مَثَلُ الَّذِيۡنَ حُمِّلُوا التَّوۡرٰٮةَ ثُمَّ لَمۡ يَحۡمِلُوۡهَا كَمَثَلِ الۡحِمَارِ يَحۡمِلُ اَسۡفَارًا ؕ بِئۡسَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ سورۃ نمبر 62 الجمعة آیت نمبر 5
sulemansubhani نے Thursday، 28 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مَثَلُ الَّذِيۡنَ حُمِّلُوا التَّوۡرٰٮةَ ثُمَّ لَمۡ يَحۡمِلُوۡهَا كَمَثَلِ الۡحِمَارِ يَحۡمِلُ اَسۡفَارًا ؕ بِئۡسَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ۞
ترجمہ:
جن لوگوں کو تورات دی گئی اور انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا، ان کی مثال اس گدھے کی طرح ہے جس پر کتابوں کا بوجھ لدا ہوا ہے، ان لوگوں کی کیسی بری مثال ہے جنہوں نے اللہ کی آیتوں کی تکذیب کی اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جن لوگوں کو تورات دی گئی اور انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا، ان کی مثال اس گدھے کی طرح ہے جس پر کتابوں کا بوجھ لدا ہوا ہے، ان لوگوں کی کیسی بری مثال ہے، جنہوں نے اللہ کی آیتوں کی تکذیب کی اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ اے یہودیو ! اگر تمہارا یہ گھمنڈ ہے کہ تمام لوگوں کو چھوڑ کر اللہ صرف تمہارا دوست ہے پس تم موت کی تمنا کرو اگر تم سچے ہو۔ اور وہ اپنے پہلے کئے ہئے کرتوتوں کی وجہ سے کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ آپ کہیے : جس موت سے تم بھاگ رہے ہو وہ تمہیں ضرور پیش آنے والی ہے پھر تم اس کی طرف لوٹا دیئے جائو گے جو ہر غیب اور ہر شہادت کا جانے والا ہے پس وہ تم کو خبر دے گا کہ تم کیا کرتے رہے تھے۔ (الجمعہ : ٨-٥)
احکام تورات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے یہود کی مذمت
اس سے پہلے ہم نے یہ بیان کیا تھا کہ یہود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور رسالت کے عموم میں یہ شبہ پیش کرتے تھے کہ آپ صرف امیین اور مکہ والوں کے رسول ہیں اور ہم نے اس کا جواب ذکر کیا کہ آپ تمام مخلوق کے رسول ہیں، آپ نے خود کو فرمایا :
ارسلت الی الخلق کافۃ و ختم بی النبیون (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٢٣) مجھے تمام مخلوق کی طرف رسول بنایا گیا ہے اور مجھے پر انبیاء کو ختم کردیا گیا ہے۔
اور اس آیت سے مقصود یہودیوں کی اس بات پر مذمت کرنا ہے کہ ان کو ” تو رات “ دی گئی اور انہوں نے ” تورات “ کی آیات پر عمل نہیں کیا ” تورات “ میں ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد کے متعلق لکھا ہوا تھا اور آپ کی نشانیاں بیان کردی گی تھیں اور انہیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ جب آپ کا ظہور ہو تو وہ آپ پر ایمان لے آئیں لیکن انہوں نے اس حکم پر عمل نہیں کیا، موجودہ ” تورات “ میں بھی لکھا ہوا ہے :
موجودہ ” تورات “ کے متن میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق بشارتیں
موجودہ ” تورات “ میں بھی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے متعلق بشارتیں موجود ہیں :
خداوند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے یعنی تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا، تم اس کی سننا۔ یہ تیری اس درخواست کے مطاق ہوگا جو تو نے داوند اپنے خدا سے مجمع کے دن خواب میں کی تھی کہ مجھ کو نہ تو خداوند اپنے خدا کی آواز پھر سننی پڑے اور نہ ایسی بڑی آگ ہی کا نظارہ ہوتا کہ میں مر نہ جائوں۔ اور خداوند نے مجھ سے کہا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں، سو ٹھیک کہتے ہیں۔ میں ان کے لئے ان ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا وہی وہ ان سے کہے گا۔ جو کوئی میری ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے گا تو میں ان کا حساب اس سے لوں گا۔ (تورات استثنائ، باب : ١٨ آیت : ١٩-١٥ پرانا عہد نامہ ص ١٨٤ مطبعہ بائبل سوسائٹی، لاہور)
اور مرد خدا موسیٰ نے جو دعائے خیر دے کر اپنی وفات سے پہلے نبی اسرائیل کو برکت دی وہ یہ ہے۔ اور اس نے کہا : خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر آشکارا ہوا اور کوہ فاران سے جلوگر ہا اور لاکھوں قدسیوں میں سے آیا، اس کے داہنے ہاتھ پر ان کے لئے آتشی شریعت تھی، وہ بیشک قوموں سے محبت رکھتا ہے، اس کے سب مقدس لوگ تیرے ہاتھ میں ہیں، ایک ایک تیری باتوں سے مستفیض ہوگا۔ (تورات استثنائ، باب : ٣٣، آیت : ٣-٢ پرانا عہد نامہ ص ٢٠١ مطبوعہ بائبل سوسائٹی، لاہور، ١٩٩٢ ئ)
تورات کے پرانے (١٩٢٧ ء کے) اردو ایڈیشن میں یہ آیت اس طرح تھی : دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ مکرمہ میں دس ہزار صحابہ کے ساتھ داخل ہوئے تھے، اس طرح یہ آیت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پوری طرح منطبق ہوتی تھی، جب عیسائیوں نے یہ دیکھا تو انہوں نے اس آیت کے الفاظ بدل دیئے اور یوں لکھ دیا : اور لاکھوں قدسیوں میں سے آیا۔ تورات کے پرانے (١٩٢٧ ء کے) ایڈیشن میں یہ آیات اس طرح تھیں :
اور اس نے کہا کہ خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا، فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا، دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے دہنے ہاتھ ایک آتشیں شریعت ان کے لئے تھی۔
(کتاب مقدس، استثنائ، باب : ٣٣، آیت : ٢ ص ١٩٢، مطبوعہ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی، انار کلی لاہور، ١٩٢٧ ئ)
اس کی تائید عربی ایڈیشن سے بھی ہوتی ہے، اس میں یہ آیت اس طرح لکھی ہے :
واتی من ربوات اقدس۔ دس ہزار قدسیوں میں سے آیا۔ (مطبوعہ دارالکتاب المقدس فی العالم العربی ص ٤٣٣، ١٩٨٠ ئ)
لوئیس معلوف نے ” ربوۃ “ کے معنی لکھے ہیں :” الجماعۃ العظیمۃ نحوعشرۃ الاف “ (المنجد ص ٢٤٧) یعنی تقریباً دس ہزار افراد کی جماعت۔
دیکھو ! میرا خادم (پچھلے ایڈیشنوں میں د ’ بندہ “ تھا۔ سعیدی غفرلہ) جس کو میں سنبھالتا ہوں میرا برگزیدہ جس سے میرا دل خوش رہے میں نے اپنی روح اس پر ڈلای، وہ قوموں میں عدالت جاری کرے گا۔ وہ نہ چلائے گا نہ شور کرے گا اور نہ بازاروں میں اس کی آواز سنائی دے گی۔ وہ مسلے ہوئے سرکنڈے کو نہ توڑے گا اور ٹمٹاتی بتی کو نہ بجھائے گا، وہ راستی سے عدالت کرے گا۔ وہ ماندہ نہ ہوگا اور ہمت نہ ہارے گا جب تک کہ عدالت کو زمین پر قائم نہ کرے، جزیرے اس کی شریعت کا اتنظار کریں گے۔ جس نے آسمان کو پیدا کیا اور تان دیا جس نے زمین کو اور ان کو جو اس میں سے نکلتے ہیں پھیلایا، جو اس کے باشندوں کو سانس اور اس پر چلنے والوں کو روح عنایت کرتا ہے یعنی خداوند یوں فرماتا ہے : میں خداوند نے تجھے صداقت سے بلایا میں ہی تیرا ہاتھ پکڑوں گا اور تیری حفات کروں گا۔ اور لوگوں کے عہد اور قوموں کے نور کے لئے تجھے دوں گا۔ تو اندھوں کی آنکھیں کھولے اور اسیروں کو قید سے نکالے اور ان کو جو اندھیرے میں بیٹھے ہیں، قید خانہ سے چھڑائے۔ یہو واہ میں ہوں، یہی میرا نام ہے، میں اپنا جلال کسی دوسرے کے لئے اور اپنی حمد کھودی ہوئی مورتیوں کے لئے روانہ رکھوں گا۔ دیکھو پرانی باتیں پوری ہوگئیں اور نئی باتیں بتاتا ہوں، اس سے پیشتر کہ واقع ہوں میں تم سے بیان کرتا ہوں۔
(تورات یسعیاہ، باب : ٤٢، آیت ٩-١ ص ٦٩٤ مطبوعہ پاکستان بائبل سوسائٹی، لاہور، ١٩٨٠ ئ)
اس اقتباس کی آیت نمبر ٢ میں ہے : وہ نہ چلائے گا اور نہ شور کرے گا اور نہ بازاروں میں اس کی آواز سنائی دے گی۔ اس آیت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق پیش گوئی ہے : حضرت مرو بن العاص کی یہ روایت گزر چکی ہے کہ ” تورات “ میں آپ کی یہ صفت لکھی ہوئی ہے، اور نہ بازاروں میں شور کرنے والے ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢١٢٥ )
اس باب کی آیت میں ٦ میں ہے : میں ہی تیرا ہاتھ پکڑوں گا اور تیری حفاظت کروں گا۔
اس کی تائید قرآن مجید کی اس آیت سے ہوتی ہے :
واللہ یعصمک من الناس (المائدہ : ٦٧) اور اللہ آپ کے لوگوں سے حفاظت کرے گا۔
عیسائی یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ پیش گوئی حضرت عیسیٰ کے متعلق ہے کیونکہ ” انجیل “ میں لکھا ہے کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ کو پھانسی دے دی اور حضرت عیسیٰ نے چلا کر کہا اے میرے خدا ! اے میرے خدا ! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ؟ ملاحظہ ہو :
اور انہوں نے اسے مصلوب کیا اور اس کے کپڑے قرعہ ڈال کر بانٹ لئے۔ (الیٰ قولہ) اور تیسرے پہر کے قریب یسوع نے بڑی آواز سے چلا کر کہا :” ایلی، ایلی لما شقبتنی ؟ “ یعنی اے میرے خدا ! اے میرے خدا ! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ؟ (متی کی انجیل، باب : ٢٧ آیت : ٦٤-٣٥، ص ٣ و مبوعہ پاکستان بائبل سوسائٹی، لاہور، ١٩٩٢ ء )
نیز اس باب کی آیت ٧ میں ہے کہ تو اندھوں کی آنکھیں کھولے اور اسیروں کو قید سے نکالے اور ان کو جو اندھیرے میں بیٹھے ہیں، قید خانہ سے چھڑائے۔
اس آیت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق پیش گوئی ہے اور اس کی تصدیق ان آیتوں میں ہے :
(المائدہ : ١٦-١٥) بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور آگیا اور کتاب مبین۔ اللہ اس کے ذریعہ ان لوگوں کو سلامتی کے راستوں پر لاتا ہے جو اس کی رضا کے طالب ہیں اور اپنے اذن سے ان کو اندھیروں سے نور کی طرف لاتا ہے اور ان کو سیدھے راستے کی طرف لاتا ہے۔
اور حضرت عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ ” تورات “ میں آپ کی یہ صفت ہے : اور اللہ اس وقت تک آپ کی روح ہرگز قبض نہیں کرے گا حتیٰ کہ آپ کے سبب سے ٹیڑھی قوم کو سیدھا کر دے گا، بایں طور کہ وہ کہیں گے :” لا الہ الا اللہ “ اور آپ کے سبب سے اندھی آنکھوں، بہرے کانوں اور پردہ پڑے ہوئے دلوں کو کھول دے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢١٢٥ )
یہود کو گدھے کے ساتھ تشبیہ دینے کی وجوہ
اور جب یہودیوں نے تورات کے احکام پر عمل نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق فرمایا : ان کی مثال اس گدھے کی طرح ہے جس پر کتابوں کا بوجھ لدا ہوا ہے، اسی طرح اس مسلمان عالم دین کی مثال ہے جو قرآن اور سنت کے احکام پر عمل نہ کرے۔
اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی مثال گدھے کے ساتھ دی ہے، اس کی حسب ذیل وجوہ ہیں :
(١) گھوڑے اور خچر کی بہ نسبت گدھے پر زیادہ بوجھ لادا جاتا ہے۔
(٢) گدھے میں جہل اور حماقت کا معنی دوسرے جانوروں کی بہ نسبت زیادہ ظاہر ہے۔
(٣) عرف میں دوسرے جانوروں کی بہ نسبت گدھے کو زیادہ حقیر سمجھا جاتا ہے۔
(٤) کتابوں کے لئے ” اسفار “ کا لفظ فرمایا ہے اور کتابوں کو جس جانور پر الدا جائے اس کے لئے لفظ حمار، اس میں ” اسفار “ کے ساتھ لفظی مجانست اور مشاکلت ہے۔
قرآن مجید کی پیش گوئی کی صداقت سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی حقانیت پر استدلال
یہود یہ سمجھتے تھے کہ باقی امتوں کی بہ نسبت وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب اور اس کے دوست ہیں اور اللہ تعالیٰ صرف ان ہی کو جنت عطا فرمائے گا، اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اگر ایسا ہی ہے جیسا تم سمجھتے ہو تو تم موت کی تمنا کرو، تاکہ جلد سے جلد جنت میں چلے جائو، لیکن وہ کبھی ایسا نہیں کریں گے کیونکہ ان کو اپنی بد اعمالیوں کا عمل ہے۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 62 الجمعة آیت نمبر 5