يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا جَآءَكُمُ الۡمُؤۡمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامۡتَحِنُوۡهُنَّ ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِاِيۡمَانِهِنَّ ۚ فَاِنۡ عَلِمۡتُمُوۡهُنَّ مُؤۡمِنٰتٍ فَلَا تَرۡجِعُوۡهُنَّ اِلَى الۡكُفَّارِ ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمۡ وَلَا هُمۡ يَحِلُّوۡنَ لَهُنَّ ۚ وَاٰ تُوۡهُمۡ مَّاۤ اَنۡفَقُوۡا ؕ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ اَنۡ تَنۡكِحُوۡهُنَّ اِذَاۤ اٰ تَيۡتُمُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ ؕ وَلَا تُمۡسِكُوۡا بِعِصَمِ الۡكَوَافِرِ وَسۡـئَـلُوۡا مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ وَلۡيَسۡـئَـلُوۡا مَاۤ اَنۡفَقُوۡا ؕ ذٰ لِكُمۡ حُكۡمُ اللّٰهِ ؕ يَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡ ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ سورۃ نمبر 60 الممتحنة آیت نمبر 10
sulemansubhani نے Tuesday، 26 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا جَآءَكُمُ الۡمُؤۡمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامۡتَحِنُوۡهُنَّ ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِاِيۡمَانِهِنَّ ۚ فَاِنۡ عَلِمۡتُمُوۡهُنَّ مُؤۡمِنٰتٍ فَلَا تَرۡجِعُوۡهُنَّ اِلَى الۡكُفَّارِ ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمۡ وَلَا هُمۡ يَحِلُّوۡنَ لَهُنَّ ۚ وَاٰ تُوۡهُمۡ مَّاۤ اَنۡفَقُوۡا ؕ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ اَنۡ تَنۡكِحُوۡهُنَّ اِذَاۤ اٰ تَيۡتُمُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ ؕ وَلَا تُمۡسِكُوۡا بِعِصَمِ الۡكَوَافِرِ وَسۡـئَـلُوۡا مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ وَلۡيَسۡـئَـلُوۡا مَاۤ اَنۡفَقُوۡا ؕ ذٰ لِكُمۡ حُكۡمُ اللّٰهِ ؕ يَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡ ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ۞
ترجمہ:
اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس ایمان والی عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کو آزما لیا کرو، اللہ ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے، پھر اگر تم کو ان کے ایمان کا یقین ہوجائے تو پھر ان کو کفار کی طرف مٹ لوٹائو نہ وہ مئومنات کفار کے لئے حلال ہیں اور نہ وہ کفار ان مئومنات کے لئے حلال ہیں اور تم کافروں کو وہ مال دے دو جو انہوں نے ان مئومنات پر خرچ کیا ہے، اور ان مئومنتا سے نکاح کرنے میں تم پر کوئی حرج نہیں ہے جب کہ تم ان کے مہر ادا کردو اور (اے مسلمانو ! ) تم بھی کافر عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ روکے رکھو اور جو تم نے ان کے مہر میں خرچ کیا ہے وہ کافروں سے طلب کرلو، اور کافروں نے جو خرچ کیا ہے وہ تم سے طلب کرلیں، یہ اللہ کا وہ حکم ہے جس کا وہ تمہارے درمیان فیصلہ فرماتا ہے، اور اللہ بہت علم والا، حکمت والا ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! جب متہارے پاس ایمان والی عورتیں ہجرت کرکے آئیں تو ان کو آزما لیا کرو، اللہ ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے، پھر اگر تم کو ان کے ایمان کا یقین ہوجائے تو پھر ان کو کفار کی طرف مت لوٹائو، نہ وہ مئومنات کفار کے لئے حلال ہیں اور نہ وہ کفار ان مئومنات کے لئے حلال ہیں اور تم کافروں کو وہ مال دے دو ، جو انہوں نے ان مئومنات پر خرچ کیا ہے اور ان مئومنات سے نکاح کرنے میں تم پر کوئی حرج نہیں ہے، جب کہ تم ان کے مہر انہیں ادا کردو، اور (اے مسلمانو ! ) تم بھی کافر عورتوں کو نہ روکے رکھو، اور جو تم نے ان کے مہر میں خرچ کیا ہے وہ کافروں سے طلب کرلو اور کافروں نے جو خرچ کیا ہے وہ تم سے طلب کرلیں، یہ اللہ کا وہ حکم ہے جس کا وہ تمہارے درمیان فیصلہ فرماتا ہے اور اللہ بہت علم والا، بےحد حکمت والا ہے۔ اور اگر تمہاری بیویوں میں سے کوئی بیوی چھوٹ کر کافروں کی طرف چلی جائے تھپر (تم کفار سے) مال غنیمت حاصل کرلو تو (مال غنیمت میں سے) ان مسلمانوں کو اتنا مال دے دو جتنا انہوں نے ان بیویوں پر خرچ کیا تھا جو کفار کی طرف چلی گئی ہیں اور اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لا چکے ہو۔ (الممتحنہ :10-11)
صلح حدیبیہ کے تقاضے سے صرف مہاجر مسلمانوں کا کفار کی طرف واپس کرنا واجب تھا …نہ کہ مہاجر خواتین کا بھی
امام الحسین بن مسعود الفراء البغوی المتوفی 516 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
مروان اور مسوربن مخرمہ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب سے روایت کرتے ہیں کہ سہیل بن عمرو نے حدیبیہ کے دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صلح نامہ میں یہ شرط لکھوائی تھی کہ جو شخص بھی مشرکین میں سے آپ کے پاس آئے گا، خواہ وہ آپ کے دین پر ہو اسے آپ کو ہماری طرف واپس کرنا ہوگا، اسی شرط کے مطابق اس دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوجندل (رض) کو ان کے باپ سہیل بن عمرو کی طرف واپس کردیا تھا اور اس مدت میں مردوں میں سے جو بھی مسلمان ہو کر آپ کے پاس آیا آپ نے اس کو واپس کردیا اور مئومنات بھی ہجرت کر کے آپ کے پاس آئیں اور حضرت ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط بھی ان خواتین میں سے تھیں جو ہجرت کر کے آپ کے پاس آئیں، تب ان کے گھر والے آپ کے پاس گئے اور آپ سے سوال کیا کہ آپ حضرت ام کلثوم کو انکی طرف واپس کردیں، آپ نے حضرت ام کلثوم کو ان کی طرف واپس نہیں کیا، کیونکہ یہ آیت نازل ہوچکی تھی کہ اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس ایمان والی عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کو آزما لیا کرو، اللہ ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے، پھر اگر تم کو ان کے ایمان کا یقین ہوجائے تو پھر ان کو کفار کی طرف مت لوٹائو۔ الایۃ (الممتحنہ : ١٠) (صحیح البخاری رقم الحدیث :2712)
اس جگہ یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی ہے کیونکہ معاہدہ میں یہ مذکور نہیں تھا کہ آپ کے پاس مکہ سے جو بھی آئے گا خواہ مرد ہو یا عورت آپ کو اسے واپس کرنا بلکہ معاہدہ میں مردوں کی واپسی کی شرط تھی، عورتوں کی واپسی کی شرط نہیں تھی، معاہدہ کے الفاظ یہ تھے :
فقال سھیل وعلی انہ لا یاتیک منارجل وان کان علی دینک الا رددتہ الینا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٧٣٢) سہیل نے کہا، اور شرط یہ ہے کہ آپ کے پاس ہمارا جو مرد بھی آئے خواہ وہ آپ کے دین پر ہو، آپ کو اسے ہمیں واپس کرنا ہوگا۔
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ کرنے جا رہے تھے، جب آپ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو مشرکین مکہ نے آپ سے اس پر صلح کرلی کہ اہل مکہ میں سے جو آپ کے پاس آیا، آپ اس کو واپس کریں گے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے جو ان کے پاس جائے گا وہ اس کو واپس نہیں کریں گے، اس پر صلح نامہ لکھا جا چکا تھا، لکھنے کے بعد حضرت سبیعہ بنت الحارث الاسلمیہ، مسلمان ہو کر آپ کے پاس آئیں، پھر ان کے خاوند مسافر بن مخزوم (یا صیفی بن الراھب) آئے اور ان کو طلب کیا اور کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میری بیوی واپس کردو، کیونکہ تم یہ شرط مان چکے ہو کہ ہمارے پاس سے جو بھی تمہارے پاس آئے گا تم اس کو واپس کردو گے، اور ابھی تو اس صلح نامی کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی ہے، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت (الممتحنہ : ١٠) نازل فرمائی ہے۔ یعنی یہ شرط مردوں کے متعلق تھی خواتین اس میں داخل نہیں ہیں لہٰذا پوری مدت معاہدہ میں مسلمان ہو کر آنے والے مردوں کو تو مشرکین کی طرف واپس کیا گیا مگر جو خواتین مسلمان ہو کر آپ کے پاس آئیں ان کو آپ نے واپس نہیں فرمایا۔
مہاجر خواتین سے امتحان لینے کی کیفیت
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : آزمانے کی کیفیت یہ تھی کہ جو خاتون مسلمان ہو کر آپ کے پاس آتی، آپ اس سے اس پر حلف لیتے کہ وہ اپنے خاوند سے بغض کی وجہ سے نہیں آئی ہے یا مدینہ کے کسی مسلمان کے ساتھ عشق اور محبت کی وجہ سے نہیں آئی ہے اور نہ ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ کی طرف منتقل ہونے اور آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے آئی ہے اور نہ کسی آفت اور مصیبت کی وجہ سے ائٓی ہے اور نہ دنیا کی طلب میں ائٓی ہے، بلکہ وہ صرف اسلام کی طرف رغبت کی وجہ سے آئی ہے اور اللہ اور اس کے رسول سے محبت کی وجہ سے آپ کے پاس آئی ہے، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سبیعہ بنت الحارث سے اس پر حلف لیا اور جب انہوں نے اس پر حلف اٹھا لیا تو پھر آپ نے ان کو واپس نہیں کیا اور ان کے مشرک خاوند کو اس کا دیا ہوا مہر جو اس کا ان پر خرچ کیا ہوا تھا وہ دے دیا، پھر ان سے حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے نکاح کرلیا اور مکہ اس کا دیا ہوا مہر جو اس کا ان پر خرچ کیا ہوا تھا وہ دے دیا، پھر ان سے حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے نکاح کرلیا اور مکہ اس کا دیا ہوا مہر جو اس کا ان پر خرچ کیا ہوا تھا وہ دے دیا، پھر ان سے حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے نکاح کرلیا اور مکہ اس کا دیا ہوا مہر جو اس کا ان پر خرچ کیا ہوا تھا وہ دے دیا، پھر ان سے حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے نکاح کرلیا اور مکہ سے جو مرد آپ کے پاس آتے تھے آپ ان کو واپس کردیتے تھے اور جو خواتین آتی تھیں ان کا امحتان لینے کے بعد ان کو روک لیتے تھے اور ان کے کافر شوہر کو ان کو دیا ہوا مہر واپس کردیتے تھے۔
مسلم خواتین ہجرت کر کے مدینہ میں آئیں یا مدینہ سے مسلم عورتیں مرتد ہو کر کفار کی طرف …جائیں، اختلاف دارین سے نکاح سابق منقطع ہوجائے گا
نیز اس آیت میں فرمایا : اور ان مئومنات سے نکاح کرنے میں تم پر کوئی حرج نہیں ہے جب کہ تم ان کے مہر انہیں ادا کردو۔
یعنی اللہ تعالیٰ نے ان ہجرت کرنے والی مسلمان خواتین سے تمہارا نکاح مباح کردیا ہے، خواہ ان کے سابقہ شوہر دارالکفر میں ہوں کیونکہ اسلام نے ان کے اور ان کے کافر شوہروں کے درمیان تفریق کردی۔
اس کے بعد فرمایا :” ولاتمسکوا بعصم الکوافر “ ” ولاتمسکوا “ کا معنی ہے : مت روکو اور ” العصم العصمت “ کی جمع ہے، اس کا معنی ہے : جو عقد نکاح یا نسب کے رشتہ کی وجہ سے محفوظ ہو اور ” الکوافر، کافرۃ “ کی جمع ہے اور اس جملہ کا معنی ہے : اور تم نکاح شدہ کافر عورتوں کو مت روکے رکھو اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس سے منع کردیا کہ وہ کافرہ کے ساتھ نکاح پر قائم رہیں، یعنی جس مسلمان کا مکہ میں کسی کافرہ کے ساتھ نکاح تھا اور وہ مسلمان اب ہجرت کر کے مدینہ منورہ آچکا ہے تو اس مسلمان کا ناکح بھی اس کافرہ سے اختلاف دارین کی وجہ سے اس طرح منقطع ہوگیا جس طرح مسلمہ مہاجرہ کا نکاح مکہ میں رہنے والے کافر سے منقطع ہوگیا۔
مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آنے والی مسلم خواتین
زہری نے کہا : اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ حضتر عمربن الخطاب (رض) کی مکہ میں دو بیویاں تھیں اور وہ دونوں مشرکہ تھیں، سو حضرت عمر کی ہجرت کے بعد ان کا ان مشرکہ بیویوں سے نکاح منقطع ہوگیا، پھر بعد میں معاویہ بن ابی سفیان نے مکہ میں ان مشرکہ عورتوں میں سے ایک کے ساتھ نکاح کرلیا اور دوسری ام کلثوم بنت عمرو تھی، اس سے ابوجہم بن حذافہ نے نکاح کرلیا۔ (امام بخاری نے اس کو تعلیقاً روایت کیا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٧٣٣)
شعبی نے کہا، حضرت زینب بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں ابو العاص بن الربیع کے نکاح میں تھیں، وہ مسلمان تھیں اور ہجرت کر کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگئیں اور ابوالعاص مکہ میں مشرک رہے، پھر وہ مدینہ میں آ کر اسلام لے آئے تو آپ نے حضرت سیدہ زینب (رض) کو انہیں واپس کردیا۔
اس کے بعد فرمایا : اور جو مت نے ان کے مہر میں خرچ کیا ہے وہ کافروں سے طلب کرلو، اور کافروں نے جو خرچ کیا وہ وہ تم سے طلب کرلیں۔
یعنی اے مسلمانوچ اگر کوئی عورت اسلام سے مرتد ہو کر کافروں سے جا ملی ہے تو تم نے اس کے مہر وغیرہ پر جو خرچ کیا ہے وہ کافروں سے وصول کرلو اور کافروں کی جو عورت مسلمان ہو کر تمہارے پاس آگئی ہے تو اکفر شوہر نے اس کے مہر وغیرہ پر جو خرچ کیا ہے وہ تم سے وصول کرلے ( یہ رقم اس سے ناکح کرنے والا مسلمان ادا کرے گا ورنہ بیت المال سے ادا کی جائے گی۔ )
الممتحنہ : ١ میں فرمایا : اور اگر تمہاری بیویوں میں سے کوئی بیوی چھوٹ کر کافروں کی طرف چلی جائے پھر (تم کفار سے) مال غنیمت حاصل کرلو تو (مال غنیمت میں سے) ان مسلمانوں کو اتنا مال دے دو جتنا انہوں نے ان بیویوں پر خرچ کیا تھا، جو کفار کی طرف چلی گئیں۔ الایۃ
مدینہ سے اسلام کو ترک کر کے کفار کی طرف جانے والی عورتیں
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ چھ مسلم اور مہاجر خواتین کفار کے پاس چلی گئی تھیں : (١) ام الحکم بنت ابی سفیان، یہ حضرت عیاض بن شداد فہری کے نکاح میں تھی (٢) فاطمہ بنت ابی امیہ، یہ حضرت عمر بن الخطاب کے نکاح میں تھی (٣) بروع بنت عقبہ، یہ حضرت شماس بن عثمان کے نکاح میں تھی (٤) عزہ بنت عبدالعزیز، یہ حضرت عمرو بن عبدود کے نکاح میں تھی (٥) ھند بنت ابی جہل، یہ حضرت ہشام بن العاص بن وائل کے نکاح میں تھی (٦) ام کلثوم بنت جرول، یہ حضرت عمر بن الخطاب کے نکاح میں تھی، یہ سب عورتیں اسلام سے مرد ہوگئی تھیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے مسلمان شوہروں کو مال غنیمت سے ان عورتوں کے مہر پر خرچ ہونے والی رقوم ادا کردیں۔
رفیقین کے سابق شوہروں کو ان کے دیئے ہوئے مہر کی رقم دینا آیا اب بھی واجب ہے یا نہیں ؟
اس میں اختلاف ہے کہ ان عورتوں کے سابق شوہروں کو ان کے مہر کی رقم واپس کرنا اب بھی واجب ہے یا نہیں ؟ بعض علماء نے کہا، اب یہ حکم واجب نہیں ہے اور یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے اور بعض علماء نے کہا، یہ حکم غیر منسوخ ہے اور اب بھی واجب العمل ہے۔ امام ابوبکر رازی حنفی نے کہا ہے کہ ہمارے نزدیک یہ حکم اب منسوخ ہوچکا ہے اور اس حکم کی ناسخ یہ آیت ہے :
(البقرہ : ١٨٨) اور تم ایک دوسرے کا مال ناحق ذریعہ سے نہ کھائو۔
اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشادبھی اس کے لئے ناسخ ہے : کسی مسلمان شخص کا مال اس کی مرضی کے بغیر لینا حلال نہیں ہے۔ (احکام القرآن للجصاص ج ٣ ص ٤٤١) (معالم التنزیل ج ٥ ص 72-75، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢٠ ھ)
علامہ علی بن محمد الماوردی الشافعی المتوفی ١٤٥٠ ھ علامہ ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ١٣٧٠ ھ اور امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے بھی ان آیتا کی تفسیر اسی طرح کی، جس طرح علامہ بغوی نے مذکور الصدر تفسیر کی ہے۔ (النکت و العیون ج ٥ ص 520-523 احکام القرآن ج ٣ ص 438-441 تفسیر کبیرج ١٠ ص 521-523)
ہجرت کر کے دارالاسلام میں آجائے اس کے متعلق امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا مذہب یہ ہے کہ اس کا اپنے کافر شوہر سے نکاح فی الفور منقطع ہوجائے گا جیسا کہ الممتحنہ : ١٠ میں اس کی واضح تصریح ہے، اس کے برخلاف صاحبین اور ائمہ ثلاثہ کا مذہب یہ ہے کہ اس کے نکاح کا انقطع اس کی عدت ختم ہونے پر موقوف ہے، اگر عدت ختم ہونے تک اس کا کافر شوہر اسلام نہ لایا تو اس کا نکاح اس کافر سے منقطع ہوجائے گا اور اگر عدت ختم ہونے سے پہلے اس کا، کافر شوہر مسلمان ہوگیا تو ان کا نکاح برقرار رہے گا۔ سطور ذیل میں ہم ان فقہاء کے مذاہب ان کی کتابوں سے پیش کر رہے ہیں۔
جو عورت مسلمان ہو کر دارالحرب سے ہجرت کر کے دار الاسلام میں آئی اس کے نکاح سابق …کے متعلق فقہاء احناف کا مسلک
علامہ برھان الدین محمود بن صدر الشریعہ ابن مازہ البخاری الحنفی المتوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :
جب زوجین میں سے کوئی ایک دارالحرب چھوڑ کر مسلمان ہو کر دار الاسلام میں آجائے اور دوسرا فریق دارالحرب میں بہ دستور کافر ہو تو ہمارے نزدیک ان دونوں میں فالفور تفریق ہوجائے گی اگر دارالاسلام میں آنے والا فریق شوہر ہو تو اس کی بیوی پر بالاتفاق عدت نہیں ہے اور اگر دارالاسلام میں آنے والی فریق عورت ہو تو صرف امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس پر عدت نہیں ہے اور صاحبین کا اس میں اختلاف ہے۔ (المحیط البرھانی ج ٤ 194، ادارۃ القرآن، کراچی، 1424 ھ)
ہجرت کر کے دارالاسلام میں آنے والی خاتون کے نکاح سابق کے انقطاع میں ففقہاء شافعیہ کا مذہب
عالمہ ابوالحسن علی بن محمد الماوردی الشافعی المتوفی ٤٥٠ ھ لکھتے ہیں :
اگر بیوی بت پرست ہو یا بیوی مسلمان ہوجائے اور شوہر اہل کتاب میں سے ہو یا بت پرست ہو تو ہر صورت میں ان میں سے کسی ایک کے مسلمان ہونے کے بعد نکاح میں جمع رہنا حرا ہے اور ان میں سے کسی ایک کے اسلام کو دیکھا جائے تو اگر مباشرت سے پہلے ان میں سے کوئی ایک اسلام لایا ہو تو نکاح باطل ہوجائے گا اور مباشرت کے عبد کوئی ایک اسلسام لایا ہو تو پھر نکاح عدت پوری ہونے پر موقوف رہے گا، اگر عدت ختم ہونے سے پہلے ان میں سے کوئی ایک شرک کو ترک کر کے اسلام لے آیا ہو تو وہ دونوں نکاح پر برقرار رہیں گے اور اگر عدت پوری ہونے تک ان میں سے کوئی بھی اسلام نہیں لایا تو نکاح باطل ہوجائے گا، خواہ شوہر پہلے اسلام لایا ہو یا بیوی پہلے اسلام لائی ہو اور خواہ ان دونوں میں سے کوئی ایک دارالحرب میں اسلام لایا ہو یا دارالاسلام میں اسلام لایا ہو۔ (الحاوی الکبیرج ١١ ص ٣٥٤، دارالفکر بیروت)
ہجرت کر کے دارالاسلام میں آنے والی مسلمان خاتون کے نکاح سابق کے انقطاع میں …فقہاء حنبلیہ کا مذہب
علامہ موفق الدین عبداللہ بن قدامہ مقدسی حنبلی متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں :
اگر شوہر اور بیوی معاً اسلام لائے ہوں تو وہ اپنے ناح پر برقرار رہیں گے، خواہ وہ مباشرت سے پہلے اسلام لائے ہوں یا مباشرت کے بعد اسلام لائے ہوں، کیونکہ اس پر اجماع ہے اور اگر ان میں سے کوئی ایک پہلے اسلام لایا ہو اور وہ اہل کتاب بیوی کا شوہ ہو، تب بھی ان کا نکاح برقرار رہے گا، کیونکہ ابتداء ان کا نکاح بھی جائز ہے اور اگر عورت پہلے اسلام لائی ہو یا شوہر اور بیوی دونوں بت پرست ہوں اور مباشرت سے پہلے بیوی اسلام لائی ہو تو ان کا نکاح منقطع ہوجائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
لاھن حل لھم ولاھم یحتون لھن (الممتحنہ : ١٠) نہ وہ مئومنات کافر کے لئے حال ہیں اور نہ وہ کفار ان مئومنات کے لئے حلال ہیں۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
ولاتمسکوا بعصم الکوافر (الممتحنہ : ١٠) ۔ اور (اے مسلمانو ! ) تم بھی کافر عورتوں کو روکے نہ رکھو
اور ان دونوں میں سے جو بھی پہلے اسلام لے آئے گا تو نکاح منقطع ہوجائے گا، کیونکہ اس سے دونوں کے دین میں اختلاف ہوجائے گا اور اگر دونوں میں سے کوئی ایک مباشرت کے بعد اسلام لایا ہے تو اس میں دو قول ہیں، ایک قول یہ ہے کہ اس صورت میں بھی فی الفور نکاح منقطع ہوجائے گا (جیسا کہ امام ابوحنیفہ کا قول ہے) اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ نکاح عدت گزرنے پر موقوف ہے، اگر عدت پوری ہونے سے پہلے دوسرا فریق مسلمان ہوگیا تو ان کا نکاح برقرار رہے گا اور اگر عدت پوری ہنے کے بعد تک دوسرا فریق مسلمان نہیں ہوا تو پھر ان کا نکاح منقطع ہوجائے گا اور اس عورت کو مہر مثل دینا ہوگا، کیونکہ ابن شبرمہ نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں مرد، عورت سے پہلے مسلمان ہوجاتا تھا اور عورت مرد سے پہلے مسلمان ہوجاتی تھی اور جو بھی عورت کی عدت پوری ہونے سے پہلے مسلمان ہوجاتا تو اس کا نکاح برقرار رہتا تھا اور اگر عورت کی عدت گزرنے کے بعد اسلام لاتا تھا تو اس کا نکاح منقطع ہوجاتا تھا۔
اور یہ معلوم نہیں ہوا کہ جب شوہر اور بیوی ایک ساتھ اسلام لائے ہوں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے درمیان تفریق کی ہو، جب کہ مردوں کی ایک جماعت اپنی بیویوں سے پہلے اسلام لائی، جیسے ابوسفیان بن حرب اور مردوں کی دوسری جماعت سے پہلے ان کی بیویاں اسلام لے آئی تھیں، جیسے صفوان بن امیہ، عکرمہ اور ابوالعاص بن الربیع، اور جو ترفیق ان کے درمیان واقع ہوئی وہ نکاح کا فسخ ہونا تھا۔ (الکافی ج ٣ ص 50-51 دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٤ ھ)
ہجرت کر کے دارالاسلام میں آنے والی خاتون کے نکاح سابق کے انقطاع میں فقہاء مالکیہ … کا مذہب
علامہ سحنون بن سعید التنوخی امام مالک سے روایت کرتے ہیں :
راوی نے کہا : اگر شوہر اور بیوی دونوں مجوسی ہوں یا دونوں نصرانی ہوں یا دونوں یہودی ہوں ڈ علامہ سحنون نے کہا : امام مالک کے نزدیک ان سب کا حکم ایک ہے، امام مالک نے کہا، اگر خاوند اس عورت کی عدت میں اسلام لے آئے تو وہ اس عورت کا مالک ہے، اور اگر اس کی عدت پوری ہوچکی ہو تو پھر خاوند کا اس پر کوئی اختیار نہیں ہے، خواہ وہ اس کے بعد اسلام لے آئے، میں نے پوچھا : جب ان میں تفریق ہوگئی تو آیا یہ تفریق نکاح کا فسخ ہوگی یا طلاق ؟ امام مالک نے کہا : یہ فسخ نکاح ہے، طلاق نہیں ہے۔
ابن شہاب بیان کرتے ہیں کہ ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں عوتریں اپنی سر زمین میں اسلام لے آتی تھیں اور ہجرت نہیں کرتی تھیں اور ان کے شوہر اس وقت کافر ہوتے تھے، جیسے ولید بن مغیرہ کی بیٹی، صفوان بن امیہ کے نکاح میں تھیں، وہ فتح مکہ کے دن مسلمان ہوگئیں اور صفوان اسلام سے بھاگ کر سمندر میں سوار ہوگئے تھے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے غم و زاد و ہب بن عمیر کو ان کے پیچھے امان کے پیغام کے ساتھ بھیجا اور نشانی کے طور پر اپنی چادر دی اور فرمایا، تم اسلام لے آئو اور تم کو غور و فکر کے لئے دو ماہ کی مہلت ہے، پھر جب وہ آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو چار ماہ کی مہلت دے دی اور وہ حالت کفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ ہوازن میں رہے اور غزوہ طائف میں رہے اور اس دوران ان کی بیوی مسلمان رہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے اور ان کی بیوی کے درمیان تفریق نہیں کی، حتیٰ کہ صفوان اسلام لے آئے اور ان کی بیوی اسی نکاح سے ان کے ساتھ رہیں۔ ابن شہاب نے کہا، صفوان اور ان کی بیوی کے اسلام لانے کے درمیان ایک ماہ کا عرصہ تھا۔ (موطاء امام مالک ج ٢ ص 93 رقم احلدیث :1178، دارالمعرفتہ، بیروت، 1420 ھ)
نیز ابن شہاب بیان کرتے ہیں کہ ام حکیم بنت الحارث بن ہشام فتح مکہ کے دن اسلام لے آئیں اور ان کے شوہر عکرمہ بن ابی جہل اسلام سے بھاگ کر یمن چلے گئے، پھر حضرت ام حکیم (رض) ان کے ساتھ یمن گئیں اور ان کو اسلام کی دعوت دی اور عکرمہ مسلمان ہوگئے (رض) پھر وہحضرت عکرمہ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے کر آئیں، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے، ان کو گلے لگایا اور ان کو بیعت کرلیا۔ (موطا امام مالک ج ٢ ص 94 رقم الحدیث :1180، دارالمعرفتہ، بیروت)
امام مالک نے کہا، ہمیں یہ خبر نہیں پہنچی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عکرمہ اور ان کی بیوی کے درمیان تفریق کی ہو اور وہ اسی نکاح کے ساتھ حضرت عکرمہ کے ساتھ رہیں۔
عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیدہ زینب بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوالعاص بن الربیع کے نکاح میں تھی، وہ اسلام لے آئیں اور ہجرت کر کے مدینہ میں آگئیں اور ان کے خاوند نے اسلام کو نپاسند کیا اور تجارت کے لئے شام چلے گئے، وہاں چند انصاریوں نے ان کو قید کرلیا، پس سیدہ زینب نے کہا، مسلمانوں کا ادنیٰ فرد بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے، آپ نے پوچھا : کس کو ؟ سیدہزینب نے کہا، ابو العاص کو، آپ نے فرمایا : جس کو زینب نے پناہ دی اس کو ہم نے پناہ دی، پھر ابوالعاص مسلمان ہوگئی اور ابھی سیدہ زینب عدت میں تھیں اور وہ اپنے نکاح پر برقرار رہیں۔
امام مالک نے کہا، ہمیں یہ خبر نہیں پہنچی کہ کسی عورت کا خاوند عدت کے اندر ہجرت کر کے آگیا ہو پھر بھی اس کا نکاح فسخ کردیا گیا ہو۔ (المدونتہ الکبریٰ ج ٢ ص 298-300 ا ارحیاء التراث العربی، بیروت)
ائمہ ثلاثہ کے دلائل کے جوابات
علامہ کمال الدین محمد بن عبدالواحد ابن ھمام حنفی متوفی 861 ھ، ائمہ ثلاثہ کے دلائل کے جواب میں لکھتے ہیں :
صوفان بن امیہ اور عکمہ بن ابی جہلم کا جواب یہ ہے کہ وہ مکہ کی حدود سے باہر نہیں نکلے تھے، اس لئے آپ نے ان کا نکاح ان کی بیویوں سیب رقرار رکھا، باوسفیان اور ھند کا بھی یہی جواب ہے۔ اور سیدہ زینب کے شوہر ملک شام چلے گئے تھے اس لئے ان کا نکاح برقرار نہیں رہا تھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا نکاح سیدہ زینب سے دوبارہ پڑھایا تھا جیسا کہ اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے۔ (فتح القدیر ج ٣ ص ٤٠٠ بیروت)
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی صاحب زادی حضرت زینب (رض) کو حضرت ابوالعاص بن الربیع کی طرف نکاح جدید اور مہر جدید کے ساتھ لوٹا دیا۔
(سنن ترمذی رقم الحدیث : ١١٤٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٠١٠، شرح معانی الآثار ج ٣ ص ٢٥٦ المسدترک ج ٣ ص ٦٣٩ مسند احمد ج ٢ 207-208 طبقات الکبریٰ ج ٨ ص ٢١ )
خلاصہ یہ ہے کہ جو عورت دارالکفر سے ہجرت کر کے دار الاسلام میں آ کر مسلمان ہوجائے، اس کے متعلق ائمہ ثلاثہ یہ کہتے ہیں اس کا سابق نکاح اس کی عدتم ختم ہونے تک موقوف رہے گا، اگر اس کا مشرک شوہر عدت پوری ہونے تک مسلمان نہیں ہوا تو اس کا نکاح مقنطع ہوجائے گا اور اگر وہ عدت پوری ہونے سے پہلے مسلمان ہوگیا تو اس مہاجرہ ممسلمہ کا نکاح اس کے ساتھ برقرار رہے گا اور امام ابوحنیفہ یہ فرماتے ہیں کہ جیسے ہی وہ عورت ہجرت کر کے اسلام لائی اس کا اپنے کافر شوہر سے سابق نکاح فی الفور منقطع ہوجائے گا اور قرآن مجید کے موافق امام ابوحنیفہ (رح) ہی کا قول ہے، کیونکہ قرآن مجید میں ہے :
(اللمتحنہ : ١٠) اے ایمان والو ! جب تمہایر پاس ایمان والی عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کو آزما لای کرو، پھر اگر تم کو ان کے ایمان کا یقین ہوجائے تو پھر ان کو کفار کی طرف مت لوٹائو، نہ وہ مئومنات کفار کے لئے حلال ہیں اور نہ وہ کفار ان مئومنات کے لئے حلال ہیں۔
امام اعظم کا مذہب اس آیت کے صراحتہ مطابق ہے کیونکہ اس آیت میں ان کے نکاح کو عدت پر موقوف کرنے کی کوئی قید نہیں ہے۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 60 الممتحنة آیت نمبر 10
[…] تفسیر […]