أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ قَالَ مُوۡسٰى لِقَوۡمِهٖ يٰقَوۡمِ لِمَ تُؤۡذُوۡنَنِىۡ وَقَد تَّعۡلَمُوۡنَ اَنِّىۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡؕ فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور (آپ یاد کیجیے) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا، اے میری قوم ! تم مجھے کیوں اذیت پہنچاتے ہو ! حالانکہ تم کو یقین ہے کہ بیشک میں تہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، پھر جب انہوں نے کج روی کی تو اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کردیئے اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (آپ یاد کیجیے) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا، اے میری قوم ! تم مجھے کیوں اذیت پہنچاتے ہو ؟ حالانکہ تم کو یقین ہے کہ بیشک میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، پھر جب انہوں نے کج روی کی تو اللہ نے ان کے لئے دل ٹیڑھے کردیئے اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ اور جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا : اے نبی اسرائیل ! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اور اس (عظیم) رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا اس کا نام احمد ہے، پھر جب وہ رسول واضح دلائل کے ساتھ آگئے تو (کافروں نے) کہا : یہ کھلا ہواجادو ہے۔ اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو جھوٹ بول کر اللہ پر بہتان باندذھے حالانکہ اس کو اسلام کی دعوت دی جاتی ہے اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (الصف : ٧-٥)

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دی ہوئی اذیتوں کی تفصیل

الصف : ٥ میں فرمایا، اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا، اے میری قوم ! تم مجھے کیوں اذیت پہنچاتے ہو۔

بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ذات کو بھی اذیت پہنچائی اور دینی اعتبار سے بھی اذیت پہنچائی، ان کی ذات کو اذیت پہنچانے کی مثال یہ ہے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق کہا :

ان میں جسمانی عیب ہے، ان کے خصیے سوجے ہوئے ہیں اور ان کے کہنے سے ایک عورت نے حضرت موسیٰ پر بدکاری کی تہمت لگائی اور انہوں نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر الزام لگایا۔

اور دینی اعتبار سے اس طرح اذیت پہنچائی کہ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا :

(البقرہ : ٥٥) ہم آپ پر اس وقت تک ہرگز ایمان نہیں لائیں گے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا دیکھ لیں۔

لن نصیر علی طعام واحد (البقرہ : ٦١) ہم ایک قسم کے کھانے پر ہرگز صبر نہیں کریں گے۔

فاذھب انت رو ربک فقاتلاً (المائدہ : ٢٤) آپ خود جائیں اور آپ کا رب اور آپ دونوں دشمنوں سے قتال کریں۔

اجعل لنا الھا کما لھم الھۃ (الاعراف : ١٣٨) ہمارے لئے بھی ایسا خدا بنادیں جیسے ان کے خدا ہیں۔

نیز فرمایا : حالانکہ تم کو یقین ہے کہ بیشک میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔

یعنی رسول معظم اور محترم ہوتا ہے اور رسول کی توہین کفر ہوتی ہے۔

پھر فرمایا : پھر جب انہوں نے کجروی کی تو اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دیئے

یعنی اس کے باوجود جب انہوں نے حق سے انحراف کیا تو اللہ نے ان کے دلوں میں گم راہی پیدا کردی، اور یہ ان کے اس جرم کی سزا ہے جو انہوں نے اپنے رسول کی شان میں گستاخی کی تھی۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 61 الصف آیت نمبر 5