرت حاطب نے خط روانہ کیا تھا ؟

علامہ بدر الدین عینی حنفی متوفی 855 ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

الممتحنہ : ١، حضرت حاطب بن ابی بلتعتہ کے متعلق نازل ہوئی ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ ابو عمرو بن صیفی کی باندی سارہ مکہ سے مدینہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی، اس وقت آپ فتح مکہ کی تیاری کر رہے تھے، آپ نے اس سے پوچھا کہ تم کیوں آئی ہوڈ اس نے کہا، مجھے ایک کام ہے، وہ ایک گانے والی عورت تھی، آپ نے پوچھا کہ مکہ کے جوانوں نے تم کو کیسے چھوڑ دیا ؟ اس نے کہا، واقعہ بدر کے بعد مجھ سے کوئی چیز طلب نہیں کی گئی، آپ نے اس کو کپڑے وغیرہ دیئے، اس عورت کے پاس حضرت حاطب آئے اور اہل مکہ کے نام اس کو ایک خط دیا اور اس کو دس دینار دیئے، اس خط میں لکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم پر حملہ کرنے والے ہیں، تم اپنی حفاظت کا انتظام کرلو، پھر حضرت جبریل (علیہ السلام) نے آپ کو اس کی خبر دی تو آپ نے اس کے تعاقب میں حضرت علی، حضرت عمار، حضرت عمر، حضرت زبیر، حضرت طلحہ اور حضرت مقداد بن اسود کو بھیجا اور فرمایا : تم روضہ خاخ (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام) پر جائو، وہاں پر ایک مسافرہ کے پاس مشرکین مکہ کے نام ایک خط ہوگا، اس سے وہ خط لے کر اس کو چھوڑ دو ، اگر وہ خط نہ دے تو اس کی گردن اڑا دینا۔

حضرت حاطب سے مواخذہ کیوں نہیں کیا گیا اور اہل بدر کی عام مغفرت کی توجیہ

حضرت حاطب نے کفار کے لئے جاسوسی کی اور مسلمانوں کی جنگی راز کفار کو بتائے، اس کے باوجود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو کوئی سزا نہیں دی، بلکہ حضرت عمر نے جو فرمایا تھا : مجھے اجازت دیں، میں اس منفاق کی گردن اڑا دوں، ان کو منع فرمایا اور ان کا عذر قبول فرما لیا، اس کی توجیہ اس حدیث میں ہے :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حدود کے سوا معزز لوگوں کی لغزشوں سے درگزر کرو۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٤٣٧٥، مسند احمد ج ٦ ص ١٨١ سنن بیہقی ج ٨ ص ٢٦٧ مشکوۃ رقم الحدیث : ٣٥٦٩ )

اور آپ نے فرمایا، حاطب بدری ہے اور اصحاب بدر کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ان کے گزشتہ گناہوں کو بخش دیا ہے اور اگر ان سے پھر گناہ ہوگئے تو اللہ تعالیٰ ان کو پھر بھی بخش دے گا، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ فی الفور ان کے آئندہ ہونے والے گناہ بخش دیئے، بلکہ ان میں یہ صلاحیت ہے کہ آئندہ ان سے ہونے والے گناہ بھی بخش دیئے جائیں اور یہ بشارت والے اس سے بےخوف نہیں ہیں کہ ان سے مواخذہ کیا جائے گا، پھر اللہ نے اپنے رسول کی دی ہوئی خبر کے صدق کو ظاہر فرمایا اور اصحاب بدر اپنی وفات تک اہل جنت کے اعمال پر قائم رہے اور اگر ان میں سے کسی سے کوئی گناہ سر زد ہوگیا تو اس نے توبہ کرلی۔

جاسوس کا شرعی حکم اور حدیث مذکور کے دیگر مسائل

اس حدیث سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ جاسوس کا پردہ چاک کرنا چاہیے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، جب کہ اس میں مصلحت ہو، اور اس کا حال چھپانے میں خرابی ہو۔ امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ اس کو سزا دی جائے اور اگر وہ معزز شخص ہو اور اس کا عذر صحیح ہو تو اس کو حضرت حاطب کی طرح معاف کردیا جائے۔ امام ابوحینفہ کا مذہب یہ ہے کہ اس کو سزا دی جائے اور لمبی قید میں رکھا جائے اور امام مالک سے یہ منقول ہے کہ اگر وہ توبہ نہ کرے تو اس کو قتل کردیا جائی اور اصبغ نے کہا کہ حربی جاسوس کو بھی قتل کردیا جائے اور مسلم اور ذمی جاسوس کو سزا دی جائے، ماسوا اس کے کہ انہوں نے اسلام کے خلاف مدد کی ہو، پھر ان کو قتل کردیا جائے گا اور اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر ضرورت ہو تو عورت کے کپڑے اتار دینا جائز ہے اور علاہم ابن جوزی نے کہا : جو شخص کسی تاویل سے ممنوع کام کا ارتکاب کرے اس کا حکم اس سے مختلف ہے جو بغیر تاویل کے حلال جان کر ممنوع کام کا ارتکاب کرے اور یہ کہ جو شخص کسی ممنوع کام میں تاویل کا دعویٰ کرے تو اس کی تاویل قبول کی جائے گی خواہ اس کی تاویل خلاف ظاہر ہو۔ (عمدۃ القاری ج ١٤ ص 353-356 ملحضاً و موضحاً و مخرجاً دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢١ ھ)

کفار سے مولات (دوستی) کی ممانعت میں قرآن مجید کی آیات

ان آیت کے علاوہ کفار سے دوسری رکھنے کی ممانتع میں حسب ذیل آیات ہیں :

(آل عمران :28) مئومنین مئومنین کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں۔

(آل عمران :118) اے ایمان والو ! تم ایمان والوں کے سوا کسی کو اپنا راز دار نہ بنائو۔

(المائدہ : ٥١) اے ایمان والو ! یہود اور نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بنائو۔

(ھود : ١١٣) اور ظالموں سے میل جول نہ رکھو ورنہ تمہیں بھی دوزخ کی آگ جلائے گی۔

کفار سے موالات صوری اور مجرد معاملہ کرنے کا شرعی حکم

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی متوفی 1340 ھ فرماتے ہیں :

موالات ہر کافر سے حرام ہے

موالات مطلقاً ہر کافر ہر مشرک سے حرام ہے، اگرچہ ذمی مطیع اسلام ہو، اگرچہ اپنا باپ یا بیٹا یا بھائی یا قریبی ہو۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(المجادلہ : ٢٢) تو نہ پائے گا ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں، اللہ اور قیامت پر کہ دوستی کریں اللہ و رسول کے مخلافوں سے اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں۔

مواصلات صوریہ کے احکام

حتیٰ کہ صوریہ کو بھی شرع مطہر نے حقیقیہ کے حکم میں رکھا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(الممتحنہ : ١) اے ایمان والو ! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائو تم تو ان کی طرف محبت کی نگاہ ڈلایت ہو اور وہ اس حق سے کفر کر رہے ہیں جو تمہارے پاس آیا۔

یہ موالات قطعاً حقیقیہ نہ تھی کہ نزول کریمہ دربار سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ احد اصحاب البدر (رض) و عنہم ہے کما فی الصحیح البخاری و مسلم (جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم میں ہے) تفسیر علامہ ابو السعود میں ہے :

فیہ زجر شدید للمومنین عن اظھار صورۃ الموالاۃ لھم و ان لم تکن موالاۃ فی الحقیقۃ، (تفسیر ابو سعود ج ٢ ص 48 داراحیاء التراث العربی، بیروت) ۔ اس آیتہ کریمہ میں مسلمانوں کو سخت جھڑکی ہے اس بات سے کہ کافروں سے وہ بات کریں جو بہ ظاہر محبت ہو اگرچہ حقیقت میں دوستی نہ ہو۔

مگر صوریہ ضرور یہ خصوصاً باکراہ، قال تعالیٰ :

الا ان تتقوا منھم تفۃ (آل عمران : ٢٨) مگر یہ کہ تمہیں ان سے واقعی پورا ڈر ہو۔

وقال تعالیٰ :

(النحل : ١٠٦) مگر وہ جو پورا مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر برقرار ہو۔

مجرد معاملت کا حکم

اور معاملت مجردہ سوائے مرتدین ہر کافر سے جائز ہیجب کہ اس میں نہ کوئی اعانت کفر یا معصیت ہو نہ اضرار اسلام و شریعت، ورنہ ایسی معاملت مسلم سے بھی حرام ہے، چہ جائیکہ کافر۔ قال تعالیٰ :

ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان۔ (المائدہ ٢) گناہ ظلم پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔

غیر قوموں کے ساتھ جواز معاملت کی مجمل تفصیل اس فتویٰ میں آپ ملاحظہ فرما چکے، ہر معاملت کے ساتھ وہ قید لگا دی ہے جس کے بعد نقصان دین کا احتمال نہیں، ان احکام شرعیہ کو بھی حالات دائرہ نے کچھ نہ بدلا، نہ یہ شریعت بدلنے والی ہے :

(حم السجدہ : ٤٢) باطل نہیں آسکتا نہ اس کے آگے نہ اس کے پیچھے سے، اتارا ہوا حکمت والے سرا ہے گئے کا۔ (فتاویٰ رضویہ ج ١٤ ص 432-434 رضا فائونڈیشن، لاہور 1419 ھ)

اعلیٰ حضرت نے جن قیود کا حوالہ دیا ہے وہ یہ ہیں :

موالات و مجرد معاملت میں زمین آسمان کا فرق ہے دنیوی معاملت جس سے دین پر ضرر نہ ہو سوا مرتیدن مثل وہابیہ دیوبند و امثالہم کے کسی سے ممنوع نہیں، ذمی تو معاملت میں مثل مسلم ہے :

لھم مالنا و علیھم ما علینا۔ ان کے لیء ہے جو ہمارے لئے اور جو ان پر ہے ہم پر۔ (یعنی دنیاوی منافع میں ہماری طرح ان کو بھبی حصہ دیا جائے گا اور دنیوی مواخذہ ان پر بھی وہی ہوگا جو ایک مسلمان پر کیا جائے گا۔ )

اور غیر ذمی سے بھی خریدو فروخت، اجارہ و استیجار، رہبہ و استیہاب بشر و طہا جائز اور خریدنا مطلقاً ہر مال کا کہ مسلمان کے حق میں متقوم ہو اور بچینا ہر جائز چیز کا جس میں اعانت حرب اور اہانت اسلام نہ ہو، اسے نوکر رکھنا جس میں کوئی کام خلاف شرع نہ ہو، اس کی جائز نوکیر کرنا جس میں مسلم پر اس کا استعلانہ ہو، ایسے ہی امور میں اجرت پر اس سے کام لینا یا اس کا کام کرنا بمصلحت شرعی اسے ہدیہ دینا جس میں کسیرسم کفر کا اعزاز نہ ہو، اس کا ہدیہ قبول کرنا جس سے دین پر اعترضا نہ ہو، حتیٰ کہ کتابیہ سے نکاح کرنا بھی فی نفسہ حلال ہے، وہ صلح کی طرف جھکیں تو مصالحت کرنا مگر وہ صلح کہ حلال کو حرام کیر یا حرام کو حلال، یونہی ایک حد تک معاہدہ و موادعت کرنا بھی اور جو جائز عہد کرلیا اس کی وفا فرض ہے اور غدر حرام الٰہی غیر ذلک من الاحکام، درمختار میں ہے :

والمرتدۃ تجس ابدا و تجالس ولاتواکل حتی تسلم ولاتقتل قلت وھو العلۃ فانھا تبقی ولاتفنی و قد شملت المرتد فی اعصارنا و امصارنا لام تناع القتل۔ (در مختارج ١ ص 360 مطیع مجتبائی، دہلی)

مرتد عورت دائم الجس کی جائے گی اور نہ اسکیپ اس کوئی بیٹھے نہ اس کے ساتھ کوئی کھائے یہاں تک کہ وہ اسلام لائے اور قتل نہ کی جائے گی۔ میں کہتا ہوں یہی ان احکام کا سبب ہے کہ وہ باقی چھوڑ دی جاتی ہے اور فنا نہیں کی جاتی، اور اب اس ملک میں یہ سب مرتد کو بھی شامل ہوگیا کہ قتل نہیں کیا جاسکتا ہے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 60 الممتحنة آیت نمبر 1