أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡۤا اَنۡصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِيۡسَى ابۡنُ مَرۡيَمَ لِلۡحَوٰارِيّٖنَ مَنۡ اَنۡصَارِىۡۤ اِلَى اللّٰهِ‌ؕ قَالَ الۡحَـوٰرِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ‌ فَاٰمَنَتۡ طَّآئِفَةٌ مِّنۡۢ بَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَكَفَرَتۡ طَّآئِفَةٌ ۚ فَاَيَّدۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا عَلٰى عَدُوِّهِمۡ فَاَصۡبَحُوۡا ظٰهِرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! اللہ (کے دین) کے مددگار بن جائو، جیسا کہ عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے کہا : اللہ کی طرف میرے مددگار کون ہیں ؟ حواریوں نے کہا ،: ہم اللہ (کے دین) کے مددگار ہیں، پھر بنی اسرائیل کی ایک جماعت ایمان لے آئی اور دوسری جماعت نے کفر کیا پس ہم نے ایمان والوں کی ان کے دشمنوں کے خلاف مدد کی تو مومن (کافروں پر) غلاب آگئے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ایمان والو ! اللہ (کے دین) کے مددگار بن جائو، جیسا کہ عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے کہا : اللہ کی طرف میرے مددگار کون ہیں ؟ حواریوں نے کہا : ہم اللہ (کے دین) کے مددگار ہیں، پھر بنی اسرائیل کی ایک جماعت ایمان لے آئی اور دوسری جماعت نے کفر کیا، پس ہم نے ایمان والوں کی ان کے دشمنوں کے خلاف مدد کی مئومن (کافروں پر) غالب آگئے۔ (الصف : ١٤)

ایمان والوں کو دین کی مدد کرنے کا حکم دینے کی توجیہ اور مدد کرنے والوں کے مصادیق

ایمان والے پہلے بھی اللہ کے دین کے مددگار تھے اس کے باوجود کو حکم دیا ہے کہ وہ اللہ کے دین کے مددگار ہوجائیں، اس کا معنی یہ ہے کہ تم اللہ کے دین کی مدد کرنے پر ثابت قدم رہو اور جس طرح اب مدد کر رہے ہو، اس طرح ہمیشہ مدد کرتے رہنا۔

جس طرح حضرت عیسیٰ ابن مریم نے اپنے حواریوں سے کہا تھا : اللہ کی طرف میرے مددگار کون ہیں ؟ مقاتل نے کہا :

یعنی اللہ کی طرف سے میری حفاظت کون کرے گا ؟ عطاء نے کہا : یعنی اللہ کے دین کی کون مدد کرے گا ؟ بعض مفسرین نے کہا : اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مئومنین کو یہ حکم دیا کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس طرح مدد کریں جس طرح حواریوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مدد کی تھی۔

” لحواریون “ کا معنی ہے : جن کا باطن صاف ہو اور یہ وہ لوگ تھے جو سب سے پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے۔ حور کا معنی ہے : خالص سفید، ایک قول یہ ہے کہ حواری کپڑے دھو کر صاف کرتے تھے۔

قتادہ نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مددگار سب قریش تھے : حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت حمزہ، حضرت عثمان بن عوف، حضرت ابو عبیدہ بن الجراح، حضرت عثمان بن مظعون، حضرت عبدالرحمان بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت عثمان بنی عف، حضرت طلحہ بن عبید اللہ اور حضرت زبیر بن عوام (رض) ۔

میں کہتا ہوں : یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مشہور مددگار تھے ورنہ تمام مہاجرین اور انصار سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مددگار تھے۔ قتادہ نے ان کی خصوصیت کی وجہ سے ان کا ذکر کیا ہے۔

نصاریٰ کے تین فرقے

اس کے بعد فرمایا : پھر بنی اسرائیل کی ایک جماعت ایمان لے آئی اور دوسری جماعت نے کفر کیا۔

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : یعنی جو لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں ایمان لائے اور جن لوگوں نے ان کے زمانہ میں کفر کیا، کیونکہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا تو ان کے تین فرقے ہوگئے، ایک فرقہ نے کہا : وہ خود اللہ تھے، پس اوپر چلے گئے، دوسرفرقہ نے کہا : وہ اللہ کے بیٹے تھے اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا اور تیسرے فرقہ نے کہا : وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے، اللہ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا اور وہی مسلمان تھے اور ہر فرقہ کی لوگوں نے اتباع کی اور کافر فرقوں نے متفق ہو کر مسلمانوں کو قتل کیا اور ان کو اپنے علاقے سے نکال دیا اور نصاریٰ اسی حال پر تھے کہ اللہ تعالیٰ نے سینا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرما دیا، پھر مسلمان کافروں پر غالب آگئے، جیسا کہ اس کے بعد فرمایا :

پس ہم نے ایمان والوں کی ان کے دشمنوں کے خلاف مدد کی تو مومن (کافروں پر) غالب آگئے۔

مجاہد نے کہا : مئومنین سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین ہیں، ابراہیم نے کہا : جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے، جب انہوں نے ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کی تو ان کی حجت دوسروں پر غالب آگئی کہ حضرت عیسیٰ کلمتہ اللہ و روح اللہ ہیں۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 61 الصف آیت نمبر 14