متقدمین مجتہدین میں سے امام بخاری کے شاگرد و شیخ امام ابن خزیمہ صاحب صحیح کا عقیدہ اولیاءاللہ کی قبور کے حوالے سے:

امام ابن حجر عسقلانی نقل کرتے ہیں:
ابوبکر، محمد بن مؤمل بن حسین بن عیسیٰ بیان کرتے ہیں:
خَرَجْنَا مَعَ إِمَامِ أَہْلِ الْحَدِیْثِ، أَبِي بَکْرِ بْنِ خُزَیْمَۃَ، وَعَدِیْلِہٖ أَبِي عَلِيٍّ الثَّقْفِيِّ، مَعَ جَمَاعَۃٍ مِّنْ مَّشَائِخِنَا، وَہُمْ إِذْ ذَاکَ مُتَوَافِرُوْنَ، إِلٰی زِیَارَۃِ قَبْرِ عَلِيِّ بْنِ مُوْسَی الرَّضَا بِطُوْسَ، قَالَ : فَرَأَیْتُ مِنْ تَعْظِیْمِہٖ، یَعْنِي ابْنَ خُزَیْمَۃَ، لِتِلْکَ الْبُقْعَۃِ، وَتَوَاضُعِہٖ لَہَا، وَتَضَرُّعِہٖ عِنْدَہَا، مَا تَحَیَّرْنَا ۔
●》ہم امامِ اہل حدیث، ابوبکر بن خزیمہ رحمہ اللہ کے ساتھ نکلے۔ان کے ہم زلف ابو علی ثقفی اور مشائخ کی ایک بڑی جماعت ان کے ہمراہ تھی۔ہم سارے اکٹھے ہو کر طوس میں علی بن موسیٰ رضا کی قبر کی طرف گئے۔میں نے امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کو زمین کے اس ٹکڑے کی تعظیم کرتے دیکھا اور اس قبر کے سامنے ان کی عاجزی اور انکساری دیکھ کر ہم حیران رَہ گئے تھے۔
[تہذیب التہذیب لابن حجر : 388/7]

اہل قبر کی تعظیم کرنا اور انکا بالکل زندوں کی طرح احترام کرنا سلف کا طریقہ رہا ہے!!!
یاد رہے امام ابن خزیمہ کے ساتھ مشائخ کا گروہ تھا یہ وہ لوگ ہیں جنکا مقام حدیث و علم رجال میں مسلم ہے باوجود اسکے یہ لوگ اولیاء اللہ و اہلبیت کی قبور کی تعظیم کو اہمیت دیتے!

اسدالطحاوی ✍