أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ هَادُوۡۤا اِنۡ زَعَمۡتُمۡ اَنَّكُمۡ اَوۡلِيَآءُ لِلّٰهِ مِنۡ دُوۡنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الۡمَوۡتَ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے : اے یہودیو ! اگر تمہارا یہ گھمنڈ ہے کہ تمام لوگوں کو چھوڑ کر اللہ صرف تمہارا دوست ہے پس تم موت کی تمنا کرو اگر تم سچے ہو۔

الجمعہ : ٧-٦ میں اللہ تعالیٰ نے یہ پیش گوئی فرمائی ہے کہ یہودی کبھی بھی موت کی تمنا نہیں کریں گے، یہودی قرآن مجید کے اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخلاف اور دشمن تھے، انہیں چاہیے تھا کہ وہ قرآن مجید کو اور ہمارے نبی کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے کہتے کہ لو ہم موت کی تمنا کر رہے ہیں لیکن ایسا نہیں ہوا، انہوں نے موت کی تمنا نہیں کی، یہودیوں کا بطلان ظاہر ہوگیا اور قرآن مجید کی پیشگوئی سچی ہوگئی ہوگئی اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور رسالت کی حقانیت آشکارا ہوگئی۔

القرآن – سورۃ نمبر 62 الجمعة آیت نمبر 6