أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا يَنۡهٰٮكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيۡنَ لَمۡ يُقَاتِلُوۡكُمۡ فِى الدِّيۡنِ وَلَمۡ يُخۡرِجُوۡكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡهُمۡ وَ تُقۡسِطُوۡۤا اِلَيۡهِمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور اللہ تم کو انکے ساتھ نیکی کرنے اور تھوڑا تھوڑا دینے سے نہیں روکتا جنہوں نے تم سے دین میں جنگ نہیں کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، بیشک اللہ تھوڑا تھوڑا دینے والوں کو (بھی) پسند فرماتا ہے۔

الممتحنہ : ٨ میں فرمایا : اور اللہ تم کو ان کے ساتھ نیکی کرنے اور تھوڑا تھوڑا دینے سے نہیں روکتا جنہوں نے تم سے دین میں جنگ نہیں کی، اور تم کو تمہارے ھگروں سے نہیں نکالا، بیشک اللہ تھوڑا تھوڑا دینے سے نہیں روکتا جنہوں نے تم سے دین میں جنگ نہیں کی، اور تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، بیشک اللہ تھوڑا تھوڑا دینے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

ابن زید نے کہا، یہ حکم ابتداء اسلام میں تھا جب کفار سیقتال کرنے کی اجازت نہیں تھی، پھر جب آیت جہاد نازل ہوئی تو یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ ایک قول یہ یہ کہ یہ حکم اس وقت تھا جب ٦ ہجری میں صلح حدیبیہ ہوئی اور جب ٨ ہجری میں یہ معاہدہ منسوخ ہوگیا اور مکہ فتح ہوگیا تو پھر یہ حکم بھی منسوخ ہوگیا۔

مجاہد نے کہا، یہ حکم ان مسلمانوں کے لئے تھا جنہوں نے ہجرت نہیں کی تھی۔

ایک قول یہ ہے کہ یہ حکم عورتوں اور بچوں کے ساتھ مخصوص تھا جو قتال نہیں کرسکتے تھے، سو اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا اور اکثر مفسرین نے یہ کہا ہے کہ یہ آیت محکمہ ہے اور منسوخ نہیں ہوئی، ان کی دلیل یہ حدیث ہے :

حضرت اسماء بنت ابی بکر بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : کیا وہ اپنی ماں کے ساتھ نیکی کریں ڈ جب وہ حالت شرک میں ان کے پاس آئیں، آپ نے فرمایا : ماں !

(صحیح البخاری رقم الحدیث :2620-3183 صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٠٣ سنن ابو دائود رقم الحدیث :1668 مسند احمد ج ٦ ص 347)

اس آیت میں تم کو ان کے ساتھ نیکی کرنے سے منع نہیں فرمایا، جنہوں نے تم سے قتال نہیں کیا، اس سے مراد بنو خزاعتہ ہیں جنہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس پر صلح کی تھی کہ وہ آپ سے قتال کریں گے نہ آپ کے خلاف کسی کی مدد کریں گے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا۔

نیز اس آیت میں فرمایا ہے :” وتقسطوا الیھم “ یعنی ان کو قسطوں میں مال عطا کرو، اس سے مراد عدل اور انصاف نہیں ہے، کیونکہ عدل اور انصاف ہر ایک کے ساتھ واجب ہے، خواہ وہ مسلمانوں کے ساتھقتلا کرے یا نہ کرے۔

(احکام القرآن لابن العربی ج ٤ ص ٢٢٨) (الجامع لا حکام القرآن جز 18 ص 53-54 دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

عام طور پر مفسرین نے اس کا لفظ کا ترجمہ عدل و انصاف کیا ہے، لیکن علامہ ابن العربی و قرطبی وغیرہما نے اس پر قوی اعتراض کیا ہے، اس لیء ہم نے اس کا ترجمہ تھوڑا تھوڑا دینا کیا۔ اعلیٰ حضرت نے ایک تاویل سے اس کا معنی انصاف کرنا بھی جائز قرار دیا ہے، اس کی تفصیل عنقریب اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز کی عبادت میں آرہی ہے۔

غیر متحارب کافروں کے ساتھ حسن سلوک میں اعلیٰ حضرت کی تحقیق

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی متوفی 1340 ھ ہیں :

سلوک مالی کی اقسام

فاقول سلوک مالی تین طرح ہے : (١) مرحمت (٢) مکرمت (٣) مکیدت۔

اول یہ کہ محض اسے نفع دینا خیر پہنچانا مقصود ہو، یہ مستامن معاہد کے لئے بھی حرام ہے، امان و معاہدہ کف ضرر کے لئے ہے نہ کہ اعداء اللہ کو بالقصد خیر کے واسطے۔

دوم یہ کہ اپنی ذاتی مصلحت مثل مکافات احسان ولحاظ رحم کے لئے کچھ مالی سلوک، یہ معاہد سے جائز نا معاہد سے ممنوع۔

سوم یہ کہ مصلحت اسلام و مسلمین کے لئے محاربانہ چال ہو، یہ حربی محارب کے واسطے بھی جائز کہ حقیقت بر وصلہ سے اسے علاقہ نہیں۔

موالات کی تقسیم اور اس کے احکام

تحقیق مقام یہ ہے کہ موالات دو قسم ہے :

اول حقیقیہ جس کا ادنیٰ رکون یعنی میلان قلب ہے، پھر ود اور پھر اتحاد، پھر اپنی خواہش سے بےخوف وطمع انقیاد پھر تبتل یہ بجمیع وجوہ ہر کافر سے مطلقاً ہرحال میں حرام ہے۔

میل طبعی کا حکم

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار۔ (ھود : ١١٣) ظالموں کی طرف میل نہ کرو کہ تمہیں آگ چھوئے۔

مگر میاں طبعی جیسے ماں باپ، اولاد یا زن حسینہ کی طرف کہ جس طرح بےاختیار ہو زیر حکم نہیں، پھر بھی اس تصور سے کہ یہ اللہ و رسولہ کے دشمن ہیں ان سے دوستی حرام ہے، بقدر قدرت اس کا دبانا یہاں تک کہ بن پڑے تو فنا کردینا لازم ہے کہ شئے مستمر میں بقاء کے لئے حکم ابتدا ہے کہ اعراض ہر آن متجد وہیں، آنا بےاختیار تھا اور جانا یعنی ازالہ قدرت میں ہے تو رکھنا اختیار موالات ہو اور یہ حرام قطعی ہے، و لہٰذا جس غیر اختیاری کے مبادی اس نے با اختیار پیدا کئے، اس میں معذور نہ ہو گ، جیسے شراب کہ اس سے زوال عقل، اس کا اختیاری نہیں مگر کہ اختیار سے پی تو زوال عقل اور اس پر جو کچھ مرتب ہو سب اسی کے اختیار سے ہوا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(التوبہ : ٢٣) اے ایمان والو ! اپنے باپ بھائیوں کو دوست نہ بنائو اگر وہ ایمان پر کفر پسند کریں اور تم میں جو ان سے دوستیر کھے گا وہی پکا ظالم ہوگا۔

مواصلات صوریہ کے احکام

دوم صوریہ کہ دل اس کی طرف اصلاً مائل نہ ہو مگر برتائو وہ کرے جو بظاہر محبت و میلان کا پتا دیتا ہو، یہ بحالت ضرورت و بمجبوری صرف بقدر ضرورت و مجبوری مطلقاً جائز ہے۔ اللہ تعالیٰ :

الا ان تتقوا منھم تقۃ (آل عمران :28) مگر یہ کہ تمہیں ان سے پورا واقعی خوف ہو۔

بقدر ضرورت یہ کہ مثلاً صرف عدم اظہار عداوت میں کام نلکتا ہو تو اسی قدر پر اکتفاء کرے اور اظہار محبت کی ضرورت ہو تو حتی الامکان پہلو وار بات کہے، صریح کی اجازت نہیں اور اس کے نجات نہ ملے اور قلب ایمان پر مطمئن ہو تو اس کی بھی رخصت اور اب بھی رتک عزیمت۔

صوریہ کی اعلیٰ قسم مداہنت ہے، اس کی رخصت صرف بحالت مجبوری واکراہ ہی ہے اور ادنیٰ قسم مدارات یہ مصلحتاً بھی جائز۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(التوبہ : ٦) اگر کوئی مشرک تم سے پناہ چاہے تو اسے پناہ دو تاکہ کلام الٰہی سنے پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دو ۔ ظاہر ہے کہ اس وقت غلظت و خشونت منافی مقصود ہوگی۔

مدارات کا بیان

مدارات صرف اس ترک غلظت کا نام ہے، اظہار الفت ورغبت پھر کسی قسم اعلیٰ میں جائے گا اور اسی کا حکم پائے گا۔ مدارات و مداہنت کے بیچ میں موالات صوریہ کی دو قسمیں اور ہیں، برواقساط اور معاشرت۔ یہ نو صورتیں موالات کی ہوئیں اور دس کی مکمل مجرد معاملت ہے نہ کہ میلان پر مبنی، نہ اس سے منبی، یہ سوائیم رتدہر کافر سے جائز ہے جب تک کسی مخطور شرعی کی طرف منجر نہ ہو، معاشرت کے نیچے افعال کثیرہ ہیں، سلام، کلام، مصافحہ، مجالست، مساکنت، مئواکلت، تقریبوں میں شرکت، عیادت، تعزیت، اعانت، اسعانت، مشورت وغیرہا ان سب کی صورو شقوق کی تفصیل اور ہر صورت پر بیان حکم و دلیل ایک مستقل رسالہ چاہے گا، یہاں بروصلہ سے بحث ہے جس کی ہم نے تین قسمیں بیان کیں، قسم اول کہ بےاپنی کسی غرض صحیح کے بالقصد ایصال نفع و خیر منظور ہو، یہ بےرغبت و میلان قلب متصور نہیں، تو موالات حقیقیہ ہے اور مطلقاً قطعاً حرام قطعی، باقی دو قسمیں کہ اپنی غرض ذاتی یا مصلحت دینی مقصود ہو تو موالات صوریہ کی ایک ہلکی قسمیں ہیں، اگرچہ مجرد ترک غلظت پر ان میں شئے زائد ہے، ان دو میں فرق یہ ہے کہ قسم دوم بھی اگرچہ حقیقت موالات سے بر کراں ہے اور صورۃ بھی کوئی قوی دلیل نہیں مگر معنی کچھ اس کی نفی و ضد بھی نہیں اور سوم حقیقتہ معادات و قصداً ضرار ہے، لہٰذا حربی محارب سے بھیجائز ہوئی کہ اب وہ ظاہری صورت خدعہ اور چال رہ گئی ” والحرب خدعۃ “ (لڑائی فریب ہے۔ ) کفار کو پیٹھ دے کر بھاگنا کیسا اشد حرام و کبیرہ ہے، لیکن اگر مثلاً اس لئے ہو کہ وہ تعاقبک رتے چلے آئیں گے اور اگٓے اسلامی کمین ہے جب اس سے گزریں ان کے پیچھے سے کمین کا لشکر نکلے اور آگے سے یہ لوٹ پڑیں اور کافر گھر جائیں تو ایسا فرار بہت پسندیدہ ہے کہ یہ صورۃ فرار معنی کر ارہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(الانفال :16) جہاد کے دن جو کوئی کافروں کو پیٹھ دکھائے گا سوا اس کے جو لڑائی کے لئے کنارہ کرنے یا اپنے جتھے میں جگہ لینے کو جائے وہ بیشک اللہ کے غضب میں پڑا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ کیا ہی بری پھر نے کی جگہ ہے۔

حربی غیر معاہدے سے موالات کی حالی صورت بھی حرام ہے

اور دوم ان سے جائز نہیں کہ حقیقت معادات سے خالی اور صورت موالات حالی یہ صرف معاہدین کے لئے ہے ” تنزیلا للناس منازلھم “ ہر شخص کو اس کے مرتبے پر رکھنے کے لئے اور غیر معاہد کے لئے یہ بھی موالات ممنوعہ ہے، اوپر گزرا کہ مولیٰ عزو جل نے ان سے صوریہ کو بھی مثل حقیقیہ منع فرمایا اور اس کا نام مودۃ ہی رکھا کہ ” تلقون الیھم بالمودۃ تسرون الیھم بالمودۃ “ (تم انہیں خبریں پہنچاتے ہو دوستی سے، تم انہیں محبت کا خفیہ پیغام پہنچاتے ہو۔ ) یہ ہے تحقیق انیق متکفل توفیق و تطبیق والحمد للہ علی حسن التوفیق۔

آیات ممتحنہ میں برے معاملات سے کیا مراد

اس تحقیق سے روشن ہوا کہ کریمہ ” لاینھکم “ میں برے صرف اوسط مراد ہے کہ اعلیٰ معاہدے بھی حرام اور ادنیٰ غیرمعاہدے سے بھیجائز، اور آیت فرق کے لئے اتری ہے، نیز ظاہر ہوا کہ کریمہ ” انماینھکم ‘ میں ” تولوھم “ سے یہی بروصلہ مراد ہے تاکہ مقابلہ و فرق فریقین ظاہر ہو۔ لاجرم

معنی اقساط کی تحقیق

معنی اقساط میں مفسرین تین وجہ پر مختلف ہوئے :

اول کشاف و مدارک و بیضاوی ابوالسعود و جلالین میں اسے بمعنی عدل ہی لیا، اولین میں اور واضح کردیا کہ ” ولا تظلموھم “ امام ابوبکر ابن العربی نے اس پر ایراد کیا کہ عدل و منع ظلم کا حکم معاہدے سے خاص نہیں، حربی محارب کو بھی قطعاً عام ہے اور وہ صرف رخصت نہیں بلکہ قطعاً واجب۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(المائدہ : ٨) کسی قوم کی عداوت تمہیں عدل نہ کرنے پر باعث نہ ہو، عدل کرو وہ پرہیز گاری سے نزدیک تر ہے۔

یہ تقریر ایراد ہے اور اسے قرطبی و خطیب شربینی پھر جمل نے مقرر رکھا۔

دوم عدل سے صرف وفائے عہد مراد ہے اسے کبیر میں مقاتل سے نقل کیا اور یہی تنویر میں حضرت ابن عباس (رض) سے مروی :

(ان تقسطوا علیھم) تعدلوا بینھم بوفاء العھد (ان اللہ یحب المقسطین) العالدین بوفاء العھد (تنویر المتباس ص 351)

ان کے ساتھ اقساط کی اجازت فرماتا ہے یعنی جو معاہدہ ان کے ساتھ ہو اسے پورا کرو یہ عدل ہے بیشک اللہ تعالیٰ اقساط والوں کو دوست رکھتا ہے جو وفائے عہد سے عدل کرتے ہیں۔

اگر کہئے معاہد سے وفائے عہد بھی واجب ہے نہ صرف رخصت۔ اقول وفا واجب ہے اتمام مدت واجب نہیں، مصلحت ہو تو نبذ جائز۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فانبذالیہم علی سوآء “ (الانفال : ٥٨) ان کی طرف یکساں حالت پر نبذ کردو۔ اب ایراد بھی نہ رہا اور بر وقسط دو جدا چیزیں ہوگئیں اور ” ان اللہ یحب المقسطین “ (الممتحنہ : ٨) یہاں بھی بلاتکلف ہے اور اسے ماثور ہونے کا بھی رف حاصل، اگرچہ سند ضعیف ہے تو یہی اسلم واقوی ہے۔

سوم عدل سے مراد صرف عدل بالبر ہے، ابن جریر و معالم و خازن میں ہے :” تعدلوا فیھم بالاحسان و البر “ (ان سے انصاف کا برتائو کرو بھلائی اور نیکی کے ساتھ) ابن العربی و قرطبی و شربینی ونیشا پوری و جمل نے اس کی یوں توجیہ کی ” اقساط قسط “ بمعنی حصہ سے یعنی اپنے مال سے کچھ دینا۔

اقول عینی اب تخصص عدل کی حاجت نہ ہوئی کہ معنی عدل ہی سے عدول ہوگیا مگر بہرحال اقساط، برے سے جدا چیز نہ ہوا اور ظاہر عطف مغایرت چاہتا ہے۔

وانا قول وباللہ التوفیق (میں کہتا ہوں اور توفیق اللہ تعالیٰ سے ہے۔ ) ممکن کہ عدل سے عدل فی البر مراد ہو نہ کہ بالبر، اسماء بنت صدیق (رض) کی ماں عہد معاہدہ میں آتی ہے، یہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس سے صلہ کا مسئلہ پوچھتی ہیں اس پر یہ آیہ کریمہ اترتی ہے، وہ اگر کچھ ہدیہ نہ لاتی یہ اپنی طرف سے صلہ کرتیں یا جتنا وہ لاتی اس سے زائد یہ دیتیں تو کل یا قدر زائد، ان کی طرف سے احسان ہوتا، یہ بر ہے، اتنا ہی دیتیں تو دینے میں عدل یعنی مساوات ہوتی، یہ اقساط ہے۔ آیہ کریمہ نے معاہد سے دونوں صورتوں کی اجازت فرمائی اب یہ آیت زیادت و مساوات دونوں کی اجازت اور ان میں تقدیم ذکر زیادت میں آیت تحیت کی نظیر ہوگی :” واذا حییثم بتحیۃ فحیوا باحسن منھا اور دھا “ (النسائ : ٨٦) جب تمہیں سلام کیا جائے تو اس سے زیادہ ال فاظ جواب میں کہو یا اتنے ہی، واللہ تعالیٰ اعلم بمرادہ یہ ہے بتوفیق اللہ تعالیٰ تفسیر کریمہ، ممتحنہ میں تمام کلام کو ان اوراق کے غیر میں نہ ملے گا۔ ” والحمد للہ حمداً کثیراً طیباً مبارکاً فیہ و صلی اللہ تعالیٰ علی سیدنا ومولنا محمد والہ و اصحابہ امین والحمد اللہ رب العلمین۔ “ (فتاوی رضویہ ج ١٤ ص 465-472 ملحضاً رضا فائونڈیشن لاہور، ١٤١٩ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 60 الممتحنة آیت نمبر 8