امام خطیب بغدادی الاشعری الشافعی کا قبور اولیاءاللہ سے فیض لینے کے بارے موقف!

امام خطیب بغدادی ایک صوفی امام علي بن محمد بن بشار الزاهد أبو الحسن
کے ترجمہ میں انکے بارے روایات نقل کرتے ہیں :
، وكان له كرامات ظاهرة، وانتشار ذكر في الناس،
ان سے کرامات ظاہر ہوئی اور لوگوں میں اس چیز کا ذکر پھیل گیا

اسکے بعد امام خطیب بغدادی فرماتے ہیں:
قلت: ودفن بالعقبة قريبا من النجمي، وقبره إلى الآن ظاهر معروف، يتبرك الناس بزيارته.
میں (خطیب بغدادی) کہتا ہوں آپ کو النجم کے قریب عقبہ میں دفن کیا گیا۔ ، اور انکی قبر لوگوں میں معروف ہے اور لوگ انکی قبر کی زیارت اور ان سے تبرک (مدد و شفاء) لیتے ہیں
[تاریخ بغداد ، برقم:6415]

نیز ایک اور صوفی ولی امام أبو علي بن بيان العاقول،

انکے بارے فرماتے ہیں:
كان عابدا زاهدا، يتبرك أهل بلده بزيارة قبره، ويذكرون عنه أنه كان له كرامات.
یہ نیک و زاھد تھے اور انکے اہل علاقہ انکی قبر کی زیارت کرتے ہیں اور تبرک(مدد،شفاء) حاصل کرتے ہیں (قبر سے) اور وہ لوگ انکے بارے میں یہ ذکر کرتے ہیں کہ ان سے کرامات کو ظہور ہوا
[تاریخ بغداد ، برقم: 7739]

نوٹ:
قبور سے یا اشیاء جو انبیاء و اولیاءاللہ کی طرف منسوب ہوں ان سے برکت کا حصول کا مطلب فائدہ و شفاء ہوتا ہے۔

اسد الطحاوی✍