كَبُرَ مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰهِ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ – سورۃ نمبر 61 الصف آیت نمبر 3
sulemansubhani نے Tuesday، 26 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
كَبُرَ مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰهِ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ۞
ترجمہ:
اللہ اس پر سخت غضب ناک ہوتا ہے کہ تم ایسی بات کہو جس پر تم خود عمل نہیں کرتے۔
الصنف : ٣ میں فرمایا : اللہ پر سخت غضب ناک ہوتا ہے کہ تم ایسی بات کہو جس پر تم خود عمل نہیں کرتے۔
ابن زید نے کہا : یہ آیت منافقین کے متعلق نازل ہوئی ہے جو کہتے تھے : اگر تم اللہ کے دشمنوں سے مقابلہ کے لئے نکلے اور تم نے ان سے قتال کیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکلیں گے اور ان کے ساتھ قتال کریں گے اور جب مسلمان کفار سے مقابلہ کے لئے نکلے تو وہ پیچھے لوٹ گئے اور انہوں نے قتال نہیں کیا۔
بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جو کسی کام کی نذر مانتے ہیں اور پھر اس کو پورا نہیں کرتے یعنی وہ ایک بات کہتے ہیں اور اس پر عمل نہیں کرتے اور اس آیت سے معلوم ہوا کہ نذر کا پورا کرنا واجب ہے۔
اسی طرح انسان جب کسی شخص سے کسی چیز کو دینے کا وعدہ کرے یا اس کے لئے کسی کام کو کرنے کا وعدہ کرے تو اس پر واجب ہے کہ وہ اپنے وعدہ کو پورا کرے ورنہ وہ اللہ کے غضب کا مستحق ہوگا۔
اسی طرح اس آیت کے مصداق وہ علماء اور واعظین ہیں ج لوگوں کو برائی سے روکتے ہیں اور خود برائی سے نہیں رکتے، اس سلسلہ میں یہ احادیث ہیں :
حضرت اسامہ بن زید (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا پھر اس کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا، اس کی انتڑیاں دوزخ میں بکھر جائیں گی اور وہ اس طرح گردش کر رہا ہوگا جس طرح چکی کے گدھا گردش کرتا ہے، دوزخی اس کے گرد جمع ہو کر اس سے کہیں گے : اے فلاں ! کیا بات ہے ؟ تم تو ہم کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور برائی سے روکتے تھے، وہ کہے گا : میں تم کو نیکی کا حکم دیتا تھا اور خود نیک کام نہیں کرتا تھا اور میں تم کو برائی سے روکتا تھا اور خود برے کام کرتا تھا۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٢٦٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٩٨٩ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٨٦٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٩٨٢)
حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : معراج کی شب میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا، جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے، جب بھی ان کو کاٹا جاتا وہ جڑ جاتے اور پھر ان کو کاٹا جاتا، میں نے پوچھا : اے جبریلچ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا، یہ آپ کی امت کے وہ واعظین ہیں جو لوگوں سے کہتے تھے اور خود عمل نہیں کرتے تھے، کتاب اللہ کو پڑھتے تھے اور عمل نہیں کرتے تھے، بےعمل واظین کے متعلق ہم نے زیادہ تحقیق البقرہ : ٤٤، ” تبیان القرآن “ ج ١ ص 399407 میں کی ہے۔
(حلیۃ الاولیاء ج ٢ ص 386 مسند ابویعلی رقم الحدیث : ٣٩٩٢ مجمع الزوائد ج ٧ ص 276 مسند ابویعلی کی حدیث کی سند صحیح ہے۔ )
القرآن – سورۃ نمبر 61 الصف آیت نمبر 3