قَدۡ كَانَتۡ لَـكُمۡ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ فِىۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۚ اِذۡ قَالُوۡا لِقَوۡمِهِمۡ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنۡكُمۡ وَمِمَّا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ كَفَرۡنَا بِكُمۡ وَبَدَا بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمُ الۡعَدَاوَةُ وَالۡبَغۡضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَحۡدَهٗۤ اِلَّا قَوۡلَ اِبۡرٰهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ لَاَسۡتَغۡفِرَنَّ لَـكَ وَمَاۤ اَمۡلِكُ لَـكَ مِنَ اللّٰهِ مِنۡ شَىۡءٍ ؕ رَبَّنَا عَلَيۡكَ تَوَكَّلۡنَا وَاِلَيۡكَ اَنَـبۡنَا وَاِلَيۡكَ الۡمَصِيۡرُ سورۃ نمبر 60 الممتحنة آیت نمبر 4
sulemansubhani نے Tuesday، 26 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قَدۡ كَانَتۡ لَـكُمۡ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ فِىۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۚ اِذۡ قَالُوۡا لِقَوۡمِهِمۡ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنۡكُمۡ وَمِمَّا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ كَفَرۡنَا بِكُمۡ وَبَدَا بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمُ الۡعَدَاوَةُ وَالۡبَغۡضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَحۡدَهٗۤ اِلَّا قَوۡلَ اِبۡرٰهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ لَاَسۡتَغۡفِرَنَّ لَـكَ وَمَاۤ اَمۡلِكُ لَـكَ مِنَ اللّٰهِ مِنۡ شَىۡءٍ ؕ رَبَّنَا عَلَيۡكَ تَوَكَّلۡنَا وَاِلَيۡكَ اَنَـبۡنَا وَاِلَيۡكَ الۡمَصِيۡرُ ۞
ترجمہ:
تمہارے لئے ابراہیم اور ان کے اصحاب میں بہترین نمونہ ہے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا : ہم تم سے بےزار ہیں اور ان سے جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو، ہم نے تم سب کا انکار کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لئے دشمنی اور بغض ظاہر ہوگیا حتیٰ کہ تم اللہ واحد پر ایمان لے آئو مگر ابراہیم کا اپنے (عرفی) باپ سے یہ کہنا، میں تمہارے لئے ضرور مغفرت طلب کروں گا اور میں اللہ کے مقابلہ میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، اے ہمارے رب ! ہم نے تجھ پر ہی توکل کیا اور تیری ہی طرف رجوع کیا اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تمہارے لئے ابراہیم اور ان کے اصحاب میں بہترین نمونہ ہے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا : ہم تم سے بےزار ہیں، اور ان سے جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو، ہم نے تم سب کا انکار کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لئے دشمنی اور بغض ظاہر ہوگیا حتیٰ کہ تم اللہ واحد پر ایمان لے آئو، مگر ابراہیم کا اپنے (عرفی) باپ سے یہ کہنا : میں تمہارے لئے ضرور مغفرت طلب کروں گا اور میں اللہ کے مقابلہ میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، اے ہمارے رب ! ہم نے تجھ پر ہی توکل کیا اور تیری ہی طرف رجوع کیا اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ اے ہمارے رب ! ہمیں کافروں کے لئے آزمائش نہ بنا اور اے ہمارے رب ! ہماری مغفرت فرما، بیشک تو ہی بہت غالب، بےحد حکمت والا ہے۔ بیشک تمہارے لئے ان میں اچھا نمونہ ہے (خصوصاً ) ان کے لئے جو اللہ سے (ملاقات کی) امید رکھتے ہوں اور روز آخرت سے، بیشک اللہ ہی بےنیاز اور لائق حمد ہے۔ (الممتحنہ :4-6)
کفار کی مخلافت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نمونہ
اس سے پہلی آیتوں میں کفار کی دوستی سے منع فرمایا تھا اور ضمناً ان کی مخلافت کا حکم دیا تھا، اب کفار کی مخلافت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نمونہ بیان فرمایا۔
الممتحنہ : ٤ میں ” اسوہ “ کا لفظ ہے، اسوہ ہر اس شخص کا نام ہے جس کے افعال کی اقتداء کی جائے، اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے اصحاب نے اپنی قوم سے بےزاری اور عداوت کا اظہار کیا اور حضرت ابراہمی نے اپنے عرفی باپ آزر سے جو یہ کہا تھا کہ میں تمہارے لئے مغفرت کی دعا کروں گا، اس قول میں ان کی اتباع کرنے سے منع فرمایا کیونکہ مشرکین کے لئے مغفرت کی دعا کرنا جائز نہیں ہے اور بعد میں جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر یہ منکشف ہوگیا کہ ازر اللہ کا دشمن ہے تو خود بھی اس سے بےزار ہوگئے تھے اور انہوں نے اس کے لئے مغفرت کی دعا نہیں کی، البتہ ان کے حقیقی والدین جو مئومن تھے ان کے لئے مغفرت کی دعا کی :
(ابراہیم : ٤١) اے ہمارے رب ! روز حساب میری مغفرت فرما اور میرے والدین کی اور تمام مئومنوں کی۔
اور اس آیت میں ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : اور میں اللہ کے مقابل ہمیں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں۔
یعنی حضرت ابراہیم نے آزر سے کہا، اگر تم اپنے شرک پر اصرار کرتے رہے تو میں تم سے اللہ کے عذاب کو دور نہیں کرسکتا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کے اسلام لانے کی توقع پر اس کی مغفرت کی دعا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ قرآن مجید میں ہے :
(التوبہ : ١١٤) اور ابراہیم کا اپنے (عرفی) باپ کے لئے مغفرت کی دعا کرنا صرف اس سبب سے تھا کہ انہوں نے اس سے وعدہ کرلیا تھا اور جب ان پر ظاہر ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بےزار ہوگئے۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 60 الممتحنة آیت نمبر 4