أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيۡنَ يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمۡ بُنۡيَانٌ مَّرۡصُوۡصٌ ۞

ترجمہ:

بیشک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ قتال کرتے ہیں جیسے وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں.

بلا ضرورت جنگ کی صفوں کو توڑنا جائز نہیں

الصنف : ٤ میں فرمای، بیشک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ قتال کرتے ہیں جیسے وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اللہ کی راہ میں ثابت قدم رہتے ہیں اور اس طرح قدم جمائے کھڑے رہتے ہیں جیسے وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں۔

سعید بن جبیر نے کہا : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ تعلیم دی ہے کہ مئومنوں کو دشمن سے تال کرتے ہئے کس طرح کھڑے ہونا چاہیے ؟

اس آیت میں یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ قتال کے وقت صف سے باہر نہیں نکلنا چاہیے اور صف کو توڑنا نہیں چاہیے، سوا اس کے کہ کوئی ضروری اور اہم کام ہو یا امیر لشکر کو، کوئی پیغام دینا ہو یا دمشن کا کوئی فوجی للکار رہا ہو تو اس سے مقابلہ کے لئے نکلنا جائز ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 61 الصف آیت نمبر 4