أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَغۡفِرۡ لَـكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡ وَيُدۡخِلۡكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِىۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ‌ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُۙ ۞

ترجمہ:

وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تم کو ان جنتوں میں داخل کر دے گا جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں اور عمدہ پاکیزہ مکانوں میں دائمی جنتوں میں یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔

 

اور اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا دنیاوی منافع کی بہ نسبت آخرت کے اجر وثواب کے لحاظ سے بہتر ہے۔

الصف : ١٢ میں ایمان لانے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے پر مغفرت اور دائمی جنتوں کی بشارت دی ہے اور اس میں یہ دلیل ہے کہ جنت کی طلب میں عبادت کرنا بھی اللہ تعالیٰ کا مطلوب ہے اور جاہل صوفیاء جنت کی طلب میں عبادت کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔

نیز فرمایا : اور دوسری (نعمت بھی) جس کو تم پسند کرتے ہو، یعنی جہاد کے نتیجہ میں تم کو صرف آخرت کا اجر نہیں، دنیا میں بھی مال غنیمت حاصل ہوگا اور کافروں پر غلبہ حاصل ہوگا اور عنقریب تح حاصل ہوگی، سو مسلمانوں کو فتح مکہ حاصل ہوئی اور فرمایا : آپ مئومنوں کو بشارت دیجیے، اس سے مراد فتح مکہ کی بشارت ہے یا فارس اور روم کی فتح کی بشارت۔

سو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مئومنوں کو جہاد کے نتیجہ میں دنیا اور آخرت کی کامیابی کی بشارت دی، حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نخ فرمایا : جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے نکلا، (اللہ نے فرمایا :) وہ صرف مجھ پر ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق کے لئے نکلا ہے، میں اس کا ضامن ہوں کہ میں اس کو اجر یا غنیمت کے ساتھ لوٹائوں گا یا میں اس کو جنگ میں داخل کر دوں گا۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٦ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٧٦، سنن نسائی رقم الحدیث : ٥٠٧٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٧٥٣، مسند احمد ج ٢ ص ٣٩٩)

القرآن – سورۃ نمبر 61 الصف آیت نمبر 12