أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِذَا جَآءَكَ الۡمُنٰفِقُوۡنَ قَالُوۡا نَشۡهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُ اللّٰهِ ‌ۘ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُهٗ ؕ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَـكٰذِبُوۡنَ‌ ۞

ترجمہ:

(اے رسول مکرم ! ) جب آپ کے پاس منافقین آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بیشک آپ ضرور اللہ کے رسولا ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ بیشک آپ ضرور اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بیشک منافقین ضرور جھوٹے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اے رسول مکرم ! ) جب آپ کے پاس منافقین آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بیشک آپ ضرور اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ خوب جانتا ہے کہ بیشک آپ ضرور اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بیشک منافقین ضرور جھوٹے ہیں۔ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا پس اللہ کے راستے سے (لوگوں کو) روکا، بیشک یہ بہت برا کام کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ (زبان سے) ایمان لائے پھر انہوں نے (دل کا) کفر ظاہر کردیا، سو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی تو وہ سمجھتے نہیں ہیں۔ (المنافقون : ٣-١)

نفاق کا لغوی اور اصطلاحی معنی

المنافقون : ١ میں ” المنافقون ‘ کا لفظ ہے، اس کا مادہ ” نفق “ ہے۔ اس کا معنی ہے : زمین میں سرنگ بنانا، ایک سوراخ سے جنگی چوہا سرنگ میں داخل ہوتا ہے اور دوسرے سوراخ سے نکل جاتا ہے۔ (المنجد ص ١٠٣٨)

نفاق کا اصطلاحی معنی ہے : ایک طریقہ سے اسلام میں داخل ہونا اور دوسرے طریقہ سے نکل جانا، منافق زبان سے اسلام میں داخل ہوتا ہے اور دل سے اسلام سے نکل جاتا ہے۔ نفاق سازش اور دھوکے کی جنس سے ہے، وہ خیر کو ظاہر کرتا ہے اور اس کے دل میں شر ہوتا ہے۔ (موسوعۃ نضرۃ النعیم ج ١١ ص ٥٦٠٤، دار الوسیلۃ المملکتہ العربیہ السعودیہ : ١٤١٩ ھ)

اب ہم ان احادیث کا بیان کر رہے ہیں جن میں اسلام اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف منفاقوں کی سازشوں اور برائیوں کا ذکر ہے۔

عبداللہ بن ابی کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بد زبانی کرنا

حضرت اسامہ بن زید (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دراز گوش پر سوار ہوئے، اس کے پالان پر فدک کی نبی ہوئی چادر تھی اور آپ کے پیچھے حضرت اسامہ بیٹھے ہوئے تھے، آپ غزوہ بدر سے پہلے حضرت عسد بن عبادہ (رض) کی عیادت کرنے کے لئے جا رہے تھے، آپ اس دوران عبداللہ بن ابی ابن سلول کی مجلس سے گزرے، یہ عبداللہ بن ابی کے اسلام لانے سے پہلے کا واقعہ ہے، اس مجلس میں مسلمان، بت پرست، مشرک اور یہودی بیٹھے ہوئے تھے اور ان میں حضرت عبداللہ بن رواحتہ بھی تھے، جب آپ کی سواری کے گرد و غبار نے مجلس کو ڈھانپ لیا تو عبداللہ بن ابی نے اپنی ناک پر اپنی چادر ڈال لی اور کہا : ہم پر گرد نہ اڑائیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام کیا اور ٹھہر گئے اور سواری سے اتر گئے، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دی اور ان کے سامنے قرآن مجید کی آیات تلاوت کیں، تب عبداللہ بن ابی نے آپ سے کہا، اگر آپ جو کہتے ہیں وہ حق ہے تو اس سے اچھی کوئی چیز نہیں ہے، اب آپ ہماری مجلس میں اذیت نہ دیں اور اپنے گھر چلے جائیں، سو جو شخص آپ کے پاس آئے آپ اس کو وعظ کریں، حضرت عبداللہ بن رواحہ نے کہا : کیوں نہیں ! یا رسول اللہ ! آپ ہماری مجالس میں بیٹھیں، ہم اس کو پسند کرتے ہیں۔ پھر مسلمان، مشرک اور یہود ایک دوسرے کو برا کہنے لگے حتیٰ کہ وہ ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے قریب تھے، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں ٹھنڈا کرتے رہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی سواری پر سوار ہو کر چلے گئے اور حضرت سعد بن عبادہ کے پاس پہنچے، آپ نے ان سے فرمایا : اے سعد ! کیا تم نے نہیں سنا کہ ابوخباب نے کیا کہا ہے ؟ آپ کی اس سے مراد عبداللہ بن ابی تھا، حضرت سعد نے کہا : یا رسول اللہ ! اس کو معاف کردیں اور اس سے درگزر کریں، آپ کو اللہ تعالیٰ نے جو منصب عطا کیا ہے وہ عطا کیا ہے، اس بتی کے لوگوں نے اس پر اتفاق کرلیا تھا کہ اس کو بادشاہ بنادیں اور اس کو تاج پہنا دیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اس منصوبہ کو اس حق کے ذریعہ ختم کردیا جو اس نے آپ کو عطا فرمایا ہے تو وہ اس پر بگڑ گیا اور آپ کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا ہے وہ اسی کا نتیجہ ہے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٦٦٣ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٩٨، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٧٥٠٢)

غزوہ احد میں عبداللہ بن ابی کا اپنے تین سو ساتھیوں کے ساتھ لشکر اسلام سے نکل جانا

عبداللہ بن ابی اور اس کے حامی منفاقوں نے اسلام اور مسلمانوں کو جو بڑا نقصان پہنچایا، وہ یہ تھا کہ وہ غزوہ احد میں عین لڑائی کے وقت اپنے تین سو منافقوں کو ساتھ لے کر لشکر اسلام سے نکل گیا، اس کا ذکر اس حدیث میں ہے :

عروہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمان مشرکین سے مقابلہ کے لئے نکلے، مسلمان ایک ہزار تھے اور مشرکین تین ہزار تھے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روانہ ہوئے اور احد پہاڑ کے پاس اترے، اس وقت عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کے ساتھ واپس چلا گیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سات سو اصحاب کے ساتھ رہ گئے۔

(دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٣ ص ٢٢١، دارلاکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢٣ ھ)

اس موقع پر یہ آیتیں نازل ہوئیں :

(آل عمران : ١٢٢-١٢١) (اے رسول مکرم ! ) اس وقت کو یاد کیجیے جب آپ صبح کو اپنے گھر سے نکل کر مسلمانوں کو میدان جنگ میں لڑائی کے مورچوں پر بٹھا رہے تھے اور اللہ خوب سننے والا، بےحد جاننے والا ہے۔ جب تمہاری دو جماعتیں بزدلی کا ارادہ کرچکی تھیں، اللہ ان کا ولی اور مددگار ہے اور اللہ پر ہی مئومنوں کو بھروسا رکھنا چاہیے۔

یہ ٣ ھ کا واقعہ ہے، جب مشرکین غزوہ بدر کی شکست کا بدلہ لینے کے لئے تین ہزار کی تعداد میں احد پہاڑ کے قریب جمع ہوگئے تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کہ مدینہ میں رہ کر لڑیں یا باہر نکل کر مقابلہ کریں ؟ بعض نوجوان اور پرجوش اصحاب کی رائے تھی کہ شہر سے باہر نکل کر مقابل ہکریں اور عبداللہ بن ابی اس کے ساتھیوں اور بعض معمر اصحاب کی رائے تھی کہ مدینہ میں رہ کر لڑیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پر جوش صحابہ کی دل جوئی کے لئے ان کی رائے کو ترجیح دی، تب عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کے ساتھ لشکر اسلام سے نکل گیا کہ میری بات مانی نہیں گئی، اس کے اس فیصلہ سے وقتی طور پر بعض مسلمان بھی متاثر ہوگئے تھے، اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں۔

غزوہ بنو قینقاع میں منافقوں کا مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنا

٤ ھ میں بنو نضیر اور بنو قینقاع سے غزوہ ہوا، اس میں منفاقوں کی اسلام کے خلاف سازشوں کے متعلق یہ آیتیں نازل ہوئیں :

(الحشر : ١٢-١١) کیا آپ نے ان منافقوں کی طرف نہیں دیکھا جو اپنے ان بھائیوں سے کہتے ہیں جو اہل کتاب میں سے کافر ہیں (یعنی بنو نضیر سے) کہ اگر تم کو (تمہاری بستی) سے نکال دیا گیا تو ہم بھی ضرور تمہارے ساتھ نکل ائیں گے اور ہم تمہارے معاملہ میں کبھی بھی کسی کی اطاعت نہیں کریں، اور اگر تم سے قتال کیا گیا تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے اور اللہ شہادت دیتا ہے کہ بیشک یہ ضرور جھوٹے ہیں۔ اگر ان کو نکالا گیا تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے اور اگر ان سے قتال کیا گیا تو یہ ان کی مدد نہیں کریں گے اور اگر انہوں نے ان کی مدد کی تو یہ ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے، پھر کہیں سے ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔

مقاتل بن سلیمان متوفی ١٥٠ ھ نے کہا ہے کہ یہ آیتیں اس سلسلہ میں نازل ہوئی ہیں کہ منافقین بنی نضیر سے یہ کہتے تھے کہ تمہاری مدد کے لئے ہم تمہارے ساتھ ہیں اور اگر تم کو نکلنا پڑا تو ہم پھر بھی تمہارے ساتھ ہیں، یہ منافقین عبداللہ بن ابی، عبداللہ بن نتیل اور رفاعہ بن زید تھے اور بہ ظاہر ان کا تعلق انصار سے تھا، اس آیت میں فرمایا ہے : انہوں نے اپنے بھائیوں سے کہا : کیونکہ منافقین اور یہودی دینی رشتہ سے آپس میں بھائی تھے، کیونکہ دونوں فریق سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے منکر تھے اور اس میں فرمایا ہے : منافقین نے اہل کتاب کے کافروں سے کہا، اس سے مراد جی بن اخطب، جدی، ابویاسر اور مالک ابن الضیف اور بنو قریظہ ہیں، انہوں نے ان سے کہا : اگر (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تم کو مدینہ سے نکال دیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ مدینہ سے نکل جائیں گے اور اس معاملہ میں ہم کسی کی بات نہیں مانیں گے، اللہ شہادت دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں، اگر بن ونضیر کو مدینہ سے نکال دیا تو منفاقین ان کے ساتھ نکلیں گے، اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے، اس کو علم تھا کہ منافقین نے بنو نضیر کو جھوٹی تسلیاں دی ہیں وہ ان کے موافق عمل نہیں کریں گے اور ایسا ہی ہوا اور یہ قرآن مجید کی اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیصداقت پر قوی دلیل ہے کہ آپ نے جو پیش گوئی فرمائی تھی وہ حرف بہ حرف پوری ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اگر مسلمانوں نے ان سے جنگ کی تو منافقین ان کا ساتھ نہیں دیں گے اور اگر بالفرض انہوں نے بنو نضیر کے ساتھ جنگ کی تو یہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے اور پھر ان کی کہیں سے مدد نہیں کی جائے گی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ ان منافقوں کے دلوں میں اللہ سے زیادہ مسلمانوں کا خوف ہے یعنی ان کو اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کا علم نہیں ہے اور اس کے علم اور قدرت پر ان کا ایمان نہیں ہے، اس لئے وہ بنو نضیر کو ایسی جھوٹی تسلیاں دیتے ہیں۔ (تفسیر مقاتل بن سلیمان ج ٣ ص 341-342 دارالکتب العلمی، بیروت، ١٤٢٤ ھ)

غزوہ بنو المصطلق میں منافقین کا مسلمانوں سے جھگڑا کرنا

٦ ھ میں غزوہ بنو المصطلق میں عبداللہ بن ابینے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کی شان میں گستاخان کلمات کہے اور مسلمانوں سے جھگڑا کیا، اس کا کچھ بیان ہم اس سورت کے تعارف میں ذکر کرچکے ہیں اور زیادہ تفصیل ہم انشاء اللہ المنافقون :7-8 میں ذکر کریں گے۔

عبدا للہ بن ابی کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حرم محترم پر بری تہمت لگانا

٦ ھ میں ہی غزوہ بنو المصطلق سے واپسی میں عظیم سانحہ پیش ایٓا جب عبداللہ بن ابی اور دیگر منفاقین نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حرم محترم سیدہ عائشہ (رض) کے متعلق ایک جھوٹی اور بری تہمت لگائی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، سیدہ عائشہ ام المومنین اور دیگر مسلمانوں کو اس سے سخت اذیت پہنچی۔ ہم نے ” شرح صحیح مسلم “ ج ٧ ص 548-592 میں اس کے متعلق احادیث اور ان کی مفصل شرح نہایت تحقیق سے بیان کی ہے، اس کے بعد سورة نور :3-20 کی آیات بھی اسی سلسلہ میں نازل ہوئی ہیں اور ہم نے تفسیر ” تبیان القرآن “ ج ٨ ص 69-111 میں ان آیات کی بہت شرح وبسط سے تفسیر کی ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم غیب اور حضرت ام المومنین کی عفت اور طہارت اور امت مسلمہ پر حضرت ام المومنین کے احسانات کا تفصیل سے ذکر کیا ہے اور یہاں پر بھی ہم اس مختصر حدیث کا ذکر کر رہے ہیں جس میں اس واقعہ کا بیان ہے۔

حضرت عائشہ (رض) کرتی ہیں کہ جب میرے متعلق ایک ناگفتہ بہ بات کہی گئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا، کلمہ شہادت پڑھا اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی پھر فرمایا : مجھے ان لوگوں کے متعلق مشورہ دو ، جنہوں نے میری اہلیہ پر تہمت لگائی ہے، بہ خدا ! میں نے اپنی اہلیہ پر کبھی کوئی برائی نہیں دیکھی اور جس شخص کے ساتھ انہوں نے تہمت لگائی ہے بہ خدا ! مجھے اس میں بھی کسی برائی کا علم نہیں ہے، وہ جب بھی میرے گھر گیا، میرے ساتھ گیا اور میں جب کبھی گھر سے باہر گیا تو وہ میرے ساتھ باہر گیا، اس کے بعد حسب سابق واقعہ بیان کیا اور اس روایت میں یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے گھر تشریف لے گئے اور میری باندی (حضرت بریرہ) سے پوچھا، اس نے کہا، بہ خدا ! مجھے ان کے متعلق اس کے سوا اور کسی عیب کا علم نہیں ہے کہ وہ سو جاتی ہیں اور بکری آ کر ان کا آٹا جکھا جاتی ہے۔ ہشام کو شک ہے کہ عجین کہا یا خمیر۔ آپ کے بعض اصحاب (حضرت علی) نے اس کو ڈانٹا اور کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سچ بولو، حتیٰ کہ انہوں نے اس کو اس قول کی وجہ سے گرا دیا، اس نے کہا : سبحان اللہ ! بہ خدا ! میں تو ان کو اس طرح جانتی ہوں جس طرح سنار خالص سونے کی سرخ ڈلی کو جانتا ہے (یعنی وہ بےعیب ہیں) اور جب اس شخص تک یہ خبر پہنچی جس کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی تو اس نے کہا : بہ خدا ! میں نے کبھی کسی عورت کا کپڑا نہیں کھولا، وہ اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے تھے۔ اور اس روایت میں یہ اضافہ بھی ہے : جن لوگوں نے تہمت لگائی ان میں حضرت مسطح، حضرت حمنہ اور حضرت حسان بھی تھے اور رہا عبداللہ بن ابی منفاق تو وہ اس تہمت کو ہوا دیتا تھا اور وہ اور حمنہ ہی اس تہمت کو سب سے زیادہ پھیلانے والے تھے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٣٦٩ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٧٧٠ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣١٨٠)

منافقین کا شعار جھوٹ بولنا ہے

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : منافق کی تین نشانیاں ہیں : وہ جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور جب وعدہ کرتا ہے تو اس کے خلاف کرتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٩ )

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص میں چار خصلتیں ہوں وہ خالف منافق ہوگا اور جس شخص میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو تو اس میں نفاق کی خصلت ہوگی حتیٰ کہ وہ اس خصلت کو چھوڑ دے، (وہ چار خصلتیں یہ ہیں :) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ اس میں خیانت کرے اور جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب عہد کرے تو عہد شکنی کیر اور جب لڑے تو بدکلامی کرے۔ صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٨، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٦٨٨ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٦٣٢، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٢٥٤ سنن بیہقی ج ٩ ص ٢٣٠، مسند احمد ج ٢ ص ١٨٩)

حسن بصری کے سامنے جب یہ احادیث بیان کی گئیں تو انہوں نے کہا : حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے بات کی تو جھوٹ بولا اور وعدہ کیا اور اس کے خلاف کیا اور انہوں نے امانت میں خیانت کی، وہ منافق نہیں تھے، مرتکب کبائر تھے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کے لئے مغفرت طلب کی۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منافق کی یہ علامتیں مسلمانوں کو کبیرہ گناہوں سے ڈرانے کے لئے باین فرمائیں ہیں تاکہ وہ منافقین کے ان اوصاف کو اپنی عادت نہ بنالیں اور ان میں منافقین کی عادات سرایت نہ کر جائیں اور اس حدیث کا یہ معنی نہیں ہے کہ جس شخص سے اتفاقاً اور کبھی کبھی یہ کام سر زد ہوجائیں تو وہ منافق ہوجائے گا۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 63 المنافقون آیت نمبر 1