أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! تم ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جن پر تم خود عمل نہیں کرتے.

نذر اور وعدہ پورا نہ کرنے والوں پر اور بےعمل واعظوں پر وعید

الصف : ٢ میں فرمایا : اے ایمان والو ! تم ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جن پر تم خود عمل نہیں کرتے۔

اس کے شان نزول میں یہ حدیث ہے :

حضرت عبداللہ بن سلام (رض) باین کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب بیٹھے ہوئے مذاکرہ کر رہے تھے، ہم نے کہا : کاش ! ہمیں معلوم ہوجاتا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا عمل بہت پسندیدہ ہے تو ہم اس پر عمل کرتے تو سورة الصف کی یہ دو آیتیں نازل ہوئیں۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣٠٩، مسند احمد ج ٥ ص ٤٥٢ المسدترک ج ٢ ص 487)

امام رازی نے کہا : یہ آیت منفاقین کے متعلق نازل ہوئی ہے جو پہلے قتال اور جہاد کی تمنا کرتے تھے اور جب اللہ تعالیٰ نے قتال کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے کہا :

وقالوا ربنا لم کتبت علینا القتال۔ (النسائ : ٧٧) منافقوں نے کہا : اے ہمارے رب ! تو نے ہم پر قتال کیوں فرض کردیا ؟

القرآن – سورۃ نمبر 61 الصف آیت نمبر 2