أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّاٰخَرِيۡنَ مِنۡهُمۡ لَمَّا يَلۡحَقُوۡا بِهِمۡ‌ؕ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ۞

ترجمہ:

اور ان میں سے دوسروں کو بھی جو ابھی ان پہلوں سے نہیں ملے، اور وہ بہت غالب بےحد حکمت والا ہے۔

فرزند ان فارس کا علم دین کی بلندیوں پر پہنچنا

الجمعہ : ٣ میں فرمایا : اور ان میں سے دوسروں کو بھی جو ابھی ان پہلوں سے نہیں ملے اور وہ بہت غالب بےحد حکمت والا ہے۔

اس آیت کی تفسیر میں علماء کا اختلاف ہے۔ حضرت ابن عمر، سعید بن جبیر اور مجاہد نے کہا : اس سے مراد عجمی لوگ ہیں، ان کی دلیل یہ حدیث ہے :

حضرت ابوہریرہ، (رض) بیان کرت ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، جب آپ سورة الجمعہ نازل ہوئی، جب آپ نے یہ آیت پڑھی :

واخرین منھم لما یلحفوبہم (الجمعہ : ٣) اور ان میں سے دوسروں کو بھی جو ابھی ان پہلوں سے نہیں ملے۔

ایک شخص نے پوچھا، یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ نے کوئی جواب نہیں دیا، حتیٰ کہ اس نے دو یا تین بار پوچھا : اس وقت ہم میں حضرت سلمان فارسی (رض) بھی تھے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سلمان پر ہاتھ رکھ کر فرمایا : اگر دین ثریا (ستارے) کے پاس بھی ہو تو فرزند ان فارس وہاں جائیں گے اور دین کو حاصل کرلیں گے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٨٩٨ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٤٦ سنن ترمذی رقم الحدیث ٣٩٣٣-٣٣١٠ صحیح ابن حبانرقم الحدیث : ٧١٢٣ دلائل النبوۃ ج ٦ ص ٣٢٤ مسند احمد ج ٢ ص ٤١٧)

امام ابوحنیفہ، امام ابوبکر رازی امام فخر الدین رازی، امام مسلم نیشا پوری امام حاکم نیشا پوری اور امام ابو اسحاق احمد بن ابراہیم نیشاپوری یہ تمام ائمہ فرزند ان فارس تھے اور انہوں نے حدیث، تفسیر اور فقہ میں بہت کمال حاصل کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس پیش گوئی کے مطابق علم دین کی بلندیوں پر پہنچے۔

عکر اور مقاتل نے کہا : اس سے مراد تابعین ہیں، ابن زید نے کہا : اس سے مراد صحابہ کے بعد قیامت تک کے علماء دین ہیں۔ (معالم التنزیل ج ٥ ص ٨٢، داراحیاء التراث العربی، بیروت ١٤٢٠ ھ)

قیامت تک کے مسلمانوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کتاب و حکمت کی تعلیم دینا اور ان … کے باطن کو صاف کرنا

اس سے پہلی آیت میں فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امیین پر اللہ کی آیات تلاوت کرتے ہیں، ان کا باطن صاف کرتے ہیں اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا : اور بعد والوں کو بھی جو ان پہلوں سے نہیں ملے، اس کا معنی یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کے علاوہ قیامت تک کے ذی استعداد علماء اور الویاء کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت فرماتے ہیں، ان کا بطن صاف کرتے ہیں اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں، اس کی تائید ان عبارات سے ہوتی ہے :

علامہ عبدالوہاب بن احمد بن علی الشعرانی المتوفی ٩٧٣ ھ لکھتے ہیں :

میں نے سید علی الخواص (رح) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمام اہل کشف کے نزدیک ائمہ مجتہدین کے اقوال شرعیہ سے نکلنا جائز نہیں ہے کیونکہ ان کے اقوال کشف صحیح سے کتاب و سنت اور اقوال صحابہ پر مبنی ہوتے ہیں اور ان میں سے کسی ایک کی روح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح کے ساتھ جمع ہوتی ہے اور جن دلائل میں وہ توقف کرتے ہیں، ان کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کرلیتے ہیں اور وہ آپ سے بیداری میں سوال کرتے ہیں، یا رسول اللہ ! آیا، آپ نے یہ فرمایا ہے یا نہیں ؟ اور جن مسائل کا وہ قرآن اور سنت سے استنباط کرتے ہیں ان کو اپنی کتابوں میں درج کرنے سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے معوم کرلیتے ہیں اور کہتے ہیں : یا رسول اللہ ! ہم نے اس آیت کا یا فلاں حدیث کا یہ مطلب سمجھا ہے، آپ اس پر راضی ہیں یا نہیں ؟ اور آپ کے ارشاد کے تقاضے پر عمل کرتے ہیں اور یہ چیز اولیاء اللہ کی یقینی کرامات سے ہے اور اگر ائمہ مجتہدین اللہ کے اولیاء نہیں ہیں تو پھر روئے زمین پر کوئی بھی ولی نہیں ہے اور بہ کثرت اولیاء اللہ سے منقول ہے، حالانکہ وہ ائمہ مجتہدین سے کم مرتبہ کے ہیں کہ انہوں نے بہتر مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کی ہے اور ان کے زمانہ زمانہ کے اولیاء نے ان کی تصدیق کی ہے۔

اور میں نے حافظ جلال الدین سیوطی کے ہاتھ کا لکھا ہوا رقعہ دیکھا ہے، ان سے ایک شخص نے سوال کیا تھا کہ وہ سلطان کے پاس اس کی سفارش کریں، حافظ سیوطی نے اس کو جواب میں لکھا : اے میرے بھائی ! میں نے پچھتر مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کیا ہے اور اگر مجھے یہ خطرہ نہ ہوتا کہ حاکم کے پاس تمہاری سفارش کرنے سے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت اور آپ سے ملاقات اور استفادہ کرنے سے محروم ہو جائوں گا تو میں ضرور حاکم کے پاس تمہاری سفارش کرتا اور جن احادیث کو محدثین نے اپنے طریقہ سے ضعیف قرار دیا ہے، میں ان کے صحیح یا غری صحیح ہونے کو معلوم کرنے کے لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات اور آپ سے استفادہ کرنے کا محتاج ہوں اور استفادہ میں مسلمانوں کا اجتماعی فائدہ ہے اور تمہارے ایک کے فائدہ کی بہ نسبت تمام مسلمانوں کا اجتماعی فائدہ زیادہ اہم ہے۔

اور حافظ جلال الدین کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ مشہور ہے کہ سیدی محمد بن زین، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیداری میں ملاقات کرتے تھے، حتیٰ کہ ایک شخص نے ان سے درخواست کی کہ وہ حاکم شہر کے پاس اس کی سفارش کریں اور جب وہ حاکم شہر کے پاس پہنچ گئے اور اس نے ان کو اپنے پاس بٹھایا تو یہ نعمت ان سے جاتی رہی، اور شیخ ابو الحسن شاذلی اور ان کے شاگرد شیخ ابوالعباس المرسی یہ کہتے تھے کہ اگر پلک جھپکنے کی مقدار بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم سے حجات میں ہو تو ہم اس ساعت میں اپنے آپ کو مسلمانوں میں شمار نہیں کرتے اور جب اولیاء اللہ کا یہ حال ہے تو ائمہ مجتہدین کا مرتبہ تو ان سے بہت اونچا ہے۔ (المیزان الکبریٰ ج ١ ص ٥٥-٥٤ دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٨ ھ)

شیخ انور شاہ کشمیری متوفی ١٣٥٢ ھ لکھتے ہیں :

میرے نزدیک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بیداری میں دیدار کرنا ہر اس شخص کے لئے ممکن ہے جس کو اللہ تعالیٰ یہ نعمت عطا فرمائے، جس طرح حافظ سیوطی (رح) سے منقول ہے کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بائیس مرتبہ (صحیح پچھتر بار ہے) زیارت کی اور آپ سے بعض احادیث کی صحت کے متعلق سوال کیا، اور جب آپ نے فرمایا کہ وہ صحیح ہیں تو حافظ سیوطی نے ان کو صحیح قرار دیا اور شاذلی نے سوال کیا کہ وہ حاکم وقت کے پاس اس کی شفاعت کریں تو حافظ سیوطی نے انکار کردیا اور کہا : اگر میں حاکم کے دربار میں گیا تو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت سے محروم ہو جائوں گا اور اس سے امت کا بہت نقصان ہوگا اور علامہ شعرانی (رح) نے بھی بیداری میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت کی اور آٹھ ساتھیوں کے ساتھ آپ سے ” صحیح بخاری “ پڑھی، ان آٹھ میں سے ایک حنفی تھا، لہٰذا بیداری میں آپ کی زیارت ثابت ہے اور اس کا انکار کرنا جہل ہے۔ (فیض الباری ج ١ ص ٢٠٤ مطبعہ مجلس علمی، ھند، ١٣٥٧ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 62 الجمعة آیت نمبر 3