ذٰ لِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ ؕ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ – سورۃ نمبر 62 الجمعة آیت نمبر 4
sulemansubhani نے Tuesday، 26 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ذٰ لِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ ؕ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ ۞
ترجمہ:
یہ اللہ کا فضل ہے وہ اسے جس کو چاہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے
اللہ تعالیٰ کے فضل کی مختلف تعبیریں
الجمعہ : ٤ میں فرمایا : یہ اللہ کا فضل ہے وہ اسے جس کو چاہے عطا فرماتا ہے۔
مقاتل بن حیان نے کہا : یعنی نبوت اللہ کا فضل ہے وہ جس کو چاہے نبوت عطا فرماتا ہے، پس اس نے ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبوت کے ساتھ خاص فرما لیا اور مقاتل بن سلیمان نے کہا : اسلام اللہ کا فضل ہے، وہ جسے چاہے عطا فرماتا ہے۔ (تفسیر مقاتل بن سلیمان ج ٣ ص ٣٥٩ دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢٤ ھ )
اور میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ائمہ مجتہدین، علماء متقین اور اولائی مسلمین کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت اور آپ سے صفا باطن اور کتاب و حکمت کی تعلیم کی جو نعمت عطا کی ہے اللہ تعالیٰ کا فضل عظیم ہے، وہ جس کو چاہے یہ نعمت عطا فرماتا ہے، اسی طرح زہد وتقویٰ ، عبادت و ریاضت اور مال و دولت بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، وہ جسے چاہے اپنا فضل عطا فرماتا ہے۔ حدیث میں ہے :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ فقراء مہاجرین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اور کہا : مال دار لوگ تو بڑے بڑے درجات اور دائمی جنتیں لے گئے، آپ نے پوچھا : وہ کیسے ؟ انہوں نے کہا : جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں وہ بھی نماز پڑھتے ہیں اور جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں وہ بھی روزے رکھتے ہیں اور وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کرسکتے اور وہ غلام آزاد کرتے ہیں ہم غلام آزاد نہیں کرسکتے، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں تم کو ایسی چیز کی تعلیم نہ دوں جس کی وجہ سے تم اپنے سے سبقت کرنے والوں کا درجہ پالو گے اور بعد والوں کا درجہ پالو گے اور تم سے کوئی افضل نہیں ہوگا سوا اس کے جو تمہاری طرح عبادت کرے ؟ انہوں نے کہا، کیوں نہیں ! یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا : تم ہر نماز کے بعد تینتیس (٣٣) مرتبہ ” سبحان اللہ، اللہ اکبر ، “ اور ” الحمد اللہ “ پڑھو، فقراء مہاجرین پھر دوبارہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے، پھر کہا : ہمارے مال دار بھائیوں نے ہماری اس عبادت کا سنا تو وہ بھی اس طرح پڑھنے لگے، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہے عطا فرماتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٣٢٩ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٩٥ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٢٠١٤ سنن بیہقی ج ٢ ص ١٨٦)
القرآن – سورۃ نمبر 62 الجمعة آیت نمبر 4