يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنۡجِيۡكُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ اَلِيۡمٍ سورۃ نمبر 61 الصف آیت نمبر 10
sulemansubhani نے Tuesday، 26 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا هَلۡ اَدُلُّكُمۡ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنۡجِيۡكُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ اَلِيۡمٍ ۞
ترجمہ:
اے ایمان والو ! کیا میں تم کو ایسی تجارت باتئوں جو تم کو درد ناک عذاب سے نجات دے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! کیا میں تم کو ایسی تجارت بتائوں جو تم کو درد ناک عذاب نجات دے۔ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو، اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔ وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تم کو ان جنتوں میں داخل کر دے گا جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں اور عمدہ پاکیزہ مکانوں میں دائمی جنتوں میں، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ اور دوسری (نعمت بھی) جس کو تم پسند کرتے ہو، عنقریب اللہ کی طرف سے مدد اور فتح حاصل ہوگی اور مئومنین کو بشارت دیجیے۔ (الصف : ١٣-١٠)
دوزخ سے نجات کے لئے عبادت کرنا بھی اللہ کا مطلوب ہے
ان آیتوں کی نظیر یہ آیت ہے :
(التوبہ : ١١١) بیشک اللہ نے مئومنین سے ان کی جانوں کو اور ان کے مالوں کو جنت کے عوض خرید لیا۔
ایک چیز کے عوض میں دوسری چیز کے حصول کو تجارت کہتے ہیں، جس طرح تاجر کو تجارت تنگ دستی کی تکلیف سے نجات دیتی ہے اور جس طرح تجارت میں نفع نقصان ہوتا ہے۔ اسی طرح جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر عمل کرتا ہے، اس کو بہت عظیم اجر وثواب حاصل ہوتا ہے اور اس کو دوزخ کے عذاب سے نجات ملتی ہے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لاتا، اس کو دوزخ کا دائمی عذاب ہوتا ہے، اس آیت میں یہ بھی دلیل ہے کہ دوزخ کے عذاب کے ڈر سے ایمان لانا اور نیک اعمال کرنا بھی اللہ کا مطلوب ہے اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوزخ سے پناہ طلب کی ہے :
عن عائشہ ان النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نیتعوذ اللھم انی اعوذ بک من فتنۃ النارومن عذاب النار الحدیث (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٣٧٦)
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پناہ طلب کرتے تھے : اے اللہ ! میں دوزخ کے فتنہ سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور میں دوزخ کے عذاب سے تیری پناہ آتا ہوں۔ اور جاہل صوفیاء دوزخ کے ڈر سے عبادت کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔
جنت کے حصول کے لئے عبادت کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔
جنت کے حصول کے لئے عبادت کرنا بھی اللہ کا مطلوب ہے
تبیان القرآن سورۃ نمبر 61 الصف آیت نمبر 10